ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ یہ جو عہد بھی کرتے ہیں اسے توڑتے ہیں۔ تو اس طرح وہ انسانیت کے ایک اہم خاصہ یعنی وفائے عہد سے پاک ہوگئے ہیں ، یہ ہر قید و بند سے اس طرح آزاد ہوگئے ہیں جس طرح بہائم آزاد ہوتے ہیں ، اگرچہ بہائم تو اپنے فطری ضابطے کے اندر جکڑے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے لیے چونکہ کوئی جبری فطری ضابطہ نہیں اس لیے وہ اللہ کے نزدیک بہائم سے بھی بد تر مخلوق تصور ہوتے ہیں۔
ایسے لوگ کہ جن کے عہد و پیمان پر کوئی مطمئن نہ ہو اور ان کی ہمسائیگی محفوظ نہ ہو۔ ان کے لیے یہی موزوں جزاء و سزا ہے کہ ان کو امن و اطمینان سے محروم کردیا جائے۔ جس طرح خود انہوں نے دوسرے لوگوں کو امن سے محروم کردیا ہے۔ ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو خوفزدہ کردیا جائے ، علاقے سے نکال دیا جائے اور ان کے ہاتھ توڑ کر رکھ دیے جائیں۔ ان پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ نہ صرف و خوفزدہ ہوجائیں بلکہ ان کے پیچے رہنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ ضرب عبرت بن جائے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ حکم ہے۔ اسی طرح آپ کے بعد کے آنے والوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ اگر ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے تو یہی رویہ اختیار کریں۔