جب حضرت محمد ﷺ کے بارے میں قریش کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ سرکش قوتوں کو جب کامیابی نصیب نہیں ہوتی تو ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور وہ تشدد پر اتر آتی ہیں۔ چناچہ قریش نے بھی حضور کے خلاف تشدد کی سازشیں شروع کردیں۔ یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ حضور کو قتل کرکے ان سے جان چھڑائی جائے اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کو ان کی خفیہ سازشوں کی بابت اطلاع کردی۔ اور حکم دیا کہ آپ اب مکہ سے نکل جائیں۔ آپ کے ساتھ صرف ابوبکر صدیق رفیق تھے۔ آپ کے پاس نہ تو کوئی لشکر تھا اور نہ سامان جنگ تھا۔ آپ کے دشمن ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ یہاں سیاق کلام میں اس کی نہایت ہی خبوصورت منظر کشی کی گئی ہے۔
اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ " جب وہ دونوں غار میں تھے " اور قوم ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ حضرت صدیق سخت گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی جان کے بارے میں فکر مند نہ تھے۔ ان کو قائد کی فکر تھی کہ وہ ان کے آثار نہ پا لیں اور ان کے حبیب تک رسائی حاصل نہ کرلیں۔ کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی جگہ سے نظر ڈالتا تو ہم اسے اس کے پاؤں کے نیچے نظر آجاتے۔ اس موقع پر حضور کے قلب پر اللہ کی جانب سے سکون و ثابت کی کیفیت نازل ہوچکی تھی۔ آپ نے صدیق اکبر کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کی اور فرمایا : " ابوبکر تمہارا ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو "
نتیجہ کیا نکلا ؟ حالات ایسے ہیں کہ ایک طرف پوری مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھی ہر قسم کی مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھ ہر قسم کی مادی قوتوں سے محروم ہیں۔ اب اللہ کی افواج میدان میں آتی ہیں۔ ان میں سے کوئی فوج اور کوئی قوت نظر نہیں آتی۔ اس منصوبے میں کفار کو بری طرح شکست ہوتی ہے اور وہ ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔
و جعل کلمۃ الذین کفرو السفلی " اور الللہ نے کافروں کا بول نیچا کردیا " اور اللہ کا کلمہ اپنی جگہ سر بلند رہا جیسا کہ وہ ہمیشہ سر بلند رہتا ہے ، قوی ہوتا ہے اور اسے نفوذ حاصل ہوتا ہے۔
و کلمۃ اللہ ہی العلیا۔ بعض قراءتوں کے مطابق۔ وکلمۃَ اللہ نصب کے ساتھ بھی آیا ہے لیکن وکلمۃُ اللہ رفع کے ساتھ زیادہ قوی ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے بات زور دار ہوجاتی ہے کیونکہ اس میں تاکید اور دوام کا مفہوم ہوتا ہے۔ یعنی وکلمۃ اللہ کا مزاج اور اس کی حقیقی پوزیشن ہی یہ ہے کہ وہ سربلند ہوتا ہے۔ اس کی سربلندی کسی ایک واقعہ اور حادثہ میں محدود نہیں ہے۔ اللہ عزیز ہے اور اس کے دوست کبھی ذلیل نہیں ہوتے اور وہ بہت بڑا حلیم ہے۔ اس لیے وہ اپنے دوستوں کے لیے کامیاب پالیسی وضع فرماتا ہے اور اس نے ان کے مقدر میں کامیابی لکھ دی ہے۔
یہ ایک مثال تھی کہ کس طرح اللہ نے اپنے رسول اور اپنے کلمات کو کامیابی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ ایسی مثالیں دہرا سکتا ہے لیکن اس قسم کی امداد صرف ان لوگوں کو پہنچ سکتی ہے جو سستی نہیں کرتے اور بیکار نہیں بیٹھے۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو اللہ دوسرے گروہ پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک واقعی اور عملی مثال تھی اور اس کو سمجھانے کے لیے کسی بڑی دلیل اور منطقی استدلال کی ضرورت ہی نہ تھی۔
اس مثال کی فضا میں اور اس گہرے تاثر کی حالت میں اب اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان اس مہم میں نکل کھڑے ہوں ، کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائیں ، کوئی عذر ان کی راہ میں حائل نہ ہو ، نکل کھڑے ہوں اگر وہ دنیا میں کامرانی اور فتح مندی چاہتے ہیں اور آخرت میں دائمی فلاح چاہتے ہیں۔