پہلے لوگ تو وہ ہیں جن کے عذرات حقیقی ہیں۔ لہذا ان کو اجازت دے دی گئی اور وہ مجبوراً رہ گئے ، رہے دوسرے تو وہ بلا عذر رہے۔ کیونکہ انہوں نے اور رسول اللہ کے سامنے جھوٹے عذرا پیش کیے۔ ان میں سے جن لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا وہ تو عذاب الیم سے دوچار ہوں گے۔ ہاں جن لوگوں نے توبہ کرلی تو ان کا ذکر یہاں نہیں ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔