تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٩:١٠
وما كان الناس الا امة واحدة فاختلفوا ولولا كلمة سبقت من ربك لقضي بينهم فيما فيه يختلفون ١٩
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ١٩
وَمَا
كَانَ
ٱلنَّاسُ
إِلَّآ
أُمَّةٗ
وَٰحِدَةٗ
فَٱخۡتَلَفُواْۚ
وَلَوۡلَا
كَلِمَةٞ
سَبَقَتۡ
مِن
رَّبِّكَ
لَقُضِيَ
بَيۡنَهُمۡ
فِيمَا
فِيهِ
يَخۡتَلِفُونَ
١٩
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:18إلى 10:19

ہماری دنیا میں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ بظاہر مادی اسباب کے تحت ہورہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات کے پیچھے خدا کا تصرف کام کررہا ہے۔ اس دنیا میں کسی کوکو ئی ذاتی اختیار حاصل ہی نہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں سے گزر کر غیب میں چھپے ہوئے خدا کو پالے۔ اس کے مقابلے میں شرک یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں میں اٹک کر رہ جائے۔ وہ چیزوں ہی کو چیزوں کے خالق کا مقام دے دے۔

اس دنیا میں خدا کے سوا کسی کے پاس نفع دینے یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں۔ جو آدمی اس حقیقت کو پالیتا ہے اس کی تمام توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ وہ خدا ہی کی پرستش کرتا ہے۔ وہ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے امیدیں قائم کرتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ ایک خدا کو بنالیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ چیزوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کسی غیر خدا کو اپنا خدا بنالیتے ہیں اور ان غیر خداؤں سے وہی امیدیں اور اندیشے وابستہ کرلیتے ہیں جو درحقیقت خدائے واحد کے ساتھ وابستہ کرنا چاہیے۔ اسی کی ایک صورت شفاعت کا عقیدہ ہے۔ لوگ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ انسانوں یا غیر انسانوں میں کچھ ایسی برتر ہستیاں ہیں جو خدا کی نظر میں مقدس ہیں۔ خدا ان کی سنتاہے اور ان کی سفارش پر دنیوی رزق یا اخروی نجات کے فیصلے کرتاہے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ باطل ہے۔ وہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔

خدا اس قسم کے ہر شرک سے پاک ہے۔ خداپنی صفات کا جو تعارف اپنی عظیم کائنات میں کرارہا ہے اس کے لحاظ سے اس قسم کے تمام عقائد بالکل بے جوڑ ہیں۔ ایسے کسی عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا وہ نہیں ہے، جو بظاہر اپنی تخلیقی صفات کے آئینہ میں نظر آرہاہے یا پھر خدا کی صفتوں میں تضاد ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی چیزممکن نہیں۔

خدا نے انسانیت کا آغاز دین فطرت سے کیا تھا۔ اس وقت تمام انسانوں کا ایک ہی دین تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے فرق کرکے دین کے مختلف روپ بناليے۔ اس کی وجہ اس آزادی کا غلط استعمال ہے جو لوگوں کو امتحان کی غرض سے دی گئی ہے۔ اگر خدا ظاہر ہوجائے تو اس کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگوں کی سرکشی ختم ہوجائے اور اچانک اختلاف کی جگہ اتحاد پیدا ہوجائے۔ کیوں کہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کردیتاہے۔مگر خدا قیامت سے پہلے اس صورت حال میں مداخلت نہیں کرے گا۔ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان کے لیے بنایا ہے اور امتحان کی فضا باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت چھپی رہے اور لوگوں کو موقع ہو کہ وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر بھی استعمال کرسکیں اور غلط رخ پر بھی۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة