تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٤٥:١٠
ويوم يحشرهم كان لم يلبثوا الا ساعة من النهار يتعارفون بينهم قد خسر الذين كذبوا بلقاء الله وما كانوا مهتدين ٤٥
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ ٤٥
وَيَوۡمَ
يَحۡشُرُهُمۡ
كَأَن
لَّمۡ
يَلۡبَثُوٓاْ
إِلَّا
سَاعَةٗ
مِّنَ
ٱلنَّهَارِ
يَتَعَارَفُونَ
بَيۡنَهُمۡۚ
قَدۡ
خَسِرَ
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِلِقَآءِ
ٱللَّهِ
وَمَا
كَانُواْ
مُهۡتَدِينَ
٤٥
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:45إلى 10:47

آج آخرت انسان کے سامنے نہیں ہے۔ آج ایک دیکھنے والے کو اسے تصور کی نگاہ سے دیکھنا پڑتا ہے۔ اس ليے جو شخص آخرت کے معاملے میں سنجیدہ نہ ہو اس کو آخرت بہت دور کی چیز معلوم ہوگی۔ مگر جب آخرت سب سے بڑی حقیقت کی حیثیت سے انسان کے اوپر ٹوٹ پڑے گی اور وہ اس کو اس کی تمام سنگینیوں کے ساتھ اپنی آنکھ سے دیکھنے لگے گا، اس وقت وہ اپنی موجودہ سرکشی کو بھول جائے گا، اس وقت اس کو دنیا کے وہ لمحات بہت حقیر معلوم ہوں گے جن کی وجہ سے وہ غفلت میں پڑ گیا تھا اور آخرت کے بارے میں سوچنے پر تیار نہ ہوتاتھا۔

آخرت کسی اجنبی دنیا میں واقع نہیں ہوگی بلکہ ہماری جانی پہچانی دنیا میں واقع ہوگی۔ وہاں آدمی اپنے آپ کو اسی ماحول میں پائے گا جس ماحول میں اس نے اسے پہلے حق کا انکار کیا تھا، وہ اپنے آپ کو انھیں لوگوں کے درمیان دیکھے گا جن کے بل پر وہ سرکشی کرتا تھا مگر اس دن وہ لوگ اس کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اس وقت ہر بات اس کے ذہن میں اس طرح تازہ ہوگی گویا اس پر کوئی مدت گزری ہی نہیں۔

داعی اور مدعو کا معاملہ آسمان کے نیچے پیش آنے والے تمام معاملات میں سب سے زیادہ نازک معاملہ ہے۔ داعی اگر فی الواقع حق کو لے کر اٹھا ہے تو وہ اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ اس کا اقرار خدا کا اقرار ہے اور اس کا انکار خدا کا انکار۔ ایسا ایک واقعہ انجام سے خالی نہیں ہوسکتا۔ داعیٔ حق کے ظہور کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے جاری ہونے والے ربانی کلام کے سامنے تمام لوگ بے دلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ باطل کے اوپر حق کی پہلی فتح ہے۔ دوسری فتح آخرت میں ہوگی جب کہ اس کے مخالفین خدا کے اذن سے اس کے مقابلہ میں بے زور ہو کر رہ جائیں گے۔ پہلا واقعہ لازمی طورپر اسی دنیا میں پیش آتاہے اور دوسرا واقعہ بھی جزئی طور پر موجودہ دنیامیں ظاہر ہوتا ہے اگر خدا اس کو موجودہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہے۔

یہ معاملہ ہر گروہ کے ساتھ پیش آنا لازمی ہے جب کہ وہ براہِ راست خدا کے سامنے کھڑا ہونے سے پہلے موجودہ دنیا میں بالواسطہ طور پر نمائندۂ خدا کے سامنے کھڑا کیا جائے۔ اس طرح خدا دیکھتا ہے کہ کون ہے جو اس وقت اپنے آپ کو خدا کے حوالے کردیتاہے جب کہ خدا ابھی غیب میں ہے اور کون ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ پہلی قسم کے لوگوں کہ لیے جنت ہے اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے دوزخ۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة