تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٥٥:١٠
الا ان لله ما في السماوات والارض الا ان وعد الله حق ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٥٥
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ أَلَآ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٥٥
أَلَآ
إِنَّ
لِلَّهِ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۗ
أَلَآ
إِنَّ
وَعۡدَ
ٱللَّهِ
حَقّٞ
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
٥٥
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:53إلى 10:56

عرب کے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو تم کو آخرت کا عذاب پکڑ لے گا۔ اس کے جواب میںوہ آپ کی بات کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔ وہ دراصل پیغمبر اسلام کی تنبیہ کو بے وزن سمجھ رہے تھے، نہ کہ نفس آخرت کو۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس وقت تک مسلّم نہ ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے مخاطبین آپ کو ایک معمولی انسان کے روپ میں دیکھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسے معمولی انسان کی بات نہ ماننے سے ان کے اوپر خدا کا عذاب کیسے آجائے گا۔ انھیں آپ کے نمائندۂ خدا ہونے پر شک تھا، نہ کہ خود خدا اور آخرت پر۔

یہ تقابل حقیقۃً اقرار آخرت اور انکار آخرت کے درمیان نہ تھا۔ بلکہ بڑی شخصیت کے دین اور چھوٹی شخصیت کے دین کے درمیان تھا۔ وہ ماضی کے مشہور بزرگوں کے ساتھ اپنے کو منسوب کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلّمہ شخصیتوں کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں جب وہ سامنے کے پیغمبر کو دیکھتے تو وہ ان کو ایک معمولی انسان کے روپ میں نظر آتا۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ تاریخ کی جن بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ وہ اپنے کو وابستہ کیے ہوئے ہیں، ان سے وابستگی ان کے لیے باعث نجات نہ ہو۔ بلکہ نجات کے لیے یہ ضروری ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس شخص کے ساتھ وابستہ کریں جس کو بظاہر کوئی تقدس اور عظمت حاصل نہیں۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں۔

آدمی ایک حساس مخلوق ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیںکرسکتا۔ دنیا میں جب تک اس کو عذاب کا سامنا نہیں ہے وہ حق کا مذاق اڑاتا ہے۔ وہ اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیتاہے۔ مگر جب آخرت کا عذاب سامنے ہوگا تو اس پر اتنی گھبراہٹ طاری ہوگی کہ سب کچھ اس کو حقیر معلوم ہونے لگے گا۔ ساری دنیا کی دولت اور تمام دنیا کی نعمت بھی اگر اس کے پاس ہو تو عذاب کے مقابلہ میں وہ اتنی بے قیمت نظر آئے گی کہ وہ چاہے گا کہ سب کچھ دے کر صرف اتنا ہوجائے کہ وہ اس تکلیف سے نجات پاجائے۔

مگر آخرت کا مسئلہ کوئی سودے بازی کا مسئلہ نہیں۔ وہ تو اپنے كيے کا انجام بھگتنے کا مسئلہ ہے۔ زندگی اورموت کے بارے میں خدا کا جو منصوبہ ہے اس کا یہ لازمی جزء ہے۔ خدائی انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ ہو۔ اور خدائی قدرت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بہر حال ہو کر رہے گا۔

اس کے پیش آنے میں جو کچھ دیر ہے، وہ صرف اس مقررہ وقت کے آنے کی ہے جب کہ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہو اور سارے انسان خدا کے یہاں اپنے آخری انجام کا فیصلہ سننے کے لیے حاضر کرديے جائیں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة