تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٩١:١٠
الان وقد عصيت قبل وكنت من المفسدين ٩١
ءَآلْـَٔـٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٩١
ءَآلۡـَٰٔنَ
وَقَدۡ
عَصَيۡتَ
قَبۡلُ
وَكُنتَ
مِنَ
ٱلۡمُفۡسِدِينَ
٩١
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:90إلى 10:92

مصر میں حضرت موسیٰ کا مشن دو طرفہ تھا۔ ایک، فرعون کو توحید اور آخرت کی طرف بلانا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے باہر صحرائی ماحول میں لے جانا اور وہاں ان کی تربیت کرنا۔ جب فرعون پر دعوتِ حق کی تکمیل ہوچکی تو اللہ کے حکم سے وہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے ۔ صحرائے سینا پہنچنے کے لیے انھیں دریا کو پار کرنا تھا۔ جب بنی اسرائیل حضرت موسی کی رہنمائی میں دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ نے پانی پر اپنا عصامارا۔ پانی بیچ سے پھٹ کر دائیں بائیں کھڑا ہوگیا، اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل اس راستہ سے بآسانی پار ہوگئے۔

فرعون اپنے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ وہ دریا کے کنارے پہنچا تو دیکھا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل پانی کے درمیان ایک خشک راستہ سے گزررہے ہیں۔ دریا کے وسیع پاٹ نے پھٹ کر حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو راستہ دے دیاتھا۔ یہ واقعہ دراصل خدا کی ایک نشانی تھا۔ فرعون کو اس سے یہ سبق لینا چاہیے تھاکہ موسیٰ حق پر ہیں اور خدا ان کے ساتھ ہے۔ مگر اس نے دریا کے پھٹنے کو خدائی واقعہ سمجھنے کے بجائے عام واقعہ سمجھا۔ اپنے اور موسیٰ کے درمیان فرعون کو صرف دریا نظر آیا، حالاں کہ وہاں خود خدا کھڑا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس واقعہ میں فرعون کے لیے اطاعت اور انابت کا پیغام تھا وہ اس کے لیے صرف سرکشی میں اضافہ کا سبب بن گیا۔ اس نے ’’دریا‘‘ کو دیکھا مگر ’’خدا ‘‘ کو نہیں دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ اور ان کے ساتھیوں نے دریا کو پار کیا ہے اسی طرح وہ بھی دریا کو پار کرسکتاہے۔

اپنے اس ذہن کے ساتھ فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوگئے۔ دریا کا پانی جو دو ٹکڑے ہوا تھا وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ہوا تھا، وہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کے لیے نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ فرعون اور اس کا لشکر جب بیچ دریا میں پہنچے تو خداکے حکم سے دونوں طرف کا پانی مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت اس میں غرق ہوگیا۔ غرق ہوتے ہوئے فرعون نے ایمان کا اقرار کیا مگر وہ بے سود تھا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اختیاری ایمان معتبر ہے، نہ کہ وہ ایمان جب کہ آدمی ایمان لانے پر مجبور ہوگیا ہو۔

خدا سے نافرمانی اور سرکشی کا انجام ہلاکت ہے، اس کا نمونہ دور رِسالت میں بار بار انسان کے سامنے آتا تھا۔ تاہم اس قسم کے کچھ نمونے خدانے مستقل طورپر محفوظ کرديے ہیں تاکہ وہ بعد کے زمانے میں بھی انسان کو سبق دیتے رہیں جب کہ نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا ہو۔ انھیں میں سے ایک تاریخی نمونہ فرعونِ موسیٰ (رعمیس ثانی) کا ہے جس کی ممی کی ہوئی لاش ماہرین اثریات کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) میں ملی تھی اور اب وہ قاہرہ کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی ہوئی ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة