تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٩٣:١٠
ولقد بوانا بني اسراييل مبوا صدق ورزقناهم من الطيبات فما اختلفوا حتى جاءهم العلم ان ربك يقضي بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون ٩٣
وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍۢ وَرَزَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ فَمَا ٱخْتَلَفُوا۟ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٩٣
وَلَقَدۡ
بَوَّأۡنَا
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
مُبَوَّأَ
صِدۡقٖ
وَرَزَقۡنَٰهُم
مِّنَ
ٱلطَّيِّبَٰتِ
فَمَا
ٱخۡتَلَفُواْ
حَتَّىٰ
جَآءَهُمُ
ٱلۡعِلۡمُۚ
إِنَّ
رَبَّكَ
يَقۡضِي
بَيۡنَهُمۡ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
فِيمَا
كَانُواْ
فِيهِ
يَخۡتَلِفُونَ
٩٣
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

بنی اسرائیل قدیم زمانہ میں خداکے دین کے حامل تھے۔ ان کے ساتھ خدا نے یہ احسان کیا کہ ان کے دشمن (فرعون) سے ان کو نجات دی۔ اس کے بعد وہ ان کو سینا کی کھلی فضا میں لے گیا۔ وہاں ان کے لیے خصوصی انتظام کے تحت پانی اور رزق مہیا کیا۔ صحرائی تربیت کے ذریعہ ان کے اندر ایک نئی طاقت ور نسل تیار کی۔ اس نسل نے حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد ایک عظیم ملک فتح کیا اور شام اور اردن اور فلسطین جیسے سرسبز علاقہ میں بنی اسرائیل کی سلطنت قائم کی جو کئی سوسال تک باقی رہی۔

اس احسان کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ بنی اسرائیل خدا کے فرماں بردار اور شکر گزا ر رہتے اور خدا کے دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے۔ مگر واضح رہنمائی کے ہوتے ہوئے وہ راہ سے بے راہ ہوگئے۔

ان کا راہ سے بے راہ ہونا کیا تھا۔ یہ آپس کا اختلاف تھا۔ ان کے پاس خدا کا اتارا ہوا علم موجود تھا جو واحد سچائی تھا۔ مگر انھوں نے اس علم کی تشریح وتاویل میں اختلاف کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے(تفسير النسفی، جلد2، صفحہ40)۔ کوئی امت جب تک خدا کے اتارے ہوئے دین (العلم) پر رہتی ہے، اس میں اتفاق واتحاد رہتاہے۔ مگر بعد کو ان کے درمیان اس العلم کی تشریح میں اختلافات شروع ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایک اختلافی رائے لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ دوسری اختلافی رائے لے کر۔ ہر ایک اپنے اپنے مسلک کو برحق ثابت کرنے کے لیے بحث مباحثہ اور تقریر اور مناظرہ کا طوفان کھڑا کرتاہے۔ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ اصل العلم کتابوں میں بند پڑا رہتاہے اور سارا زور ان کی تاویلات وتشریحات میں صرف ہونے لگتاہے۔ اس طرح بنیادی دینی تعلیمات (العلم) میں متحد الرائے ہونے کے باوجود لوگ ذیلی تعلیمات میں مشغول ہوکر مختلف الرائے ہوجاتے ہیں۔

’’اللہ قیامت کے دن فیصلہ کردے گا‘‘ بظاہر متعدی ہے مگر حقیقۃً وہ لازم کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت میں جب خدا ظاہر ہوگا تو ہر آدمی اپنے اختلاف کو بھول کر اسی بات کو مان لے گا جو واحد سچائی ہے۔ اگر وہ خدا سے ڈرتے تو آج ہی سب کے سب ایک رائے پر پہنچ جاتے۔ مگر خدا سے بے خوف ہو کر وہ الگ الگ راہوں میں بٹ گئے ہیں۔ بے خوفی سے رایوں کا تعدد پیدا ہوتا ہے اور خوف سے رایوں کا اتحاد۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة