تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٢٨:١١
قال يا قوم ارايتم ان كنت على بينة من ربي واتاني رحمة من عنده فعميت عليكم انلزمكموها وانتم لها كارهون ٢٨
قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِهِۦ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَـٰرِهُونَ ٢٨
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
أَرَءَيۡتُمۡ
إِن
كُنتُ
عَلَىٰ
بَيِّنَةٖ
مِّن
رَّبِّي
وَءَاتَىٰنِي
رَحۡمَةٗ
مِّنۡ
عِندِهِۦ
فَعُمِّيَتۡ
عَلَيۡكُمۡ
أَنُلۡزِمُكُمُوهَا
وَأَنتُمۡ
لَهَا
كَٰرِهُونَ
٢٨
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:28إلى 11:31

یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔

قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔

دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔

مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
تبرع
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة