تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٩١:١١
قالوا يا شعيب ما نفقه كثيرا مما تقول وانا لنراك فينا ضعيفا ولولا رهطك لرجمناك وما انت علينا بعزيز ٩١
قَالُوا۟ يَـٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًۭا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفًۭا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَـٰكَ ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍۢ ٩١
قَالُواْ
يَٰشُعَيۡبُ
مَا
نَفۡقَهُ
كَثِيرٗا
مِّمَّا
تَقُولُ
وَإِنَّا
لَنَرَىٰكَ
فِينَا
ضَعِيفٗاۖ
وَلَوۡلَا
رَهۡطُكَ
لَرَجَمۡنَٰكَۖ
وَمَآ
أَنتَ
عَلَيۡنَا
بِعَزِيزٖ
٩١
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:91إلى 11:93

حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔

قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔

اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔

’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة