تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٩٤:٢
الشهر الحرام بالشهر الحرام والحرمات قصاص فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم واتقوا الله واعلموا ان الله مع المتقين ١٩٤
ٱلشَّهْرُ ٱلْحَرَامُ بِٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ وَٱلْحُرُمَـٰتُ قِصَاصٌۭ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱعْتَدُوا۟ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ ١٩٤
ٱلشَّهۡرُ
ٱلۡحَرَامُ
بِٱلشَّهۡرِ
ٱلۡحَرَامِ
وَٱلۡحُرُمَٰتُ
قِصَاصٞۚ
فَمَنِ
ٱعۡتَدَىٰ
عَلَيۡكُمۡ
فَٱعۡتَدُواْ
عَلَيۡهِ
بِمِثۡلِ
مَا
ٱعۡتَدَىٰ
عَلَيۡكُمۡۚ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
وَٱعۡلَمُوٓاْ
أَنَّ
ٱللَّهَ
مَعَ
ٱلۡمُتَّقِينَ
١٩٤
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 2:194إلى 2:195

حرام مہینوں (محرم، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ) میں یا حرم مکہ کے حدود میں لڑائی گناہ ہے۔ مگر جب مخالفین اسلام تمھارے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اس کی حرمت کو توڑدیں تو تم کو بھی حق ہے کہ قصاص کے طور پر تم ان کی حرمت کا لحاظ نہ کرو۔ مگر دشمن کے ساتھ دشمنی میں تم کو اللہ سے بے خوف نہ ہوجانا چاہيے۔ کسی حد کو توڑنے میں تم اپنی طرف سے ابتدا نہ کرو اور نہ کوئی ایسا اقدام کرو جو ضروری حد سے زیادہ ہو— اللہ کی مدد کسی کو اسی وقت ملتی ہے جب کہ وہ اشتعال کے اوقات میں بھی اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنا رہے۔

قصاص اور ظلم میں یہ فرق ہے کہ قصاص فریق ثانی کی طرف سے کی ہوئی زیادتی کے برابر اور اس کے بقدر ہوتاہے۔ جب کہ ظلم ان حد بندیوں سے باہر نکل جانے کا نام ہے۔ ایک شخص کو کسی سے تکلیف پہنچے تو وہ دوسرے کو اتنی ہی تکلیف پہنچا سکتاہے جتنی اس کو پہنچی ہے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ نصیحت بری لگے تو گالی اور استہزاء سے اس کا جواب دینا یا زبان وقلم کی شکایت کے بدلے میں جارحیت دکھانا تقویٰ کے سراسر خلاف ہے۔ اسی طرح مالی نقصان کے بدلے جانی نقصان، معمولی چوٹ کے بدلے زیادہ بڑی چوٹ، ایک قتل کے بدلے بہت سے آدمیوں کا قتل، اس قسم کی تمام چیزیں ظلم کی تعریف میں آتی ہیں۔ مسلمان کے لیے برابر کا بدلہ (قصاص) جائز ہے مگر ظلم کسی حال میں جائز نہیں۔

اللہ کی راہ میں جدوجہد سب سے زیادہ جس چیز کا تقاضا کرتی ہے وہ مال ہے۔ اور مال کی قربانی بلاشبہ آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل چیز ہے۔ اس ليے حکم دیاکہ اللہ کے کام کو اپنا کام سمجھ کر اس کی راہ میں خوب مال خرچ کرو اور اس کام کو اس کی بہترسے بہتر صورت میں انجام دو۔ ’’اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ سے مراد بخل ہے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو، کیوں کہ خرچ میں دل تنگ ہونا دنیا و آخرت کی بربادی ہے۔ آدمی مال خرچ کردینے کو ہلاکت سمجھتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا ہلاکت ہے۔آدمی کے پاس جو کچھ ہے اگر وہ اس کو اللہ کے حوالے نہ کرے تو اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ کیوں اس کو آدمی کے حوالے کرے گا۔

آدمی اپنی دولت کا استعمال صرف یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کو اپنی ذات پر یا اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرے۔ مگر اس ذہن کو قرآن ہلاکت بتاتا ہے۔ اس کے بجائے دولت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ دین کی ضرورتوں میں خرچ کیا جائے۔ مال کو صرف اپنے ذاتی حوصلوں کی تکمیل میں خرچ کرنا فرد اور معاشرہ کو خداکے غضب کا مستحق بناتا ہے۔ اس کے برعکس، جب مال کو اللہ کے دین کی راہ میں خرچ کیا جائے تو فر د اور جماعت دونوں اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں کے مستحق بنتے ہیں۔ خرچ کرنے والے کو اس کا فائدہ بے شمار صورتوں میں دنیا میں بھی حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة