تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٣٧:٣٣
واذ تقول للذي انعم الله عليه وانعمت عليه امسك عليك زوجك واتق الله وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس والله احق ان تخشاه فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها لكي لا يكون على المومنين حرج في ازواج ادعيايهم اذا قضوا منهن وطرا وكان امر الله مفعولا ٣٧
وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِىٓ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ وَتُخْفِى فِى نَفْسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَىٰهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌۭ مِّنْهَا وَطَرًۭا زَوَّجْنَـٰكَهَا لِكَىْ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌۭ فِىٓ أَزْوَٰجِ أَدْعِيَآئِهِمْ إِذَا قَضَوْا۟ مِنْهُنَّ وَطَرًۭا ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًۭا ٣٧
وَإِذۡ
تَقُولُ
لِلَّذِيٓ
أَنۡعَمَ
ٱللَّهُ
عَلَيۡهِ
وَأَنۡعَمۡتَ
عَلَيۡهِ
أَمۡسِكۡ
عَلَيۡكَ
زَوۡجَكَ
وَٱتَّقِ
ٱللَّهَ
وَتُخۡفِي
فِي
نَفۡسِكَ
مَا
ٱللَّهُ
مُبۡدِيهِ
وَتَخۡشَى
ٱلنَّاسَ
وَٱللَّهُ
أَحَقُّ
أَن
تَخۡشَىٰهُۖ
فَلَمَّا
قَضَىٰ
زَيۡدٞ
مِّنۡهَا
وَطَرٗا
زَوَّجۡنَٰكَهَا
لِكَيۡ
لَا
يَكُونَ
عَلَى
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
حَرَجٞ
فِيٓ
أَزۡوَٰجِ
أَدۡعِيَآئِهِمۡ
إِذَا
قَضَوۡاْ
مِنۡهُنَّ
وَطَرٗاۚ
وَكَانَ
أَمۡرُ
ٱللَّهِ
مَفۡعُولٗا
٣٧
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

حضرت زید کے ساتھ حضرت زینب کانکاح 4 ہجری میں ہوا۔ مگر نباہ نہ ہوسکا اور اگلے سال دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ حضرت زید نے جب رسول صلي الله عليه وسلم سے طلاق کا ارادہ ظاہر کیاتو آپ نے سبب پوچھا۔ انھوںنے کہا کہ وہ اپنے خاندانی شرف کی وجہ سے میرے مقابلہ میں بڑائی کا احساس رکھتی ہیں (تَتَعَظَّمُ عَلَيَّ لِشَرَفِهَا) تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ 642 ۔ تاہم آپ نے انھیں روکا۔ بار بار کی درخواست پر آخر کار آپ نے انھیں علیحدگی کی اجازت دے دی۔ زید اور زینب کے نکاح سے اولاً یہ رسم توڑی گئی تھی کہ معاشرتی فرق کو نکاح میں حائل نہیں ہونا چاہيے۔ مگر جب ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی تو اب اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہوئی کہ زینب کو ایک اورغلط رسم کے توڑنے کا ذریعہ بنایا جائے۔

قدیم جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) کو بالکل حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ ہر اعتبار سے اس کے وہی حقوق تھے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں۔ اس رسم کو توڑنے کی بہترین صورت یہ تھی کہ طلاق کے بعد حضر زینب کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کردیا جائے۔زید رسول اللہ کے متبنیٰ تھے۔ حتی کہ ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا تھا۔ ایسی حالت میں منہ بولے بیٹے کی مطلقہ عورت سے آپ کا نکاح کرنا اس رسم کے خلاف ایک دھماکہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ متبنیٰ کی منکوحہ باپ پر حرام ہے جس طرح حقیقی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشگی طورپر بتایا جاچکا تھا کہ اگر دونوں میں علیحدگی ہوئی تو اس جاہلی رسم کو توڑنے کی تدبیر کے طورپر زینب کو آپ کے نکاح میں دے دیاجائے گا۔ چوں کہ اس قسم کا نکاح قدیم ماحول میں زبردست بدنامی کا ذریعہ ہوتا، اس ليے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کو روکتے رہے کہ اگر وہ طلاق نہ دیں تو میں اس شدید آزمائش سے بچ جاؤں گا۔ مگر جو چیز علم الٰہی میں مقدر تھی وہ ہو کر رہی۔ زید نے زینب کو طلاق دیدی اور اس رسم کو توڑنے کی عملی تدبیر کے طور پر 5 ہجری میں زینب کا نکاح آپ کے ساتھ کردیا گیا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة