تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٠٦:٤
واستغفر الله ان الله كان غفورا رحيما ١٠٦
وَٱسْتَغْفِرِ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ١٠٦
وَٱسۡتَغۡفِرِ
ٱللَّهَۖ
إِنَّ
ٱللَّهَ
كَانَ
غَفُورٗا
رَّحِيمٗا
١٠٦
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 4:105إلى 4:108

انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ اجتماعیت سے وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کرلیتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ایساہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طورپر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ وہ بذات خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتاہے کہ ’’میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیراہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیاجاتا۔

کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گروہی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ہاتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپناہو اور ایک فريق باہر کا، تب بھی معاملہ کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پر واہ کیے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیاجائے۔

سچائی کو چھوڑنا، خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کرچکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندهٔ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں كسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیوی تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لیے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے بھي اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مگرناحق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ساتھ سے محروم ہوجاتا ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
تبرع
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة