تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٤٣:٥
وكيف يحكمونك وعندهم التوراة فيها حكم الله ثم يتولون من بعد ذالك وما اولايك بالمومنين ٤٣
وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ ٱلتَّوْرَىٰةُ فِيهَا حُكْمُ ٱللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ ٤٣
وَكَيۡفَ
يُحَكِّمُونَكَ
وَعِندَهُمُ
ٱلتَّوۡرَىٰةُ
فِيهَا
حُكۡمُ
ٱللَّهِ
ثُمَّ
يَتَوَلَّوۡنَ
مِنۢ
بَعۡدِ
ذَٰلِكَۚ
وَمَآ
أُوْلَٰٓئِكَ
بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ
٤٣
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:42إلى 5:43

حرام (سُحت) سے مراد رشوت ہے۔ رشوت کی ایک عام شکل وہ ہے جو براہِ راست اسی نام پر لی جاتی ہے۔ چنانچہ یہودی علماء میں ایسے لوگ تھے جو رشوت لے کر غلط مسائل بتایا کرتے تھے۔ تاہم رشوت کی ایک اور صورت وہ ہے جس میں براہِ راست لین دین نہیں ہوتا مگر وہ تمام رشوتوں میں زیادہ بڑی اور زیادہ قبیح رشوت ہوتی ہے۔ یہ ہے دین کو عوامی پسند کے مطابق بنا کر پیش کرنا تاکہ عوام کے درمیان مقبولیت ہو، لوگوں کا اعزاز واکرام ملے، لوگوں کے چندے اور نذرانے وصول ہوتے رہیں۔

دین کو اس کی بے آمیز صورت میں پیش کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی عوام کے اندر نامقبول ہوجائے۔ اس کے برعکس دین کو اگر ایسی صورت میں پیش کیا جائے کہ زندگی میں کوئی حقیقی تبدیلی بھی نہ کرنا پڑے اور آدمی کو دین بھی حاصل رہے تو ایسے دین کے گرد بہت جلد بھیڑ کی بھیڑ اكٹھا ہوجاتی ہے — وہ دین جس میں اپنی دنیا پرستانہ زندگی کو بدلے بغیر کچھ سستے اعمال کے ذریعہ جنت مل رہی ہو۔ وہ دین جو قومی اور مادی ہنگامہ آرائیوں کو دینی جواز عطا کرتا ہو۔ وہ دین جس میں یہ موقع ہو کہ آدمی اپنی جاہ پسندی کے لیے سرگرم ہو، پھر بھی وہ جو کچھ کرے سب دین کے خانہ میں لکھا جاتا رہے۔ جو لوگ اس قسم کا دین پیش کریں وہ بہت جلد عوام کے اندر محبوبیت کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔

یہود کے قائدین اسی قسم کا دین چلا کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ وہ عوام کو ان کا پسندیدہ دین پیش کررہے تھے اور عوام اس کے معاوضہ میں ان کو مالی تعاون سے لے کر اعزاز واکرام تک ہر چیز نثار کررہے تھے۔ ایسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچے دین کی آواز بلند کرنا ان کو ناقابلِ برداشت معلوم ہوا۔ کیوں کہ یہ ان کے مفادات کے ڈھانچہ کو توڑنے کے ہم معنی تھا، آپ سے ان کو اتنی ضد ہوگئی کہ آپ کے متعلق کسی اچھی خبر سے ان کو کوئی دل چسپی نہ رہی۔ البتہ اگر وہ آپ کے بارے میں کوئی بری خبر سنتے تو اس میں خوب دل چسپی لیتے اور اس میں اضافہ کرکے اس کو پھیلاتے۔ جن لوگوں میں اس قسم کا بگاڑ آجائے ان کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ دینی فیصلہ لینے کی طرف رجوع بھی ہوتے ہیں تو اس امید میں کہ فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ جانتے ہوئے کہ یہ خدا ورسول کا فیصلہ ہے اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرنا محض ایک فیصلہ کو نہ ماننا نہیں ہے بلکہ خود ایمان واسلام کا انکار کرنا ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة