تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٣٣:٧
فارسلنا عليهم الطوفان والجراد والقمل والضفادع والدم ايات مفصلات فاستكبروا وكانوا قوما مجرمين ١٣٣
فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلطُّوفَانَ وَٱلْجَرَادَ وَٱلْقُمَّلَ وَٱلضَّفَادِعَ وَٱلدَّمَ ءَايَـٰتٍۢ مُّفَصَّلَـٰتٍۢ فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ ١٣٣
فَأَرۡسَلۡنَا
عَلَيۡهِمُ
ٱلطُّوفَانَ
وَٱلۡجَرَادَ
وَٱلۡقُمَّلَ
وَٱلضَّفَادِعَ
وَٱلدَّمَ
ءَايَٰتٖ
مُّفَصَّلَٰتٖ
فَٱسۡتَكۡبَرُواْ
وَكَانُواْ
قَوۡمٗا
مُّجۡرِمِينَ
١٣٣
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:133إلى 7:135

حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔

حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف، 7:110 )۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔

مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔

آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة