تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٧٣:٧
او تقولوا انما اشرك اباونا من قبل وكنا ذرية من بعدهم افتهلكنا بما فعل المبطلون ١٧٣
أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ ١٧٣
أَوۡ
تَقُولُوٓاْ
إِنَّمَآ
أَشۡرَكَ
ءَابَآؤُنَا
مِن
قَبۡلُ
وَكُنَّا
ذُرِّيَّةٗ
مِّنۢ
بَعۡدِهِمۡۖ
أَفَتُهۡلِكُنَا
بِمَا
فَعَلَ
ٱلۡمُبۡطِلُونَ
١٧٣
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:172إلى 7:174

ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کردیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیٰحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طورپر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا ’’شعور رب‘‘ کے بارے میں ہے۔ انسان کی روح میں ایک خالق ومالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طورپر مخالفِ مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔

تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کي خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً بھی وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انھیںسبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملے میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کرکے مَن مانی کارروائی کرنے لگے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہورہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ جو شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد ا س کے ليے جنت کے دروازے کھول ديے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کردے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ خدا بھی اس کو نظر انداز کردے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔

فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ ماضی سے جو چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتاہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة