تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٧٩:٧
ولقد ذرانا لجهنم كثيرا من الجن والانس لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها ولهم اذان لا يسمعون بها اولايك كالانعام بل هم اضل اولايك هم الغافلون ١٧٩
وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌۭ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌۭ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَـٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَـٰفِلُونَ ١٧٩
وَلَقَدۡ
ذَرَأۡنَا
لِجَهَنَّمَ
كَثِيرٗا
مِّنَ
ٱلۡجِنِّ
وَٱلۡإِنسِۖ
لَهُمۡ
قُلُوبٞ
لَّا
يَفۡقَهُونَ
بِهَا
وَلَهُمۡ
أَعۡيُنٞ
لَّا
يُبۡصِرُونَ
بِهَا
وَلَهُمۡ
ءَاذَانٞ
لَّا
يَسۡمَعُونَ
بِهَآۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
كَٱلۡأَنۡعَٰمِ
بَلۡ
هُمۡ
أَضَلُّۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡغَٰفِلُونَ
١٧٩
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ یعنی جب انسان ہدایت سے منہ موڑتا ہے اور ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے تو نتیجتاً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ اس کے بعد ان کے دل تفقہ سے یکسر خالی ہوجاتے ہیں ‘ ان کی آنکھیں انسانی آنکھیں نہیں رہتیں اور نہ ان کے کان انسانی کان رہتے ہیں۔ اب ان کا دیکھنا حیوانوں جیسا دیکھنا رہ جاتا ہے اور ان کا سننا حیوانوں جیسا سننا۔ جیسے کتا بھی دیکھ لیتا ہے کہ گاڑی آرہی ہے مجھے اس سے بچنا ہے۔ جبکہ انسانی دیکھنا تو یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو دیکھے ‘ اس کی حقیقت کو سمجھے اور پھر درست نتائج اخذ کرے۔ اسی فلسفے کو علامہ اقبال ؔ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ؂اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا !چنانچہ علامہ اقبال کہتے ہیں ع دیدن دگر آموز ‘ شنیدن دگر آموز ! یعنی دوسری طرح کا دیکھنا سیکھو ‘ دوسری طرح کا سننا سیکھو ! وہ دیکھنا جو دل کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ سننا جو دل سے سنا جاتا ہے۔ لیکن جب ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ہوگئی اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے گئے تو اب ان کا حال یہ ہے کہ یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بد تر اس لیے کہا گیا ہے کہ چوپایوں کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی کم تر سطح پر کیا ہے ‘ جبکہ انسان کا تخلیقی مقام بہت اعلیٰ ہے ‘ لیکن جب انسان اس اعلیٰ مقام سے گرتا ہے تو پھر وہ نہ صرف شرف انسانیت کو کھو دیتا ہے بلکہ جانوروں سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ یہی مضمون ہے جو سورة التین میں اس طرح بیان ہوا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ یعنی انسان کو پیدا کیا گیا بہترین اندازے پر ‘ بلند ترین سطح پر ‘ یہاں تک کہ اپنے تخلیقی معیار کے مطابق وہ مسجود ملائک ٹھہرا ‘ لیکن جب وہ اس مقام سے نیچے گراتو کم ترین سطح کی مخلوق سے بھی کم ترین ہوگیا۔ پھر اس کی زندگی محض حیوانی زندگی بن کر رہ گئی ‘ حیوانوں کی طرح کھایا پیا ‘ دنیا کی لذتیں حاصل کیں اور مرگیا۔ نہ زندگی کے مقصد کا ادراک ‘ نہ اپنے خالق ومالک کی پہچان ‘ نہ اللہ کے سامنے حاضری کا ڈر اور نہ آخرت میں احتساب کی فکر۔ یہ وہ انسانی زندگی ہے جو انسان کے لیے باعث شرم ہے۔ بقول سعدی شیرازی ؔ ؂زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شر مندگی !

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
تبرع
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة