تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
١٦:٨
ومن يولهم يوميذ دبره الا متحرفا لقتال او متحيزا الى فية فقد باء بغضب من الله وماواه جهنم وبيس المصير ١٦
وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفًۭا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍۢ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ ١٦
وَمَن
يُوَلِّهِمۡ
يَوۡمَئِذٖ
دُبُرَهُۥٓ
إِلَّا
مُتَحَرِّفٗا
لِّقِتَالٍ
أَوۡ
مُتَحَيِّزًا
إِلَىٰ
فِئَةٖ
فَقَدۡ
بَآءَ
بِغَضَبٖ
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَمَأۡوَىٰهُ
جَهَنَّمُۖ
وَبِئۡسَ
ٱلۡمَصِيرُ
١٦
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 8:15إلى 8:16

اسلام اور غیر اسلام کا ٹکراؤ جب جنگ کے میدان تک پہنچ جائے تو یہ گویا دونوں فریقوں کے ليے آخری فیصلہ کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے نازک لمحہ میں اگر کوئی شخص یا گروہ ایسا کرے کہ عین معرکہ کے وقت وہ میدان چھوڑ کر بھاگے تو اس نے بدترین جرم کیا۔ ایک طرف اس نے حق کو بچانے کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بچانے کو زیادہ اہم سمجھا، اس نے اپنے مقصد کے مقابلہ میں اپنی ذات کو ترجیح دی۔ اور یہ سب کچھ اس نے اس وقت کیا جب کہ اس حق کی زندگی کی بازی لگی ہوئی تھی جس کو اعلیٰ ترین صداقت قرار دے کر وہ اس پر ایمان لایا تھا۔

دوسرے یہ کہ ایسے نازک موقع پر اکثر ایک چھوٹا سا واقعہ بہت بڑے واقعہ کا سبب بن جاتاہے۔ ایک شخص یا ایک گروہ کا میدان چھوڑ کر بھاگنا پوری فوج کا حوصلہ توڑ دیتاہے۔ ایک شخص کی بھگدڑ بالآخر عام بھگدڑ کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور ہنگامی حالات میں جب کسی مجمع میں عام بھگدڑ شروع ہوجائے تو وہ اپنی آخری حد پر پہنچنے سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔

اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورت ہے جب کہ کوئی سپاهی یا سپاہیوں کا کوئی دستہ جنگی تدبیر کے ليے پیچھے ہٹتاہے یا وہ اپنے ایک مورچہ سے ہٹ کر کسی دوسرے مورچہ کی طرف سمٹنا چاہتا ہے۔ فرار کے طور پر اگر کوئی پیچھے ہٹتا ہے تو وہ بلا شبہ ناقابل معافی جرم کرتاہے۔ مگر جو پیچھے ہٹنا تدبیر جنگ سے تعلق رکھتا ہو، وہ جائز ہے۔ اس کے ليے آدمی پر کوئی الزام نہیں۔

مذکورہ حکم اصلاً جنگ سے متعلق ہے۔ تاہم دوسری مشابہ صورتیں بھی درجہ بدرجہ اسی کے ذیل میں آسکتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص بے آمیز اسلام کے خاموش اور تعمیری عمل کی طرف لوگوں کو پکارے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد جب وہ دیکھے کہ اس کی دعوت لوگوں میں زیادہ مقبول نہیں ہورہی ہے تو وہ بے صبري کا شکار ہو جائے اور خاموش تعمیر کے محاذ کو چھوڑ کر ایسے اسلام کی طرف دوڑے جس کے ذریعے عوام میں بہت جلد شہرت اور مرتبہ حاصل کیا جاسکتاہے۔

جنگ کے میدان سے بھاگنا شعور اور ارادہ کے تحت ہوتا ہے۔ مگر جنگی میدان کے باہر جو معرکہ جاری ہے اس سے ’’بھاگنا‘‘ ایک غیر شعوری واقعہ هے۔ آدمی طبعی طورپر نتیجہ پسند واقع ہوا ہے۔ وہ اپنے کام کا اعتراف چاہتا ہے۔ اس کا یہ مزاج غیر شعوری طورپر اس کو ان کاموں سے ہٹا دیتا ہے جن میں فوری نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہ آتا ہو۔ وہ اپنے اندر کام کرنے والے غیر شعوری اثرات کے تحت ان چیزوں کی طرف کھنچ اٹھتا ہے جن میں بظاہر یہ امید ہو کہ فوراً عزت وکامیابی حاصل ہوجائے گی۔ اس قسم کا ہر انحراف اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی نوعیت کی چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں میدان مقابلہ سے بھاگنا کہاگیا ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة