تسجيل الدخول
استمر في التقدم بعد رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٩٥:٩
سيحلفون بالله لكم اذا انقلبتم اليهم لتعرضوا عنهم فاعرضوا عنهم انهم رجس وماواهم جهنم جزاء بما كانوا يكسبون ٩٥
سَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ إِذَا ٱنقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا۟ عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌۭ ۖ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٩٥
سَيَحۡلِفُونَ
بِٱللَّهِ
لَكُمۡ
إِذَا
ٱنقَلَبۡتُمۡ
إِلَيۡهِمۡ
لِتُعۡرِضُواْ
عَنۡهُمۡۖ
فَأَعۡرِضُواْ
عَنۡهُمۡۖ
إِنَّهُمۡ
رِجۡسٞۖ
وَمَأۡوَىٰهُمۡ
جَهَنَّمُ
جَزَآءَۢ
بِمَا
كَانُواْ
يَكۡسِبُونَ
٩٥
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:94إلى 9:96

’’تمھارے حالات ہم کو اللہ نے بتا ديے ہیں ‘‘ کا فقرہ ظاہر کرہا ہے کہ یہاں جن منافقین کا ذکر ہے ان سے مراد زمانہ نزول قرآن کے منافقین ہیں ۔ کیوں کہ براہِ راست وحی خداوندی کے ذریعہ آگاہ ہونے کا معاملہ صرف زمانۂ رسالت میں ہوا یا ہو سکتا تھا۔ بعد کے زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ کل بیاسی ( 82 )افراد تھے جن کے نفاق کے بارے میں اللہ نے بذریعہ وحی مطلع فرمایا تھا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ 125 )۔

تاہم اس علم کے باوجود صحابہ کرام کو ان کے ساتھ جس سلوک کی اجازت دی گئی، وہ تغافل اور اعراض تھا، نہ کہ ان کو ہلاک کرنا۔ ان کو سزا یا عذاب دینے کا معاملہ پھر بھی خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اگرچہ اتنی سختی کی گئی کہ انھوں عذرات پیش كيے تو ان کے عذرات قبول نہیں كيے گئے۔ حتی کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے منافقانہ روش اختیار کرنے کے بعد زکوٰۃ پیش کی تو ان کی زکوٰۃ لینے سے انکار کردیاگیا۔ تاہم ان میں سے کسی کو بھی آپ نے قتل نہیں کرایا۔ عبد اللہ بن ابی کے لڑکے عبد اللہ نے اپنے باپ کی منافقانہ حرکت پر سخت کارروائی کرنی چاہی تو آپ نے روک دیا اور فرمایا: انھیں چھوڑ دو، بخدا جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے (دعہ فلعمری لنحسنن صحبتہ ما دام بین اظہرنا) الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ 50۔

بعد کے زمانہ کے منافقین کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ دور اول کے منافقین سے ان کی حالتِ قلبی کی بنیاد پر معاملہ کیا گیا، مگر بعد کے منافقین سے ان کی حالت ظاہری کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔ان سے اعراض وتغافل کا سلوک صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ ان کے عمل سے ان کی منافقت کا خارجی ثبوت مل رہا ہو۔ ان کی نیت یا ان کی قلبی حالت کی بناپر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ بعد کے لوگ عذر پیش کریں تو ان کا عذر بھی قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کے صدقات وغیرہ بھی۔ ان کے انجام کو اللہ کے حوالے کرتے ہوئے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ظاہری قانون کے مطابق کسی کے ساتھ کیا جانا چاہيے۔

جنت کسی کو ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ مسلمانوں کی جماعت یا گروہ میں شامل ہونے کی بنیاد پر۔ منافقین سب کے سب مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے مگر اس کے باوجود ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیاگیا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة