Iniciar sesión
¡Crece más allá del Ramadán!
Más información
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma
9:100
والسابقون الاولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم باحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه واعد لهم جنات تجري تحتها الانهار خالدين فيها ابدا ذالك الفوز العظيم ١٠٠
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَـٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَـٰنٍۢ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ١٠٠
وَٱلسَّٰبِقُونَ
ٱلۡأَوَّلُونَ
مِنَ
ٱلۡمُهَٰجِرِينَ
وَٱلۡأَنصَارِ
وَٱلَّذِينَ
ٱتَّبَعُوهُم
بِإِحۡسَٰنٖ
رَّضِيَ
ٱللَّهُ
عَنۡهُمۡ
وَرَضُواْ
عَنۡهُ
وَأَعَدَّ
لَهُمۡ
جَنَّٰتٖ
تَجۡرِي
تَحۡتَهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
خَٰلِدِينَ
فِيهَآ
أَبَدٗاۚ
ذَٰلِكَ
ٱلۡفَوۡزُ
ٱلۡعَظِيمُ
١٠٠
Dios se complace con los primeros que aceptaron el Islam y emigraron [a Medina], se complace con aquellos que los socorrieron, y con todos los que sigan su ejemplo [en la fe y las buenas obras], y todos ellos se complacen con Dios. Él les ha reservado jardines por donde corren ríos, donde morarán por toda la eternidad. Ese es el gran éxito.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith

اب اہل ایمان کے مابین حفظ مراتب کا مضمون آ رہا ہے ‘ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں تمام انسان برابر نہیں ہوتے : ؂ خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد !مدینہ کے اس معاشرے میں بھی سب لوگ نظریاتی طور پر برابر نہیں تھے ‘ حتیٰ کہ جو منافقین تھے وہ بھی سب ایک جیسے منافق نہیں تھے۔ چونکہ انسانی فطرت تو تبدیل نہیں ہوتی اس لیے آئندہ بھی جب کبھی کسی مسلمان معاشرے میں کوئی دینی تحریک اٹھے گی تو اسی طرح کی صورت حال پیش آئے گی۔ تحریک کے ارکان کے درمیان درجہ بندی کا ایک واضح اور غیر مبہم ادراک نا گزیر ہوگا۔ لہٰذا یہ درجہ بندی حکمت قرآنی کا ایک بہت اہم موضوع ہے اور اس اعتبار سے یہ آیات بہت اہم ہیں۔آیت 100 وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍلا رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ اس درجہ بندی کے مطابق اہل ایمان کے یہ دو مراتب بلند ترین ہیں۔ یعنی سب سے اوپر السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اور اس کے بعد ان کے پیروکار۔ اس سے پہلے ایک درجہ بندی ہم سورة النساء کی آیت 69 میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کے مراتب میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ مگر وہ درجہ بندی کسی اور اعتبار سے ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ بنیادی طور پر ان دونوں گروہوں کے لوگ نیک سیرت ہیں جو فطرت سلیمہ اور عقل سلیم سے نوازے گئے ہیں۔ البتہ ان کی آپس کی درجہ بندی میں جو فرق ہے وہ ان کی طبیعت اور ہمت کے فرق کے باعث ہے۔ ان میں سے درجہ اول السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ پر فائز دراصل وہ لوگ ہیں جو حق کو سامنے آتے ہی فوراً قبول کرلیتے ہیں۔ حق ان کے لیے اس قدر قیمتی متاع ہے کہ اس کی قبولیت میں ذرا سی تاخیر بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ وہ اتنے باہمت لوگ ہوتے ہیں کہ قبول حق کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ اس کے نتائج و عواقب کے بارے میں سوچ بچار میں نہیں پڑتے۔ وہ اس خیال کو خاطر میں نہیں لاتے کہ اس کے بعد انہیں کیا کچھ چھوڑنا ہوگا اور کیا کچھ بھگتنا پڑے گا۔ نہ وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے آگے اس راستے پر پہلے سے کوئی چل بھی رہا ہے یا نہیں ‘ اور اگر نہیں چل رہا تو کسی اور کے آنے کا انتظار کرلیں ‘ سب سے پہلے ‘ اکیلے وہ کیونکر اس پر خطر وادی میں کود پڑیں ! وہ ان سب پہلوؤں پر سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتے ‘ حق کو قبول کرنے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ‘ کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے ‘ عقل کے دلائل کی منطق میں نہیں پڑتے اور ع ہرچہ باداباد ‘ ما کشی در آب اندا ختیم کے مصداق آتش ابتلا میں کود جاتے ہیں۔ بقول اقبالؔ :r؂بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے کہ محو تماشائے لب بام ابھی !دوسرے درجہ میں وہ لوگ ہیں جو ان السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے اتباع میں داعئ حق کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ یہ بھی سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں ‘ حق کو پہلی نظر میں پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی قبولیت کے لیے آمادہ بھی ہوتے ہیں ‘ مگر ان میں ہمت قدرے کم ہوتی ہے۔ یہ ہرچہ بادا باد والا نعرہ بلند نہیں کرسکتے اور چاہتے ہیں کہ یہ نئی پگڈنڈی ذرا راستے کی شکل اختیار کرلے ‘ ہمارے آگے کوئی دو چار لوگ چلتے ہوئے نظر آئیں تو ہم بھی ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ یعنی اس میں معاملہ نیت کے کسی خلل کا نہیں ‘ صرف ہمت کی کمی کا ہے۔ اور وہ بھی اس لیے کہ ان کی طبائع ہی اس نہج پر بنائی گئی ہیں ‘ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا : اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الْفِضَّۃِ وَالذَّھَبِ 1 انسان معدنیات کی کانوں کی طرح ہیں ‘ جیسے چاندی اور سونے کی کانیں ہوتی ہیں۔ یعنی جس طرح معدنیات کی قسمیں ہوتی ہیں اسی طرح انسانوں کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ظاہر ہے آپ سونے کی کچ دھات ore کو صاف کریں گے تو خالص سونا حاصل ہوگا۔ چاندی کی ore کو خواہ کتنا ہی صاف کرلیں وہ سونا نہیں بن سکتی۔ اسی طرح انسانوں کے طبائع میں جو بنیادی فرق ہوتا ہے اس کے سبب سب انسان برابر نہیں ہوسکتے۔ بہر حال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اور ان کے اتباع میں حق کو قبول کرنے والوں کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے ‘ کیونکہ ان متبعین نے بھی حق کو حق سمجھ کر قبول کیا ہے ‘ پوری نیک نیتی سے قبول کیا ہے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے قبول کیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی اور غرض ‘ کوئی اور عامل ‘ کوئی اور مفاد ان کے پیش نظر نہیں تھا۔ بس تھوڑی سی ہمت کی کمی تھی جس کی وجہ سے وہ سبقت نہ لے سکے ‘ مگر دوسرے درجے پر فائز ہوگئے۔اب یہاں ایک اہم بات یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مہاجرین میں سے بھی ہیں اور انصار میں سے بھی ‘ اور پھر ان میں ان کے اپنے اپنے متبعین ہیں۔ انصار چونکہ کہیں دس سال بعد ایمان لائے تھے ‘ اس لیے اگر زمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو گروہ مہاجرین میں سے جو اصحاب متبعین قرار پائے ہیں وہ انصار کے السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ سے بھی پہلے ایمان لائے تھے ‘ مگر اس درجہ بندی اور مراتب میں وہ ان سے پیچھے ہی رہے۔ اس لیے کہ یہاں پہلے یا بعد میں آنے کا اعتبار زمانی لحاظ سے نہیں ‘ بلکہ یہ مزاج کا معاملہ ہے اور اس پہلے رد عمل کا معاملہ ہے جو کسی کے مزاج سے اس وقت ظہور پذیر ہوا جب اس نے پہلی دفعہ حق کو پہچانا۔ لہٰذا اگرچہ اہل مدینہ جو بعد میں انصار کہلائے بہت بعد میں ایمان لائے تھے مگر ان میں بھی وہ لوگ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ہی قرار پائے تھے جنہوں نے حق کو پہچان کر فوراً لبیک کہا ‘ پھر نہ نتائج کی پروا کی اور نہ کوئی مصلحت ان کے آڑے آئی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lea, escuche, busque y reflexione sobre el Corán

Quran.com es una plataforma confiable utilizada por millones de personas en todo el mundo para leer, buscar, escuchar y reflexionar sobre el Corán en varios idiomas. Ofrece traducciones, tafsir, recitaciones, traducción palabra por palabra y herramientas para un estudio más profundo, haciendo que el Corán sea accesible para todos.

Como Sadaqah Jariyah, Quran.com se dedica a ayudar a las personas a conectar profundamente con el Corán. Con el apoyo de Quran.Foundation , una organización sin fines de lucro 501(c)(3), Quran.com continúa creciendo como un recurso gratuito y valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Inicio
Radio Coránica
Recitadores
Sobre nosotros
Desarrolladores
Actualizaciones de productos
Retroalimentación
Ayuda
Donar
Nuestros Proyectos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyectos sin fines de lucro adquiridos, administrados o patrocinados por Quran.Foundation
Enlaces populares

Ayatul Kursi

Yasin

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqiah

Al-Kahf

Al Muzzammil

Mapa del sitio webPrivacidadTérminos y condiciones
© 2026 Quran.com. Reservados todos los derechos