Masuk
Terus bertumbuh Selepas Ramadan!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
16:126
وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولين صبرتم لهو خير للصابرين ١٢٦
وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا۟ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِۦ ۖ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌۭ لِّلصَّـٰبِرِينَ ١٢٦
وَاِنۡ
عَاقَبۡتُمۡ
فَعَاقِبُوۡا
بِمِثۡلِ
مَا
عُوۡقِبۡتُمۡ
بِهٖ​ۚ
وَلَٮِٕنۡ
صَبَرۡتُمۡ
لَهُوَ
خَيۡرٌ
لِّلصّٰبِرِيۡنَ‏
١٢٦
Dan jika kamu membalas, maka balaslah dengan (balasan) yang sama dengan siksaan yang ditimpakan kepadamu. Tetapi jika kamu bersabar, sesungguhnya itulah yang lebih baik bagi orang yang sabar.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 16:125 hingga 16:126

آیت 125 اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ یہ دعوت الی الحق کا طریقہ اور اس کے آداب کا ذکر ہے جیسا کہ سورة یوسف ‘ آیت 108 میں فرمایا گیا : قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِقف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ” اے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ میں خود بھی اور میرے پیروکار بھی اس راستے پر گامزن ہیں۔“ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ اپنے موضوع کے حوالے سے یہ بہت عظیم آیت ہے۔ اس میں انسانی معاشرے کے اندر انسانوں کی تین بنیادی اقسام کے حوالے سے دعوت دین کے تین مدارج بیان کیے گئے ہیں ‘ مگر عام طور پر اس آیت کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔کسی بھی معاشرے میں علم و دانش کی بلند ترین سطح پر وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اس معاشرے کا دانشور طبقہ intelligentsia یا ذہین اقلیت intellectual minority کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کی حیثیت اس معاشرے یا قوم کے دماغ کی سی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے بہت چھوٹی اقلیت پر مشتمل ہوتے ہیں مگر کسی معاشرے کی مجموعی سوچ اور اس کے مزاج کا رخ متعین کرنے میں ان کا کردار یا حصہ فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جذباتی تقاریر اور خوش کن وعظ متاثر نہیں کرسکتے ‘ بلکہ ایسے لوگ کسی سوچ یا نظر یے کو قبول کرتے ہیں تو مصدقہ علمی و منطقی دلیل سے قبول کرتے ہیں اور اگر رد کرتے ہیں تو ایسی ہی ٹھوس دلیل سے رد کرتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں بیان کردہ پہلا درجہ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے اور وہ ہے ”حکمت“۔ یہ علم و عقل کی پختگی کی بہت اعلیٰ سطح ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 269 میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کو ’ خیر کثیر ‘ قرار دیا ہے : وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔ قرآن میں تین مقامات البقرۃ 129 ‘ آل عمران : 164 اور الجمعہ : 2 پر ان مراحل اور درجات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے تحت حضور نے اپنے صحابہ کی تربیت فرمائی۔ ان میں بلند ترین مرحلہ یا درجہ حکمت کا ہے۔ حکمت کے سبب کسی انسان کی سوچ اور علم میں پختگی آتی ہے ‘ اس کی گفتگو میں جامعیت پیدا ہوتی ہے اور اس کی تجزیاتی اہلیت بہتر ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ کسی سے بات کرتے ہوئے یا کسی کو دین کی دعوت دیتے ہوئے معروضی صورت حال ‘ مخاطب کے ذہنی رجحان اور ترجیحات کا درست تجزیہ کرنے کے بعد اپنی گفتگو کے نکات اور دلائل کو ترتیب دیتا ہے۔ اسے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت اسے کیا پیش کرنا ہے اور کس انداز میں پیش کرنا ہے۔ کون سا نکتہ بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے اور کون سی دلیل ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ بہر حال کسی بھی معاشرے کے وہ لوگ جو علم ‘ عقل اور شعور میں غیر معمولی اہلیت کے حامل ہوں ‘ ان کو دعوت دینے کے لیے بھی کسی ایسے داعی کی ضرورت ہے جو خود بھی علم و حکمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو اور ان سے برابری کی سطح پر کھڑے ہو کر بات کرسکے۔ کیونکہ جب قرآن اپنے مخالفین کو چیلنج کرتا ہے : ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ البقرۃ ”اپنی دلیل لاؤ اگر تم واقعی سچے ہو“۔ تو ایسی صورت میں ہمارے مخالفین کو بھی حق ہے کہ وہ بھی ہم سے دلیل مانگیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم عقل اور منطق کی اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر ان کی تسلی و تشفی کا سامان فراہم کریں۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں دعوت و تبلیغ کا پہلا درجہ حکمت بیان کیا گیا ہے جس کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کا صاحب حکمت اور حکیم ہونا لازمی ہے۔حکمت کے بعد دوسرا درجہ ”موعظہ حسنہ“ کا ہے ‘ یعنی اچھا خوبصورت وعظ۔ یہ درجہ عوام الناس کے لیے ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کے ذہنوں میں عقل اور منطق کی چھلنیاں نہیں لگی ہوتیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کے لیے منطقی مباحث اور فلسفیانہ تقاریر ”تکلیف مالا یطاق“ کے مترادف ہیں۔ ان کے دل کھلی کتاب اور ذہن صاف سلیٹ کی مانند ہوتے ہیں ‘ آپ ان پر جو لکھنا چاہیں لکھ لیں۔ ایسے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے ان کے جذبات کو اپیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پر تاثیر وعظ اور خلوص و ہمدردی سے کی گئی بات سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ داعی ہم پر اپنے علم کا رعب نہیں ڈالنا چاہتا ‘ ہم پر دھونس نہیں جمانا چاہتا ‘ وہ ہم سے اظہار نفرت نہیں کر رہا ‘ ہماری تحقیر نہیں کر رہا ‘ بلکہ اس کے پیش نظر ہماری خیر خواہی ہے۔ چناچہ داعی کے دل سے نکلی ہوئی بات ”از دل خیزد ‘ بردل ریزد“ کے مصداق سیدھی ان کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔ دعوت حق کا تیسرا درجہ جَادِلْہُمْ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ان عناصر کے لیے ہے جو کسی معاشرے میں خلق خدا کو گمراہ کرنے کے مشن کے علمبردار ہوتے ہیں۔ آج کل بہت سی تنظیموں کی طرف سے باقاعدہ پیشہ وارانہ تربیت سے ایسے لوگ تیار کر کے میدان میں اتارے جاتے ہیں۔ یہ لوگ خلوص و اخلاص سے کی گئی بات کو کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہر حال میں اپنے نظریے اور موقف کی طرف داری کرنا ان لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے ‘ چاہے وہ کسی علمی و عقلی دلیل سے ہو یا ہٹ دھرمی سے۔ ایسے لوگوں کو مسکت جواب دے کر لاجواب کرنا ضروری ہوتا ہے ‘ ورنہ بعض اوقات عوامی سطح کے اجتماعات میں ان کی بحث برائے بحث کی پالیسی بہت خطرناک ہوسکتی ہے ‘ جس سے عوام الناس کے ذہن منفی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بحث و مباحثہ کے عمل کو ہمارے ہاں ”مناظرہ“ کہا جاتا ہے ‘ جبکہ قرآن نے اسے ”مجادلہ“ کہا ہے۔ بہرحال قرآن نے اپنے پیروکاروں کے لیے اس میں بھی اعلیٰ معیار مقرر کردیا ہے کہ مخالفین سے مجادلہ بھی ہو تو احسن انداز میں ہو۔ اگر آپ کا مخالف کسی طور سے گھٹیا پن کا مظاہرہ بھی کرے تب بھی آپ کو جواب میں اچھے اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں ‘ جیسا کہ سورة الانعام کی آیت 108 میں حکم دیا گیا : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ”اور جن کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو کہ کہیں یہ بھی بغیر سوچے سمجھے مخالفت میں اللہ کو برا بھلا کہنے لگ جائیں“۔ آج کل مختلف مذاہب کی تنظی میں مثلاً عیسائی مشنریز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اسلام کو ہدف بنانے کے لیے کچھ خاص موضوعات اور مسائل کو ایک مخصوص انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہ لوگ ایسے موضوعات و مسائل پر مناظرے کرنے کے لیے باقاعدہ ٹریننگ کے ذریعے سپیشلسٹ specialist تیار کرتے ہیں۔ ایسے پیشہ وارانہ لوگوں کے مقابلے اور مجادلے کے لیے داعیانِ حق کو خصوصی تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Menyumbang
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi