Masuk
Terus bertumbuh Selepas Ramadan!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
16:90
۞ ان الله يامر بالعدل والاحسان وايتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذكرون ٩٠
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ وَإِيتَآئِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ ٱلْفَحْشَآءِ وَٱلْمُنكَرِ وَٱلْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ٩٠
۞ اِنَّ
اللّٰهَ
يَاۡمُرُ
بِالۡعَدۡلِ
وَالۡاِحۡسَانِ
وَاِيۡتَآىِٕ
ذِى
الۡقُرۡبٰى
وَيَنۡهٰى
عَنِ
الۡفَحۡشَآءِ
وَالۡمُنۡكَرِ
وَالۡبَغۡىِ​ۚ
يَعِظُكُمۡ
لَعَلَّكُمۡ
تَذَكَّرُوۡنَ‏
٩٠
Sesungguhnya Allah menyuruh (kamu) berlaku adil dan berbuat kebajikan, memberi bantuan kepada kerabat, dan Dia melarang (melakukan) perbuatan keji, kemungkaran dan permusuhan. Dia memberi pengajaran kepadamu agar kamu dapat mengambil pelajaran.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ یہ آیت اس لحاظ سے بہت مشہور ہے کہ اکثر جمعۃ المبارک کے خطبات میں شامل کی جاتی ہے۔ یہ بہت ہی جامع آیت ہے اور اس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے انداز میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے اور تین ہی چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔ پہلا حکم عدل کا ہے اور دوسرا احسان کا۔ عدل تو یہ ہے کہ جس کا جس قدر حق ہے عین اسی قدر آپ اسے دے دیں ‘ لیکن احسان ایک ایسا عمل ہے جو عدل سے بہت اعلیٰ وارفع ہے۔ یعنی احسان یہ ہے کہ آپ کسی کو اس کے حق سے زیادہ دیں اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ چناچہ اللہ محسنین کو محبوب رکھتا ہے۔ تیسرا حکم قرا بت داروں کے حقوق کا خیال رکھنے کے بارے میں ہے یعنی ان سے حسن سلوک سے پیش آنا صلہ رحمی کے تقاضے پورے کرنا اور انفاق مال کے سلسلے میں ان کو ترجیح دینا۔ یہ تین احکام ان اعمال کے بارے میں ہیں جو ایک اچھے معاشرے کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ جن چیزوں سے یہاں منع فرمایا گیا ہے ان میں سب سے پہلے بےحیائی ہے۔ حیا گویا انسان اور ہر برے کام کے درمیان پردہ ہے۔ جب تک یہ پردہ قائم رہتا ہے انسان عملی طور پر برائی سے بچا رہتا ہے ‘ اور جب یہ پردہ اٹھ جاتا ہے تو پھر انسان بےشرم ہو کر آزاد ہوجاتا ہے۔ پھر وہ ”بےحیا باش و ہرچہ خواہی کن !“ کا مصداق بن کر جو چاہے کرتا پھرتا ہے۔ بےحیائی کے بعد منکر سے منع کیا گیا ہے۔ منکر ہر وہ کام ہے جس کے برے ہونے پر انسان کی فطرت گواہی دے۔ تیسرا ناپسندیدہ عمل یا جذبہ البغی یعنی سرکشی ہے۔ یہ سرکشی اگر اللہ کے خلاف ہو تو بغاوت ہے اور یوں کفر ہے ‘ اور اگر یہ انسانوں کے خلاف ہو تو اسے ”عدوان“ کہا جاتا ہے یعنی ظلم اور زیادتی۔ بہرحال ان دونوں سطحوں پر یہ انتہائی ناپسندیدہ اور مذموم جذبہ ہے۔اگلی چند آیات مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ ان کی تفسیر کے بارے میں بہت سی آراء ہیں جو سب کی سب یہاں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ میں یہاں صرف وہ رائے بیان کروں گا جس سے مجھے اتفاق ہے۔ میری رائے کے مطابق ان آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔ مکی سورتوں میں اگرچہ اہل کتاب سے ”یٰبَنِی اِسْرَاءِیل“ یا ”یٰاَھل الکتاب“ کے الفاظ سے براہ راست خطاب نہیں کیا گیا لیکن سورة الانعام اور اس کے بعد مکی دور کے آخری سالوں میں نازل ہونے والی سورتوں میں اہل کتاب کو بالواسطہ انداز میں مخاطب کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک محمد رسول اللہ کے دعوائے نبوت کے بارے میں خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ان خبروں کو سن کر بہت متجسسانہ انداز میں مزید معلومات کی ٹوہ میں تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو نبی آخر الزماں کو پہچان بھی چکے تھے اور وہ اس انتظار میں تھے کہ مزید معلومات سے آپ کی نبوت کی تصدیق ہوجائے تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں۔ دوسری طرف یہود مدینہ ہی میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں آپ کے خلاف حسد کی آگ بھی بھڑک چکی تھی۔ اس قسم کے لوگ آپ کی مخالفت کے لیے قریش مکہ سے مسلسل رابطے میں تھے اور آپ کی آزمائش کے لیے قریش مکہ کو مختلف قسم کے سوالات بھیجتے رہتے تھے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق تو فلسطین میں آباد تھے لیکن ان کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کے لوگ وہاں سے مصر کیسے پہنچے ؟ ان کا یہی سوال تھا جس کے جواب میں پوری سورة یوسف نازل ہوئی تھی۔ چناچہ یہ وہ معروضی صورت حال تھی جس کی وجہ سے مکی دور کی آخری سورتوں میں کہیں کہیں اہل کتاب کا ذکر بھی موجود ہے اور بالواسطہ طور پر ان سے خطاب بھی ہے۔ اس پس منظر میں میری رائے یہی ہے کہ آئندہ آیات میں روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Menyumbang
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi