Masuk
Terus bertumbuh Selepas Ramadan!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
64:14
يا ايها الذين امنوا ان من ازواجكم واولادكم عدوا لكم فاحذروهم وان تعفوا وتصفحوا وتغفروا فان الله غفور رحيم ١٤
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّ مِنْ أَزْوَٰجِكُمْ وَأَوْلَـٰدِكُمْ عَدُوًّۭا لَّكُمْ فَٱحْذَرُوهُمْ ۚ وَإِن تَعْفُوا۟ وَتَصْفَحُوا۟ وَتَغْفِرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ ١٤
​يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اِنَّ
مِنۡ
اَزۡوَاجِكُمۡ
وَاَوۡلَادِكُمۡ
عَدُوًّا
لَّكُمۡ
فَاحۡذَرُوۡهُمۡ​ۚ
وَاِنۡ
تَعۡفُوۡا
وَتَصۡفَحُوۡا
وَتَغۡفِرُوۡا
فَاِنَّ
اللّٰهَ
غَفُوۡرٌ
رَّحِيۡمٌ‏
١٤
Wahai orang-orang yang beriman! Sesungguhnya di antara istri-istrimu dan anak-anakmu ada yang menjadi musuh bagimu,1 maka berhati-hatilah kamu terhadap mereka; dan jika kamu maafkan dan kamu santuni serta ampuni (mereka), maka sungguh, Allah Maha Pengampun, Maha Penyayang.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 14{ یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّــکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ } ”اے ایمان کے دعوے دارو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ‘ سو ان سے بچ کر رہو۔“ یہ بہت مشکل اور نازک معاملہ ہے۔ گزشتہ سورت میں رسول اللہ ﷺ کو منافقین کی عداوت سے بھی انہی الفاظ میں خبردار کیا گیا تھا : { ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ } المنٰفقُون : 4 کہ یہ لوگ تمہارے دشمن ہیں ‘ ان سے بچ کر رہیے ! جس طرح منافقین کی دشمنی تمہارے لیے نقصان دہ ہے ‘ اسی طرح تمہارے بیوی بچوں کی محبت بھی تمہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ نقصان بیشک کسی کی دشمنی کی وجہ سے ہو یا محبت کی وجہ سے ‘ نقصان ہی ہے اور جو کوئی بھی آپ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو وہ ظاہر ہے آپ کا دشمن ہے۔ بیوی کی بےجا فرمائشیں اور بچوں کی حد سے بڑھی ہوئی ضروریات اگر حلال کی کمائی سے پوری نہیں ہوں گی تو انسان کیا کرے گا ؟ ظاہر ہے حرام میں منہ مارے گا۔ اور اگر کوئی یہ نہیں کرے گا تو ڈالر اور پونڈ کمانے کے چکر میں ملک سے باہر چلا جائے گا۔ پیچھے سے بیوی بچے کیا کرتے ہیں ؟ بوڑھے والدین کس حال میں ہیں ؟ انہیں بیماری کی حالت میں ڈاکٹر کے پاس کون لے کر جائے گا ؟ اس کی بلا جانے ! اس کی اپنی مجبوری ہے ‘ مکان بنانا ہے ‘ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانی ہے ‘ ان کی شادیاں کرنی ہیں اور اس سب کچھ کے لیے سرمایہ چاہیے۔ اور ظاہر ہے سرمایہ گھر بیٹھے تو نہیں ملتا ‘ نہ ہی حلال کی کمائی سے ملتا ہے۔ اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے دین کی سمجھ اور آخرت کی فکر عطا کی ہے اور وہ حرام سے بچتے ہوئے روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرنا چاہتا ہے تو اسے صبح وشام بیوی کے طعنے چین نہیں لینے دیتے کہ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ‘ تمہیں بچوں کے مستقبل کی فکر بھی نہیں۔ ذرا ہمسائے سے ہی سبق حاصل کرلیتے ‘ کیا وہ مسلمان نہیں ہیں ؟ وہ تم سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہیں ‘ ان کی داڑھی بھی تم سے لمبی ہے ‘ مگر وہ دین کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی نبھا رہے ہیں۔ ذرا دیکھوان کے بیوی بچے کیسے عیش کر رہے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ اوپر کی کمائی سے ہو رہا ہے۔ اب تم کیا ان سے بھی بڑے دین دار ہو کہ جو سب کچھ ان کے لیے حلال ہے تم اسے اپنے اوپر خواہ مخواہ حرام کرکے بیٹھ گئے ہو ؟ وغیرہ وغیرہ۔ آج ہمارے ہاں کے روایتی مسلمانوں کو تو بیوی بچوں کی دشمنی والی یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی ‘ لیکن اگر کوئی بندئہ مومن اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کسی انقلابی تحریک کے کارکن کی حیثیت سے اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف ہے تو اس پر یہ حقیقت بہت جلد واضح ہوجائے گی کہ اس راستے میں بیوی بچوں کی محبت کس طرح پائوں کی زنجیر بنتی ہے۔ یہ معاملہ چونکہ بہت نازک اور حساس ہے اس لیے اس سخت حکم کے بعد اگلے جملے میں اس ضمن میں نرمی اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی جا رہی ہے۔ قوانین اور احکام کا یہ توازن کلام الٰہی کا خاص معجزہ ہے اور اس اعتبار سے یہ آیت اعجازِ قرآن کی بہت بڑی مثال ہے۔ ایک طرف متنبہ بھی کردیا کہ تمہیں اپنے اہل و عیال کے معاملے میں سانپ کی طرح ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بیوی اور اولاد کی محبت تمہیں کسی غلط راستے پر ڈال دے۔ لیکن اگلے جملے میں عفو و درگزر کا حکم بھی دے دیا کہ تم اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے اپنے اہل و عیال کے معاملات کو نرمی اور حکمت سے نبٹائو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارا گھر صبح و شام میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کرنے لگے : { وَاِنْ تَـعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور اگر تم معاف کردیا کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور بخش دیا کرو تو اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت مہربان ہے۔“ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی عفو و درگزر کا معاملہ فرمائے تو تم بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرو۔ سورة النور کی اس آیت میں بھی بالکل یہی اسلوب نظر آتا ہے : { وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْاط اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت مہربان ہے“۔ یہ آیت واقعہ افک کے حوالے سے حضرت ابوبکر صدیق رض کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ آپ رض نے اپنے ایک نادار رشتہ دار حضرت مسطح رض کی کفالت کا ذمہ لے رکھا تھا ‘ لیکن جب آپ رض کو معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رض پر کیچڑ اچھالنے میں اس کا بھی حصہ تھا تو آپ رض نے اس کی مدد سے ہاتھ روک لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر تم خود اللہ سے معافی کے خواستگار ہو تو تم اسے معاف کر دو۔ بہرحال ان دونوں آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف اللہ تعالیٰ خود بہت معاف اور درگزر کرنے والا ہے بلکہ اپنے بندوں سے بھی وہ ایسے ہی رویے کو پسند کرتا ہے۔ زیر مطالعہ آیات میں اب تک ایمان کے چار ثمرات کا ذکر ہوا ہے۔ ان میں سے پہلے تین کا تعلق تو ایک فرد کی انفرادی زندگی سے ہے ‘ جبکہ چوتھا ثمرہ فرد کے گرد بننے والی اجتماعیت کے پہلے حلقے یعنی اس کے افراد خانہ سے متعلق ہے۔ انفرادی سطح کے تین ثمرات کو میں نے بندئہ مومن کی شخصیت کے چمن میں کھلنے والے خوبصورت پھولوں سے تشبیہہ دی ہے۔ ان میں سے دو پھول تو وہ ہیں جو اس کے دل کے اندر کھلتے ہیں اور باہر سے ہر کسی کو نظر نہیں آتے ‘ یعنی خوئے تسلیم و رضا اور توکل علی اللہ۔ جبکہ تیسرا پھول اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا پھول ہے ‘ جو شخصیت کے خارج میں کھلتا ہے۔ ظاہر ہے اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ کے حکم میں تو پورے کے پورے دین کا احاطہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے معاشرے میں رہتے ہوئے یہ پھول بجا طور پر بندئہ مومن کی شخصیت کا طرئہ امتیاز بنتا ہے۔ ایمان کے چوتھے ثمرے کا تعلق بندئہ مومن کی عائلی زندگی سے ہے۔ اس حوالے سے آیت زیر مطالعہ ہمیں انتہائی متوازن اور معتدل رویے کا شعور عطا کرتی ہے۔ اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں اہل و عیال کی طبعی محبتوں کے منفی اثرات سے ہوشیار بھی رہنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عفو و درگزر کی حکمت عملی اپناتے ہوئے گھر کی فضا کو محاذ آرائی اور نفرت کے تکدر سے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کرتے رہنا ہے۔ اب اسی حوالے سے دوسری اصولی اور انتہائی اہم بات :

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Menyumbang
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi