Masuk
Terus bertumbuh Selepas Ramadan!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
6:108
ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدوا بغير علم كذالك زينا لكل امة عملهم ثم الى ربهم مرجعهم فينبيهم بما كانوا يعملون ١٠٨
وَلَا تَسُبُّوا۟ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ فَيَسُبُّوا۟ ٱللَّهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍۢ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٠٨
وَلَا
تَسُبُّوا
الَّذِيۡنَ
يَدۡعُوۡنَ
مِنۡ
دُوۡنِ
اللّٰهِ
فَيَسُبُّوا
اللّٰهَ
عَدۡوًاۢ
بِغَيۡرِ
عِلۡمٍ ​ؕ
كَذٰلِكَ
زَيَّنَّا
لِكُلِّ
اُمَّةٍ
عَمَلَهُمۡ
ثُمَّ
اِلٰى
رَبِّهِمۡ
مَّرۡجِعُهُمۡ
فَيُنَبِّئُهُمۡ
بِمَا
كَانُوۡا
يَعۡمَلُوۡنَ‏
١٠٨
Dan Janganlah kamu memaki sesembahan yang mereka sembah selain Allah, karena mereka nanti akan memaki Allah dengan melampaui batas tanpa dasar pengetahuan. Demikianlah, Kami jadikan setiap umat menganggap baik pekerjaan mereka. Kemudian kepada Tuhan, tempat kembali mereka, lalu Dia akan memberitahukan kepada mereka apa yang telah mereka kerjakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
سودا بازی نہیں ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو مشرکین کے معبودوں کو گالیاں دینے سے منع فرماتا ہے گو کہ اس میں کچھ مصلحت بھی ہو لیکن اس میں مفسدہ بھی ہے اور وہ بہت بڑا ہے یعنی ایسا نہ ہو کہ مشرک اپنی نادانی سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔

ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے ایسا ارادہ ظاہر کیا تھا اس پر یہ آیت اتری، قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسا ہوا تھا اس لیے یہ آیت اتری اور ممانعت کر دی گئی۔ ابن ابی حاتم میں سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ابوطالب کی موت کی بیماری کے وقت قریشیوں نے آپس میں کہا کہ چلو چل کر ابوطالب سے کہیں کہ وہ اپنے بھتیجے (‏محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو روک دیں ورنہ یہ یقینی بات ہے کہ اب ہم اسے مار ڈالیں گے تو ممکن ہے کہ عرب کی طرف سے آواز اٹھے کہ چچا کی موجودگی میں تو قریشیوں کو چلی نہیں اس کی موت کے بعد مار ڈالا۔

یہ مشورہ کرکے ابوجہل، ابوسفیان، نضیر بن حارث، امیہ بن ابی خلف، عقبہ بن ابو محیط، عمرو بن العاص اور اسود بن بختری چلے۔ مطلب نامی ایک شخص کو ابوطالب کے پاس بھیجا کہ وہ ان کے آنے کی خبر دیں اور اجازت لیں۔ اس نے جا کر کہا کہ آپ کی قوم کے سردار آپ سے ملنا چاہتے ہیں ابوطالب نے کہا بلا لو یہ لوگ گئے اور کہنے لگے آپ کو ہم اپنا بڑا اور سردار مانتے ہیں آپ کو معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ستا رکھا ہے وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ بلا کر منع کر دیجئیے ہم بھی اس سے رک جائیں گے۔

ابوطالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ابوطالب نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے بڑے یہاں جمع ہیں یہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنبے قبیلے اور رشتے کے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیں یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ کو چھوڑ دیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر ایک بات میں کہتا ہوں یہ سب لوگ سوچ سمجھ کر اس کا جواب دیں۔ میں ان سے صرف ایک کلمہ طلب کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اگر یہ میری ایک بات مان لیں تو تمام عرب ان کا ماتحت ہو جائے تمام عجم ان کی مملکت میں آ جائے بڑی بڑی سلطنتیں انہیں خراج ادا کریں ۔

یہ سن کر ابوجہل نے کہا قسم ہے ایک ہی نہیں ایسی دس باتیں بھی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوں تو ہم ماننے کو موجود ہیں فرمائیے وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ دو ۔

صفحہ نمبر2723

اس پر ان سب نے انکار کیا اور ناک بھوں چڑھائی۔ یہ بات دیکھ کر ابوطالب نے کہا پیارے بھتیجے اور کوئی بات کہو دیکھو تمہاری قوم کے سرداروں کو تمہاری یہ بات پسند نہیں آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چچا جان آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں اللہ کی قسم مجھے اسی ایک کلمہ کی دھن ہے اگر یہ لوگ سورج کو لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دیں جب بھی میں کوئی اور کلمہ نہیں کہوں گا ۔

یہ سن کر وہ لوگ اور بگڑے اور کہنے لگے بس ہم کہہ دیتے ہیں کہ یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو گالیاں دینے سے رک جائیں ورنہ پھر ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کو گالیاں دیں گے۔ اس پر رب العالمین نے یہ آیت اتاری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:13744:مرسل] ‏

اسی مصلحت کو مد نظر رکھ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ملعون ہے جو اپنے ماں باپ کو گالیاں دے ۔ صحابہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی کیسے دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہ یہ دوسرے کے باپ کو گالی دے دوسرا اس کے باپ کو، یہ کسی کی ماں کو گالی دے وہ اس کی ماں کو ۔ [صحیح بخاری:5973] ‏

پھر فرماتا ہے ” اسی طرح اگلی امتیں بھی اپنی گمراہی کو اپنے حق میں ہدایت سمجھتی رہیں “۔ یہ بھی رب کی حکمت ہے یاد رہے کہ سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے وہ انہیں ان کے سب برے بھلے اعمال کا بدلہ دے گا اور ضرور دے گا۔

صفحہ نمبر2724
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Menyumbang
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi