Masuk
Terus bertumbuh Selepas Ramadan!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
7:145
وكتبنا له في الالواح من كل شيء موعظة وتفصيلا لكل شيء فخذها بقوة وامر قومك ياخذوا باحسنها ساريكم دار الفاسقين ١٤٥
وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍۢ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍۢ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا۟ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُو۟رِيكُمْ دَارَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ١٤٥
وَكَتَبۡنَا
لَهٗ
فِى
الۡاَلۡوَاحِ
مِنۡ
كُلِّ
شَىۡءٍ
مَّوۡعِظَةً
وَّتَفۡصِيۡلًا
لِّـكُلِّ
شَىۡءٍ​ ۚ
فَخُذۡهَا
بِقُوَّةٍ
وَّاۡمُرۡ
قَوۡمَكَ
يَاۡخُذُوۡا
بِاَحۡسَنِهَا​ ؕ
سَاُورِيۡكُمۡ
دَارَ
الۡفٰسِقِيۡنَ‏
١٤٥
Dan telah Kami tuliskan untuk Musa pada lauh-lauh (Taurat)1 segala sesuatu sebagai pelajaran dan penjelasan untuk segala hal; maka (Kami berfirman), "Berpegangteguhlah kepadanya dan suruhlah kaummu berpegang kepadanya dan sebaik-baiknya,2 Aku akan memperlihatkan kepadamu negeri orang-orang fasik."3
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits

آیت 145 وَکَتَبْنَا لَہٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَۃً وَّتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ ج۔ یعنی شریعت کے تمام بنیادی احکام ان الواح میں درج کردیے گئے تھے۔ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے بنیادی احکام شاہراہ حیات پر انسان کے لیے گویا danger signals کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے کسی پر پیچ پہاڑی سڑک پر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے جگہ جگہ danger cautions نصب کیے جاتے ہیں اسی طرح انسانی تمدن کے پیچیدہ راستے پر آسمانی شریعت اپنے احکامات کے ذریعے caution نصب کر کے انسانی تگ و دو کے لیے ایک محفوظ دائرہ مقرر کردیتی ہے تاکہ انسان اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے ‘ اپنی عقل کو بروئے کار لاکر اپنی مرضی اور پسند ناپسند کے مطابق زندگی گزارے۔ اس دائرے کے باہر محرمات ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ ان کے قریب بھی مت جانا : تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْہَا ط البقرۃ : 187۔فَخُذْہَا بِقُوَّۃٍ وَّاْمُرْ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِہَا ط۔ کسی بھی حکم پر عمل درآمد کے لیے مختلف درجے ہوتے ہیں۔ یہ عمل درآمد ادنیٰ درجے میں بھی ہوسکتا ہے ‘ اوسط درجے میں بھی اور اعلیٰ درجے میں بھی۔ لہٰذا یہاں مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو ترغیب دیں کہ وہ احکام شریعت پر عمل کرتے ہوئے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہی نکتہ ہم مسلمانوں کو بھی قرآن میں بتایا گیا : الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ط الزمر : 18 یعنی وہ لوگ کلام اللہ کو سنتے ہیں پھر جو اس کی بہترین بات ہوتی ہے اس کو اختیار کرتے ہیں۔ ایک طرز عمل یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں ڈھیل اور رعایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ امتیازی پوزیشن نہ سہی ‘ فرسٹ یا سیکنڈڈویژن بھی نہ سہی ‘ بس pass marks کافی ہیں ‘ لیکن یہ معاملہ دین میں نہیں ہونا چاہیے۔ دینی امور میں عمل کا اچھے سے اچھا اور اعلیٰ سے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی کوشش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم سورة المائدۃ میں بھی پڑھ آئے ہیں : اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ دنیوی امور میں تو ہر شخص ع ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں ! کے نظریے کا حامل نظر آتا ہی ہے ‘ لیکن دین کے سلسلے میں بھی ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کا آج اس کے کل سے بہتر ہو۔ دینی امور میں بھی وہ ترقی کے لیے حتی الامکان ہر گھڑی کوشاں رہے۔سَاُورِیْکُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ اس سے مرادفلسطین کا علاقہ ہے جس پر حملہ آور ہونے کا حکم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والا تھا۔ بنی اسرائیل کا قافلہ مصر سے نکلنے کے بعد خلیج سویز کو عبور کر کے صحرائے سینا میں داخل ہوا تو خلیج سویز کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا ‘ یہاں تک کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی کونے میں پہنچ گیا جہاں کوہ طور واقع ہے۔ یہاں پر اس قافلے کا طویل عرصے تک قیام رہا۔ یہیں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر طلب کیا گیا اور جب آپ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو آپ علیہ السلام کو فلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم ملا۔ چناچہ یہاں سے یہ قافلہ خلیج عقبہ کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف عازم سفر ہوا۔ بنی اسرائیل سات آٹھ سو سال قبل حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت پر فلسطین چھوڑ کر مصر میں آب سے تھے۔ اب فلسطین میں وہ مشرک اور فاسق قوم قابض تھی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سخت اور زور آور لوگ ہیں۔ چناچہ جب ان کو حکم ملا کہ جا کر اس قوم سے جہاد کرو تو انہوں نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کردی کہ ایسے طاقتور لوگوں سے جنگ کرنا ان کے بس کی بات نہیں : قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْہَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَق المائدۃ : 22 اس واقعے کی تفصیل سورة المائدۃ میں گزر چکی ہے۔ یہاں اسی مہم کا ذکر ہو رہا ہے کہ میں عنقریب تم لوگوں کو اس سر زمین کی طرف لے جاؤں گا جو تمہارا اصل وطن ہے لیکن ابھی اس پر فاسقوں کا قبضہ ہے۔ ان نافرمان لوگوں کے ساتھ جنگ کر کے تم نے اپنے وطن کو آزاد کرانا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Menyumbang
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi