Aanmelden
Groei voorbij de Ramadan!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
11:32
قالوا يا نوح قد جادلتنا فاكثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان كنت من الصادقين ٣٢
قَالُوا۟ يَـٰنُوحُ قَدْ جَـٰدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَٰلَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٣٢
قَالُواْ
يَٰنُوحُ
قَدۡ
جَٰدَلۡتَنَا
فَأَكۡثَرۡتَ
جِدَٰلَنَا
فَأۡتِنَا
بِمَا
تَعِدُنَآ
إِن
كُنتَ
مِنَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
٣٢
Zij zeiden: "O Nôeh, je hebt met ons getwist, en je hebt lang met ons getwist, laat dan tot ons komen wat jij hebt aangezegd, als jij tot de waarachtigen behoort."
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 11:32tot 11:34

حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔

’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔

اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔

حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔

داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Doneren
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden