Aanmelden
Groei voorbij de Ramadan!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
14:26
ومثل كلمة خبيثة كشجرة خبيثة اجتثت من فوق الارض ما لها من قرار ٢٦
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍۢ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ ٢٦
وَمَثَلُ
كَلِمَةٍ
خَبِيثَةٖ
كَشَجَرَةٍ
خَبِيثَةٍ
ٱجۡتُثَّتۡ
مِن
فَوۡقِ
ٱلۡأَرۡضِ
مَا
لَهَا
مِن
قَرَارٖ
٢٦
En de vergelijking met een slechte uitspraak is als die met een slechte boom, die ontworteld op de aarde staat, en die geen stevigheid heeft.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 14:24tot 14:26
لا الہ الا اللہ کی شہادت ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، کلمہ طیبہ سے مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی شہادت ہے۔ پاکیزہ درخت کی طرح کا مومن ہے اس کی جڑ مضبوط ہے۔ یعنی مومن کے دل میں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» جما ہوا ہے اس کی شاخ آسمان میں ہے۔ یعنی اس توحید کے کلمہ کی وجہ سے اس کے اعمال آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7] ‏ کہ مراد اس سے مومن کے اعمال ہیں اور اس کے پاک اقوال اور نیک کام۔ مومن مثل کھجور کے درخت کے ہے۔ ہر وقت ہر صبح ہر شام اس کے اعمال آسمان پر چڑھتے رہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:439/7] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک خوشہ لایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کا پہلا حصہ تلاوت فرمایا اور فرمایا کہ پاک درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے ۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:مرفوعاً ضعیف] ‏

صفحہ نمبر4219

صحیح بخاری شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کے مشابہ ہے؟ جس کے پتے نہیں جھڑتے نہ جاڑوں میں نہ گرمیوں میں جو اپنا پھل ہر موسم میں لاتا رہتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں وہ درخت کھجور کا ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ مجلس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور وہ خاموش ہیں تو میں بھی چپ سا ہو رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ درخت کھجور کا ہے ۔ جب یہاں سے اٹھ کر چلے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ”پیارے بچے اگر تم یہ جواب دے دیتے تو مجھے تو تمام چیزوں کے مل جانے سے بھی زیادہ محبوب تھا“ ۔ [صحیح بخاری:4698] ‏

حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں مدینہ شریف تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا لیکن سوائے ایک حدیث کے اور کوئی روایت انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہوئے نہیں سنا اس میں ہے کہ یہ سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کیا۔ جب آپ کے سامنے کھجور کے درخت کے بیچ کا گودا لایا گیا تھا۔ میں اس لیے خاموش رہا کہ میں اس مجلس میں سب سے کم عمر تھا ۔ [صحیح بخاری:2209] ‏

اور روایت میں ہے کہ جواب دینے والوں کا خیال اس وقت جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا ۔ [صحیح بخاری:131] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ درجات میں بہت بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاد رکھو اگر تمام دنیا کی چیزیں لگ کر انبار لگا دو تو بھی وہ آسمان تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔ تجھے ایسا عمل بتلاؤں جس کی جڑ مضبوط اور جس کی شاخیں آسمان میں ہیں ۔ اس نے پوچھا وہ کیا؟ فرمایا: دعا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ» ہر فرض نماز کے بعد دس بار کہہ لیا کرو جس کی اصل مضبوط اور جس کی فرع آسمان میں ہے ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:مرسل] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”وہ پاکیزہ درخت جنت میں ہے، ہر وقت اپنا پھل لائے یعنی صبح شام یا ہر ماہ میں یا ہر دو ماہ میں یا ہر ششماہی میں یا ہر ساتویں مہینے یا ہر سال۔‏“ لیکن الفاظ کا ظاہری مطلب تو یہ ہے کہ مومن کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کے پھل ہر وقت جاڑے گرمی میں دن رات میں اترتے رہتے ہیں اسی طرح مومن کے نیک اعمال دن رات کے ہر وقت چڑھتے رہتے ہیں اس کے رب کے حکم سے یعنی کامل، اچھے، بہت اور عمدہ۔

صفحہ نمبر4220

اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبرت ان کی سوچ سمجھ اور ان کی نصیحت کے لیے مثالیں واضح فرماتا ہے۔ پھر برے کلمہ کی یعنی کافر کی مثال بیان فرمائی۔ جس کی کوئی اصل نہیں، جو مضبوط نہیں، اس کی مثال اندرائن کے درخت سے دی۔ جسے حنظل اور شریان کہتے ہیں۔ ایک موقوف روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے بھی آیا ہے اور یہی روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔ [سنن ترمذي:3119،قال الشيخ الألباني:ضعیف مرفوع] ‏

اس درخت کی جڑ زمین کی تہ میں نہیں ہوتی جھٹکا مارا اور اکھڑ آیا۔ اسی طرح سے کفر بے جڑ اور بے شاخ ہے، کافر کا نہ کوئی نیک عمل چڑھے نہ مقبول ہو۔

صفحہ نمبر4221
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Doneren
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden