Aanmelden
Groei voorbij de Ramadan!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
65:1
يا ايها النبي اذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن واحصوا العدة واتقوا الله ربكم لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن الا ان ياتين بفاحشة مبينة وتلك حدود الله ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه لا تدري لعل الله يحدث بعد ذالك امرا ١
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا۟ ٱلْعِدَّةَ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنۢ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّآ أَن يَأْتِينَ بِفَـٰحِشَةٍۢ مُّبَيِّنَةٍۢ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ ۚ لَا تَدْرِى لَعَلَّ ٱللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًۭا ١
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّبِيُّ
إِذَا
طَلَّقۡتُمُ
ٱلنِّسَآءَ
فَطَلِّقُوهُنَّ
لِعِدَّتِهِنَّ
وَأَحۡصُواْ
ٱلۡعِدَّةَۖ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
رَبَّكُمۡۖ
لَا
تُخۡرِجُوهُنَّ
مِنۢ
بُيُوتِهِنَّ
وَلَا
يَخۡرُجۡنَ
إِلَّآ
أَن
يَأۡتِينَ
بِفَٰحِشَةٖ
مُّبَيِّنَةٖۚ
وَتِلۡكَ
حُدُودُ
ٱللَّهِۚ
وَمَن
يَتَعَدَّ
حُدُودَ
ٱللَّهِ
فَقَدۡ
ظَلَمَ
نَفۡسَهُۥۚ
لَا
تَدۡرِي
لَعَلَّ
ٱللَّهَ
يُحۡدِثُ
بَعۡدَ
ذَٰلِكَ
أَمۡرٗا
١
O Profeet als jullie van de vrouwen scheiden, scheidt dan van hen met inachtneming van hun perioden, en berekent de perioden (precies) en vreest Allah, jullie Heer. Verwijdert hen niet uit hun huizen en zij mogen (deze) niet verlaten, behalve wanneer zij duidelijk zedeloosheden begaan. Dat zijn de Wetten van Allah en wie de Wetten van Allah overschrijdt, die heeft waarlijk zichzelf onrecht aangedaan. Jij weet niet of Allah misschien daarna een nieuwe omstandigheid zal doen ontstaan.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
طلاق کے مسائل ٭٭

اولاً تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا پھر تبعاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھایا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی وہ اپنے میکے آ گئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ ” ان سے رجوع کر لو، وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج میں داخل ہیں ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24244:ضعیف و مرسل] ‏ یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی ہے اور سندوں سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا۔

صفحہ نمبر9560

صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صاحبہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: ”اسے چاہیئے کہ رجوع کر لے، پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے، پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہا لیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں“، یعنی اس پاکیزگی کی حالت میں بات چیت کرنے سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ۔ [صحیح بخاری:4908] ‏ یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مذکور ہے۔

عبدالرحمٰن بن ایمن رحمہ الله نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں ابوالزبیر رحمہ الله کے سنتے ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟، تو آپ نے فرمایا ”سنو! ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے، چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» [65-الطلاق:1] ‏ [صحیح مسلم:1471] ‏

دوسری روایت میں «‏فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے، بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے۔

صفحہ نمبر9561

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «عدت» سے مراد طہر ہے۔‏“ «قرء» سے مراد حیض ہے یا حمل کی حالت میں، جب حمل ظاہر ہو، جس طہر میں مجامعت کر چکا ہے اس میں طلاق نہ دے نہ معلوم حاملہ ہے یا نہیں، یہیں سے باسمجھ علماء نے احکام طلاق لیے ہیں اور طلاق کی دو قسمیں کی ہیں طلاق سنت اور طلاق بدعت۔

طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟ طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔ ان سب کے احکام اور تفصیلی بحث کی جگہ کتب فروغ ہیں نہ کہ تفسیر۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9562
عدت کی حفاظت کرو ٭٭

پھر فرمان ہے ” عدت کی حفاظت کرو اور اس بارے میں اپنے ابتداء انتہا کی دیکھ بھال رکھو ایسا نہ ہو کہ عدت کی لمبائی عورت کو دوسرا خاوند کرنے سے روک دے اور اس بارے میں اپنے معبود حقیقی پروردگار عالم سے ڈرتے رہو “۔ عدت کے زمانہ میں مطلقہ عورت کی رہائش کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ اسے نکال نہ دے اور نہ خود اسے نکلنا جائز ہے کیونکہ وہ اپنے خاوند کے حق میں رکی ہوئی ہے۔

«فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے، اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ کو نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔

صفحہ نمبر9563

عدت کا زمانہ مطلقہ عورت کو خاوند کے گھر گزارنے کا حکم دینا اس مصلحت سے ہے کہ ممکن ہے اس مدت میں اس کے خاوند کے خیالات بدل جائیں، طلاق دینے پر نادم ہو، دل میں لوٹا لینے کا خیال پیدا ہو جائے اور پھر رجوع کر کے دونوں میاں بیوی امن و امان سے گزارا کرنے لگیں، نیا کام پیدا کرنے سے مراد بھی رجعت ہے۔

اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہم وغیرہ کا مذہب ہے کہ «مبتوتہ» یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لیے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لیے دینا اس کے وارثوں پر نہیں۔

ان کی اعتمادی دلیل فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔‏“

مسلم میں ہے نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا: ”تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو“، پھر فرمایا: ”وہاں تو میرے اکثر صحابہ آیا جایا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو“ ۔ [صحیح مسلم:1480] ‏

صفحہ نمبر9564

مسند احمد میں ہے کہ ان کے خاوند کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہاد پر بھیجا تھا، انہوں نے وہیں سے انہیں طلاق بھیج دی، ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر سے چلی جاؤ، انہوں نے کہا: نہیں! جب تک عدت ختم نہ ہو جائے میرا کھانا پینا اور رہنا سہنا میرے خاوند کے ذمہ ہے۔ اس نے انکار کیا، آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ یہ آخری تیسری طلاق ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”نان نفقہ، گھربار خاوند کے ذمہ اس صورت میں ہے کہ اسے حق رجعت حاصل ہو جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں، تم یہاں سے چلی جاؤ اور فلاں عورت کے گھر اپنی عدت گزارو ۔ پھر فرمایا: ”وہاں تو صحابہ کی آمد و رفت ہے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت کا زمانہ گزارو وہ نابینا ہیں تمہیں دیکھ نہیں سکتے“ ۔ [مسند احمد:373/6:ضعیف] ‏

طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ضحاک بن قیس قرشی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے، طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا، نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے، نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ ”جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے، تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں“ ۔ [سنن نسائی:3432،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر9565
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Doneren
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden