Aanmelden
Groei voorbij de Ramadan!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
6:107
ولو شاء الله ما اشركوا وما جعلناك عليهم حفيظا وما انت عليهم بوكيل ١٠٧
وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكُوا۟ ۗ وَمَا جَعَلْنَـٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍۢ ١٠٧
وَلَوۡ
شَآءَ
ٱللَّهُ
مَآ
أَشۡرَكُواْۗ
وَمَا
جَعَلۡنَٰكَ
عَلَيۡهِمۡ
حَفِيظٗاۖ
وَمَآ
أَنتَ
عَلَيۡهِم
بِوَكِيلٖ
١٠٧
En indien Allah gewild had, hadden zij (Allah) geen deelgenoten toegekend, en Wij hebben jou (O Moehammad) niet als bewaker over hen aangesteld en jij bent geen voogd over hen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 6:105tot 6:108

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پاکر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتادیا، تم نے بات ہم تک پہنچادی‘‘۔

جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لیے قابل قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہنا چاہیے جو براہِ راست خدا کی طرف سے تلقین کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے، نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامي تک جاپہنچے۔

آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتاہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہوجاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Doneren
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden