Aanmelden
Groei voorbij de Ramadan!
Leer meer
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
8:60
واعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم واخرين من دونهم لا تعلمونهم الله يعلمهم وما تنفقوا من شيء في سبيل الله يوف اليكم وانتم لا تظلمون ٦٠
وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍۢ وَمِن رِّبَاطِ ٱلْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا۟ مِن شَىْءٍۢ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ٦٠
وَأَعِدُّواْ
لَهُم
مَّا
ٱسۡتَطَعۡتُم
مِّن
قُوَّةٖ
وَمِن
رِّبَاطِ
ٱلۡخَيۡلِ
تُرۡهِبُونَ
بِهِۦ
عَدُوَّ
ٱللَّهِ
وَعَدُوَّكُمۡ
وَءَاخَرِينَ
مِن
دُونِهِمۡ
لَا
تَعۡلَمُونَهُمُ
ٱللَّهُ
يَعۡلَمُهُمۡۚ
وَمَا
تُنفِقُواْ
مِن
شَيۡءٖ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
يُوَفَّ
إِلَيۡكُمۡ
وَأَنتُمۡ
لَا
تُظۡلَمُونَ
٦٠
En brengt wat jullie kunnen aan macht bij elkaar, om hen mee te bevechten, waaronder strijdrossen om daarmee de vijanden van Allah en jullie vijanden angst aan te jagen, en ook anderen die jullie niet kennen (en) die Allah wel kent. En wat jullie ook aan bijdragen uitgeven op de Weg van Allah, Hij zal jullie volledig vergoeden. En jullie zal geen onrecht worden aangedaan.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 8:59tot 8:60
کفار کے مقابلہ کے ہر وقت تیار رہو ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے بھاگ نکلے ہم ان کی پکڑ پر قادر نہیں بلکہ وہ ہر وقت ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے۔ “

اور آیت میں ہے «أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ‏ [ 29-العنکبوت: 4 ] ‏ ” برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔“

اور جگہ فرماتا ہے «‏لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ وَلَبِئْسَ الْمَصِيرُ» [ 24-النور: 57 ] ‏ ” کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے“

اور فرمان ہے «‏لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [ 3-آل عمران: 196، 197 ] ‏ ” کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔“

پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر رکھ سکتے ہیں موجود رکھو۔ مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی اور دو مرتبہ یہی فرمایا: تیر اندازی کیا کرو سواری کیا کرو اور تیر اندازی گھوڑ سواری سے بہتر ہے۔ [صحیح مسلم:1917] ‏

فرماتے ہیں گھوڑوں کے پالنے والے تین قسم کے ہیں ایک تو اجر و ثواب پانے والے، ایک نہ تو ثواب نہ عذاب پانے والے ایک عذاب بھگتنے والے۔ جو جہاد کے ارادے سے پالے اس کے گھوڑے کا چلنا پھرنا تیرنا، چگنا باعث ثواب ہے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر کہیں چڑھ جائے تو بھی اس کے نشانات قدم اور اس کی لید پر اسے نیکیاں ملتی ہیں کسی نہر پر گزارتے ہوئے وہ پانی پی لے اگرچہ مجاہد نے پلانے کا ارادہ نہ بھی کیا ہو تاہم اسے نیکیاں ملتی ہیں۔ پس یہ گھوڑا تو اس کے پالنے والے کے لیے بڑے اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔ اور جس شخص نے گھوڑا اس نیت سے پالا کہ وہ دوسروں سے بے نیاز ہو جائے پھر اللہ کا حق بھی اس کی گردن اور اس کی سواری میں نہیں بھولا یہ اس کے لیے جائز ہے یعنی نہ اسے اجر نہ اسے گناہ۔ تیسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا کے طور پر پالا اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے وہ اس کے ذمے و بال ہے اور اس کی گردن پر بوجھ ہے [سنن ترمذي:1637،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر3348

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ اچھا گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا: اس کے بارے میں کوئی آیت تو اتری نہیں ہاں یہ جامع عام آیت موجود ہے کہ «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏ [ 99- الزلزلة: 7، 8 ] ‏ ” جو شخص ایک ذرے کے برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک ذرے کے برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔“ [صحیح بخاری:2371] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں گھوڑے تین طرح کے ہیں۔ رحمان کے شیطان کے اور انسان کے۔ اس میں ہے کی شیطانی گھوڑے وہ ہیں جو گھوڑ دوڑ کی شرطیں لگانے اور جوئے بازی کرنے کے لیے ہوں۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏

اکثر علماء کا قول ہے کہ تیر اندازی گھوڑ سواری سے افضل ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اس کے خلاف ہیں لیکن جمہور کا قول قوی ہے کہ کیونکہ حدیث میں آ چکا ہے۔ حضرت معاویہ بن خدیج سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اس وقت وہ اپنے گھوڑے کی خدمت کر رہے تھے پوچھا تمہیں یہ گھوڑا کیا کام آتا ہے؟ فرمایا ”میرا خیال ہے کہ اس جانور کی دعا میرے حق میں قبول ہو گی۔“ کہا جانور اور دعا؟ فرمایا ”ہاں اللہ کی قسم ہر گھوڑا ہرصبح دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو نے مجھے اپنے بندوں میں سے ایک کے حوالے کیا ہے تو مجھے اس کی تمام اہل سے اور مال سے اور اولاد سے زیادہ محبوب بنا کر اس کے پاس رکھ۔“ [مسند احمد:162/5:صحیح] ‏

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر عربی گھوڑے کو ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے گھوڑوں والے اللہ کی مدد میں ہیں اسے نیک نیتی سے جہاد کے ارادے سے پالنے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت ہاتھ بڑھاکر خیرات کرتا رہے۔ [سنن ابوداود:4089،قال الشيخ الألباني:صحیح موقوف] ‏

صفحہ نمبر3349

اور بھی حدیثیں اس بارے میں بہت سی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں بھلائی کی تفصیل ہے کہ اجر اور غنیمت۔ [صحیح بخاری:2850] ‏

فرماتا ہے ” اس سے تمہارے دشمن خوف زدہ اور ہیبت خوردہ رہیں گے ان ظاہری مقابلے کے دشمنوں کے علاوہ اور دشمن بھی ہیں۔ “ یعنی بنو قریظہ، فارس اور محلوں کے شیاطین۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ اس سے مراد جنات ہیں۔ ایک منکر حدیث میں ہے جس گھر میں کوئی آزاد گھوڑا ہو وہ گھر کبھی بد نصیب نہیں ہو گا۔ [طبرانی کبیر:ضعیف189/17] ‏ لیکن اس روایت کی تو سند ٹھیک ہے نہ یہ صحیح ہے۔

اور اس سے مراد منافق بھی لی گئی ہے۔ اور یہی قول زیادہ مناسب بھی ہے جیسے فرمان الٰہی ہے «‏وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ» [ 9- التوبہ: 101 ] ‏ ” تمہارے چاروں طرف دیہاتی اور شہری منافق ہیں جنہیں تم نہیں جانتے لیکن ہم ان سے خوب واقف ہیں۔“

پھر ارشاد ہے کہ ” جہاد میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ پاؤ گے۔“ ابوداؤد میں ہے کہ ایک درہم کا ثواب سات سو گنا کر کے ملے گا۔ [سنن ابوداود:2498،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

جیسے کہ «‏مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ» ‏ [ 2- البقرة: 261 ] ‏ اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی جو سوال کرے چاہے وہ کسی دین کا ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:9114/5:ضعیف] ‏ یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم نے اسے روایت کیا ہے۔

صفحہ نمبر3350
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Doneren
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden