Entrar
Cresça além do Ramadan!
Saber mais
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
10:89
قال قد اجيبت دعوتكما فاستقيما ولا تتبعان سبيل الذين لا يعلمون ٨٩
قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ٨٩
قَالَ
قَدۡ
أُجِيبَت
دَّعۡوَتُكُمَا
فَٱسۡتَقِيمَا
وَلَا
تَتَّبِعَآنِّ
سَبِيلَ
ٱلَّذِينَ
لَا
يَعۡلَمُونَ
٨٩
Disse-lhes (Deus): Vossa súplica foi atendida; apegai-vos, pois, à vossa missão e não sigais as sendas dos insipientes.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 10:88 a 10:89

جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز وسامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔دنیوی کمی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل ہونے کی قیمت۔

مزید یہ کہ جس کے پاس دنیا کی رونق اور سامان زیادہ جمع ہوجائیں وہ بڑائی کے احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھودیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان سے جاری ہونے والے حق کو پہچانیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ اپنے وسائل کو اگر وہ خدا کا عطیہ سمجھتے تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے، مگر وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اس ليے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس طرح ماحول کے اندر اپنی برتری قائم رکھیں۔

’’تاکہ وہ تیری راہ سے بھٹکائیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ديے ہوئے مال واسباب کو صرف اس لیے استعمال کیا کہ اس کے ذریعے سے خدا کے بندوں کو خدا سے دور کریں، انھوں نے اس کو حق کی خدمت میں لگانے کے بجائے باطل کی خدمت میں لگایا، یہاں شدت بیان کی خاطر کلام کا اسلوب بدل گیا ہے۔

حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سچے دین کی دعوت پیش کی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور خدا کی نصرتوں کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کی حد تک واضح کردیا، اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آنجناب کے پیغام کو نہیں مانا۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ خدایا ان کے اوپر وہ سزا نازل فرما جو تیرے قانون کے تحت ایسے سرکشوں کے لیے مقدر ہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر کی بد دعا خود خدا کے فیصلہ کا اعلان ہوتاہے جو نمائندہ خدا کی زبان سے جاری کیا جاتاہے۔

حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہوگئی۔ تاہم جیسا کہ بعض روایات میں آتاہے، حضرت موسیٰ کی دعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان 40 سال کا فاصلہ ہے(تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 38 ) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی لمبی مدت تک یہ صورت حال باقی رہی کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔ اور دوسری طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کی شان وشوکت بدستور ملک میں قائم تھی۔ ایسی حالت میں آدمی اگر خدا کی اس سنت سے بے خبر ہو کہ وہ سرکشوں کو مہلت دیتاہے تو وہ جلد بازی میں اصل کام چھوڑ دے گااور مایوسی اور بددلی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados