Entrar
Cresça além do Ramadan!
Saber mais
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
49:12
يا ايها الذين امنوا اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا ولا يغتب بعضكم بعضا ايحب احدكم ان ياكل لحم اخيه ميتا فكرهتموه واتقوا الله ان الله تواب رحيم ١٢
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌۭ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا۟ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًۭا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٌۭ رَّحِيمٌۭ ١٢
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱجۡتَنِبُواْ
كَثِيرٗا
مِّنَ
ٱلظَّنِّ
إِنَّ
بَعۡضَ
ٱلظَّنِّ
إِثۡمٞۖ
وَلَا
تَجَسَّسُواْ
وَلَا
يَغۡتَب
بَّعۡضُكُم
بَعۡضًاۚ
أَيُحِبُّ
أَحَدُكُمۡ
أَن
يَأۡكُلَ
لَحۡمَ
أَخِيهِ
مَيۡتٗا
فَكَرِهۡتُمُوهُۚ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
تَوَّابٞ
رَّحِيمٞ
١٢
Ó fiéis, evitai tanto quanto possível a suspeita, porque algumas suspeitas implicam em pecado. Não vos espreiteis, nemvos calunieis mutuamente. Quem de vós seria capaz de comer a carne do seu irmão morto? Tal atitude vos causa repulsa! Temei a Deus, porque Ele é Remissório, Misericordiosíssimo.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith

آیت 12{ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ} ”اے اہل ِایمان ! زیادہ گمان کرنے سے بچو ‘ بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں“ کسی کے بارے میں خواہ مخواہ کوئی بات فرض کر کے یا کسی سنی سنائی بات کو بنیاد بنا کر کوئی برا گمان اپنے دل میں بٹھا لینا اور منفی رائے قائم کرلینا جبکہ متعلقہ شخص نے نہ تو ویسا کوئی اقدام کیا ہو اور نہ ہی اس کے عملی رویے سے ویسی کسی بات کی تصدیق ہوتی ہو ‘ یہ ہے اس گمان کی نوعیت جس سے یہاں منع کیا جا رہا ہے۔ ایسے گمان کو بدگمانی یا سوئے ظن کہا جاتا ہے اور یہ بہتان اور تہمت کے زمرے میں آتا ہے۔ { وَّلَا تَجَسَّسُوْا } ”اور ایک دوسرے کے حالات کی ٹوہ میں نہ رہا کرو“ عام طور پر ریاستی اور حکومتی سطح پر جاسوسی کے باقاعدہ محکمے بھی ہوتے ہیں اور ظاہر ہے ضرورت کے تحت ایسا کوئی محکمہ ایک اسلامی حکومت کے تحت بھی قائم ہوسکتا ہے ‘ لیکن اس حوالے سے جو بات معیوب اور ممنوع ہے وہ افراد کی سطح پر ایک دوسرے کے حالات کے بارے میں خواہ مخواہ کا تجسس ّہے۔ جیسے بعض لوگ عادتاً دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں رہتے ہیں اور ُ کرید کرید کر جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ فلاں گھر کے اندر کیا ہو رہا ہے ؟ فلاں دو بھائیوں کے معاملات کیا ہیں ؟ اور کیا وجہ ہے کہ ابھی تک ان میں کوئی جھگڑاوغیرہ نہیں ہوا ؟ { وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا } ”اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔“ اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی غیر حاضری میں اس کی برائی بیان نہ کرے ‘ خواہ وہ برائی اس شخص میں بالفعل پائی بھی جاتی ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے غیبت کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے : ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ ”تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس انداز سے کرنا جسے وہ ناپسند کرے“۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا : ”دیکھئے ‘ اگر میرے بھائی میں وہ برائی واقعتا پائی جاتی ہو جس کا میں ذکر کرتا ہوں پھر بھی یہ غیبت ہے ؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ ‘ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ فَقَدْ بَھَتَّہُ 1 ”اگر وہ برائی اس میں موجود ہے جس کا تم ذکر کر رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی ہے ‘ اور اگر وہ برائی اس میں موجود ہی نہیں تب تو تم نے اس پر بہتان لگا دیا۔“ { اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِہْتُمُوْہُ } ”کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ اپنے ُ مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ یہ تو تمہیں بہت ناگوار لگا !“ یعنی مردہ بھائی کے گوشت کھانے والی بات یا مثال سے تو تمہیں بہت گھن محسوس ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھو ! اگر تم اپنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کرتے ہو تو اخلاقی سطح پر یہ حرکت اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ہی مترادف ہے۔ کیونکہ ایسی حرکت کا ارتکاب کر کے آپ اپنے بھائی کی عزت پر ایسی حالت میں حملہ کرتے ہیں جب وہ اس کا دفاع بھی نہیں کرسکتا۔ اگر تم اس کے سامنے اس کی برائی بیان کرتے تو وہ تمہارے الزامات کا ضرور جواب دیتا اور سو طرح سے اپنا دفاع کرتا۔ بہر حال کسی کی عدم موجودگی میں اسے برا بھلا کہنا ایسے ہے جیسے اس کی لاش آپ کے سامنے ہو اور آپ اس کی بوٹیاں نوچ رہے ہوں۔ { وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ } ”اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘ اللہ تو بہ کا بہت قبول فرمانے والا اور بہت رحم فرمانے والا ہے۔“ اس کے بعد اس سورت کا تیسرا حصہ شروع ہو رہا ہے جو بہت اہم اور عظیم مضامین پر مشتمل ہے۔ یہاں پر ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی نوٹ کرلیں کہ گزشتہ بارہ آیات میں اہل ایمان کو پانچ مرتبہ یٰٓــاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کے الفاظ میں مخاطب کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ پورے مکی قرآن میں یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کا صیغہ گویا ہے ہی نہیں۔ بہر حال اب اس مدنی سورت میں بھی خطاب کا رخ نوع انسانی کی طرف پھیرا جا رہا ہے :

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Doar
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados