Entrar
Cresça além do Ramadan!
Saber mais
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
51:52
كذالك ما اتى الذين من قبلهم من رسول الا قالوا ساحر او مجنون ٥٢
كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا۟ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ٥٢
كَذَٰلِكَ
مَآ
أَتَى
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِم
مِّن
رَّسُولٍ
إِلَّا
قَالُواْ
سَاحِرٌ
أَوۡ
مَجۡنُونٌ
٥٢
Mesmo assim, não se apresentou mensageiro algum àquelas que vos precederam, sem que dissessem: É um mago ou umenergúmeno!
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 51:52 a 51:60
تبلیغ میں صبر و ضبط کی اہمیت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کفار جو آپ کو کہتے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ان سے پہلے کا کافروں نے بھی اپنے اپنے زمانہ کے رسولوں سے یہی کہا ہے، کافروں کا یہ قول سلسلہ بہ سلسلہ یونہی چلا آیا ہے، جیسے آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کر کے جاتا ہو سچ تو یہ ہے کہ سرکشی اور سرتابی میں یہ سب یکساں ہیں اس لیے جو بات پہلے والوں کے منہ سے نکلی وہی ان کی زبان سے نکلتی ہے کیونکہ سخت دلی میں سب ایک سے ہیں پس آپ چشم پوشی کیجئے یہ مجنون کہیں، جادوگر کہیں آپ صبر و ضبط سے سن لیں ہاں نصیحت کی تبلیغ نہ چھوڑئیے، اللہ کی باتیں پہچاتے چلے جائیے۔ جن دلوں میں ایمان کی قبولیت کا مادہ ہے وہ ایک نہ ایک روز راہ پر لگ جائیں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو کسی اپنی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ صرف اس لیے کہ میں انہیں ان کے نفع کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی ناخوشی میرے معبود برحق ہونے کا اقرار کریں مجھے پہچانیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عبادتیں نفع دیتی ہیں اور بعض عبادتیں بالکل نفع نہیں پہنچاتیں جیسے قرآن میں ایک جگہ ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» ۔ [31-لقمان:25] ‏

اور دوسری آیت میں ہے کہ «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ» [29-العنکبوت:61] ‏ ” اگر تم ان کافروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یہ جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے “، تو گو یہ بھی عبادت ہے مگر مشرکوں کو کام نہ آئے گی۔ غرض عابد سب ہیں خواہ عبادت ان کے لیے نافع ہو یا نہ ہو۔ اور ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مسلمان انسان اور ایمان والے جنات ہیں۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں پڑھایا ہے «إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو القُوَّةِ المَتِينُ» یہ حدیث ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں بھی ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ [سنن ترمذي:2940،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بندگی کیلئے پیدا کیا ہے، اب اس کی عبادت یکسوئی کے ساتھ جو بجا لائے گا کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا وہ اسے پوری پوری جزا عنایت فرمائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا وہ بدترین سزائیں بھگتے گا، اللہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ کل مخلوق ہر حال اور ہر وقت میں اس کی پوری محتاج ہے بلکہ محض بے دست و پا اور سراسر فقیر ہے، خالق رزاق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

صفحہ نمبر8830

مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ تونگری اور بے نیازی سے پر کر دونگا اور تیری فقیری روک دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ہرگز بند نہ کروں گا ۔ [مسند احمد:358/2:صحیح] ‏ ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث شریف ہے، امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔

خالد کے دونوں لڑکے حبہ اور سواء رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے یا کوئی دیوار بنا رہے تھے یا کسی چیز کو درست کر رہے تھے ہم بھی اسی کام میں لگ گئے جب کام ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی“ اور فرمایا: ”سر ہل جانے تک روزی سے مایوس نہ ہونا، دیکھو انسان جب پیدا ہوتا ہے ایک سرخ بوٹی ہوتا ہے بدن پر ایک چھلکا بھی نہیں ہوتا پھر اللہ تعالیٰ اسے سب کچھ دیتا ہے“ ۔ [مسند احمد:469/3:ضعیف] ‏

بعض آسمانی کتابوں میں ہے اے ابن آدم میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تو اس سے غفلت نہ کر، تیرے رزق کا میں ضامن ہوں، تو اس میں بےجا تکلیف نہ کر، مجھے ڈھونڈ تاکہ مجھے پا لے، جب تو نے مجھے پا لیا، تو یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا اور اگر میں تجھے نہ ملا، تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا، سن تمام چیزوں سے زیادہ محبت تیرے دل میں میری ہونی چاہیئے۔ پھر فرماتا ہے یہ کافر میرے عذاب کو جلدی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ عذاب تو انہیں اپنے وقت پر پہنچ کر ہی رہیں گے جیسے ان سے پہلے کا کافروں کو پہنچے قیامت کے دن جس دن کا ان سے وعدہ ہے انہیں بڑی خرابی ہو گی۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ ذاریات کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر8831
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Doar
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados