دین میں جو فرض اعمال ہیں وہ عام انسان کی استطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقرر کیے گئے ہیں۔ مگر یہ فرائض صرف لازمی حدود کو بتاتے ہیں۔ اس لازمی حد کے آگے بھی مطلوب اعمال ہیں۔ مگر وہ نوافل ہیں۔ مثلاً پنج وقته نمازوں کے بعد تہجد، زکوۃ کے بعد مزید انفاق وغیرہ۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلے کا امتحان ہے کہ وہ کتنا زیادہ عمل کرتا ہے اور آخرت میں کتنا زیادہ انعام کا مستحق بنتا ہے۔