Identifikohu
Rrituni përtej Ramazanit!
Mëso më shumë
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën
9:65
ولين سالتهم ليقولن انما كنا نخوض ونلعب قل ابالله واياته ورسوله كنتم تستهزيون ٦٥
وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِٱللَّهِ وَءَايَـٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ ٦٥
وَلَئِن
سَأَلۡتَهُمۡ
لَيَقُولُنَّ
إِنَّمَا
كُنَّا
نَخُوضُ
وَنَلۡعَبُۚ
قُلۡ
أَبِٱللَّهِ
وَءَايَٰتِهِۦ
وَرَسُولِهِۦ
كُنتُمۡ
تَسۡتَهۡزِءُونَ
٦٥
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith
Po lexoni një tefsir për grupin e vargjeve 9:65 deri në 9:66
مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ٭٭

ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے پیٹو، اور بڑے فضول اور بڑے بزدل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یونہی وقت گزاری کے لیے ہنس بول رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تمہارے ہنسی کے لیے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو! اگر کسی کو ہم معاف کر دیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی کریں گے“،

اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا یہ کہتا ہوا ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے، مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16928:مرسل] ‏

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر وغیرہ تھے۔ یہ آپس میں کہ رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔

اس پر ان کے دوسرے سردار مخشی نے کہا: ”بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے“،

آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ یہ باتیں کر رہے تھے۔‏“

صفحہ نمبر3512

سیدنا عمار صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر ان سے یہ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی۔

ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن مخشی بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔

پس اس سے جناب باری تعالیٰ نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرتا کہ یہ دھبہ دھل جائے چنانچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہید کر دیئے گئے، اور ان کی نعش بھی نہ ملی، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ [سیرۃ ابن ہشام:121،122/4] ‏

ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے۔

صفحہ نمبر3513

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کر دیا تو یہ صاف منکر ہو گئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے۔

ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہو گا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم گو زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہو گئے۔ یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہو گا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس مقولہء کفر کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی۔

صفحہ نمبر3514
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lexoni, dëgjoni, kërkoni dhe reflektoni mbi Kuranin

Quran.com është një platformë e besueshme e përdorur nga miliona njerëz në mbarë botën për të lexuar, kërkuar, dëgjuar dhe reflektuar mbi Kuranin në gjuhë të shumta. Ajo ofron përkthime, tefsir, recitime, përkthim fjalë për fjalë dhe mjete për studim më të thellë, duke e bërë Kuranin të arritshëm për të gjithë.

Si një Sadaka Xhariyah, Quran.com është i përkushtuar për të ndihmuar njerëzit të lidhen thellë me Kuranin. I mbështetur nga Quran.Foundation , një organizatë jofitimprurëse 501(c)(3), Quran.com vazhdon të rritet si një burim falas dhe i vlefshëm për të gjithë, Elhamdulillah.

Navigoni
Shtëpi
Kuran Radio
Recituesit
Rreth Nesh
Zhvilluesit
Përditësimet e produktit
Feedback
Ndihmë
Dhuroni
Projektet tona
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projektet jofitimprurëse të zotëruara, të menaxhuara ose të sponsorizuara nga Quran.Foundation
Kërkimet e preferuara

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Harta e faqesPrivatësiaTermat dhe Kushtet
© 2026 Quran.com. Të gjitha të drejtat e rezervuara