Ingia
Jiendeleze Baada ya Ramadhani!
Jifunze zaidi
Ingia
Ingia
Chagua Lugha
106:2
ايلافهم رحلة الشتاء والصيف ٢
إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ ٢
إِۦلَٰفِهِمۡ
رِحۡلَةَ
ٱلشِّتَآءِ
وَٱلصَّيۡفِ
٢
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadithi

آیت 2{ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآئِ وَالصَّیْفِ۔ } ”یعنی سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے ان کو مانوس رکھنے کی وجہ سے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے قریش کے دلوں میں سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی الفت و محبت پیدا کردی۔ اِیْلاف : اَلِفَ یَأْلَفُ اَلْفًا سے باب افعال کا مصدر ہے ‘ یعنی مانوس کرنا اور خوگر بنانا۔ اردو میں الفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔ سورة قریش کی پہلی دو آیات میں قریش کی اس اجارہ داری کی طرف اشارہ ہے جو حضور ﷺ کی پیدائش سے قبل زمانے میں انہیں مشرق اور مغرب کی تجارت پر حاصل تھی۔ اس زمانے میں مشرق بعید کے ممالک ہندوستان ‘ جاوا ‘ ملایا ‘ سماٹرا ‘ چین وغیرہ سے بحر ہند کے راستے جو سامانِ تجارت آتا تھا وہ یمن کے ساحل پر اترتا تھا۔ دوسری طرف یورپ سے آنے والے جہاز شام اور فلسطین کے ساحل پر لنگر انداز ہوتے تھے۔ اس کے بعد یمن سے سامانِ تجارت کو شام پہنچانے اور ادھر کا سامان یمن پہنچانے کے لیے خشکی کا راستہ استعمال ہوتا تھا۔ چناچہ یمن اور شام کے درمیان اس راستے کی حیثیت اس زمانے میں گویا بین الاقوامی تجارتی شاہراہ کی سی تھی۔ ظاہر ہے یورپ کو انڈیا سے ملانے والا سمندری راستہ around the cape of good hope تو واسکوڈے گا ما نے صدیوں بعد 1498 ء میں دریافت کیا تھا ‘ جبکہ بحیرئہ احمر کو بحر روم سے ملانے والی نہر سویز 1869 ء میں بنی تھی۔ حضور ﷺ کی ولادت سے تقریباً ڈیڑھ دو سو سال پہلے تک اس تجارتی شاہراہ پر قوم سبا کی اجارہ داری تھی۔ لیکن جب ”سد مآرب“ ٹوٹنے کی وجہ سے اس علاقے میں سیلاب آیا اور اس سیلاب کی وجہ سے اس قوم کا شیرازہ بکھر گیا تو یہ شاہراہ کلی طور پر قریش مکہ کے قبضے میں چلی گئی۔ قریش مکہ چونکہ کعبہ کے متولی تھے اس لیے پورے عرب میں انہیں عزت و عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں جہاں کوئی بھی تجارتی قافلہ لٹیروں اور ڈاکوئوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں تھا وہاں قریش کے قافلوں کو پورے عرب میں کوئی میلی نظر سے بھی نہیں دیکھتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عرب کے تمام قبائل نے اپنے اپنے بت خانہ کعبہ میں نصب کر رکھے تھے۔ گویا ہر قبیلے کا ”خدا“ قریش کی مہربانی سے ہی خانہ کعبہ میں قیام پذیر تھا ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ قریش کے پاس یرغمال تھا۔ اس لیے عرب کا کوئی قبیلہ بھی ان کے قافلوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ چناچہ قریش کے قافلے سارا سال بلاخوف و خطر یمن سے شام اور شام سے یمن کے راستے پر رواں دواں رہتے تھے۔ گرمیوں کے موسم میں وہ لوگ شام و فلسطین کے سرد علاقوں جبکہ سردیوں میں یمن کے گرم علاقے کا سفر اختیار کرتے تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں ان کے اسی تجارتی سفر کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے بین الاقوامی تجارتی شاہراہ پر مکمل اجارہ داری ‘ تجارتی قافلوں کے ہمہ وقت تحفظ کی یقینی ضمانت اور موسموں کی موافقت اور مطابقت سے سرد و گرم علاقوں کے سفر کی سہولت ‘ یہ ان لوگوں کے لیے ایسی نعمتیں تھیں جس پر وہ اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کرتے کم تھا۔ اس لیے ان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا :

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Soma, Sikiliza, Tafuta, na Tafakari Qur'ani

Quran.com ni jukwaa linaloaminika na linalotumiwa na mamilioni duniani kote kusoma, kutafuta, kusikiliza na kutafakari kuhusu Qur'ani katika lugha tofauti. Inatoa huduma za tarjuma, tafsiri, vikariri, tarjuma ya neno kwa neno, na zana za ufahamu wa kina, kuifanya Qur'ani ipatikane na kila mtu.

Kama mbinu ya Sadaqah Jariyah, Quran.com imejitolea kusaidia watu kuunganishwa kwa kina na Qur'ani. Ikiungwa mkono na Quran.Foundation , shirika lisilo la faida la 501(c)(3), Quran.com inaendelea kukua kama rasilimali ya bila malipo na yenye thamani kwa wote, Alhamdulillah.

Chunguza
Nyumbani
Redio ya Qur'ani
Wasomaji
Kutuhusu
Watengenezaji
Sasisho za Bidhaa
Maoni
Msaada
Changia
Miradi Yetu
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Miradi isiyo ya faida inayomilikiwa, kusimamiwa, au kufadhiliwa na Quran.Foundation
Viungo Maarufu

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Ramani ya tovutiFaraghaSheria na Masharti
© 2026 Quran.com. Haki Zote Zimehifadhiwa