Ingia
Jiendeleze Baada ya Ramadhani!
Jifunze zaidi
Ingia
Ingia
Chagua Lugha
24:63
لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا قد يعلم الله الذين يتسللون منكم لواذا فليحذر الذين يخالفون عن امره ان تصيبهم فتنة او يصيبهم عذاب اليم ٦٣
لَّا تَجْعَلُوا۟ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًۭا ۚ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًۭا ۚ فَلْيَحْذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ٦٣
لَّا
تَجۡعَلُواْ
دُعَآءَ
ٱلرَّسُولِ
بَيۡنَكُمۡ
كَدُعَآءِ
بَعۡضِكُم
بَعۡضٗاۚ
قَدۡ
يَعۡلَمُ
ٱللَّهُ
ٱلَّذِينَ
يَتَسَلَّلُونَ
مِنكُمۡ
لِوَاذٗاۚ
فَلۡيَحۡذَرِ
ٱلَّذِينَ
يُخَالِفُونَ
عَنۡ
أَمۡرِهِۦٓ
أَن
تُصِيبَهُمۡ
فِتۡنَةٌ
أَوۡ
يُصِيبَهُمۡ
عَذَابٌ
أَلِيمٌ
٦٣
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadithi
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنے کے آداب ٭٭

لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بلاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پکار لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ ” نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ یا رسول اللہ کہہ کر پکارو۔ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور عزت وادب کا پاس رہے “۔

اسی کے مثل آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ» [2-البقرة:104] ‏ ہے اور اسی جیسی آیات «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [49-الحجرات:2-5] ‏ ہے یعنی ” ایمان والو! اپنی آوازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پربلند نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اونچی اونچی آوازوں سے نہ بولو جیسے کہ بے تکلفی سے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اگر ایسا کیا تو سب اعمال غارت ہو جائیں گے اور پتہ بھی نہ چلے “۔

یہاں تک کہ فرمایا ” جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس آ جاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا “۔

پس یہ سب آداب سکھائے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کس طرح کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح بولیں چالیں بلکہ پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشیاں کرنے کے لیے صدقہ کرنے کا بھی حکم تھا۔

صفحہ نمبر5995

ایک مطلب تو اس آیت کا یہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو تم اپنی دعاؤں کی طرح سمجھو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مقبول و مستجاب ہے۔ خبردار کبھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دینا کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے منہ سے کوئی کلمہ نکل جائے تو تہس نہس ہو جاؤ “۔

اس سے اگلے جملے کی تفسیر میں مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پر بہت بھاری پڑتا تھا جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیتے اس لیے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہو جاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے۔‏“

صفحہ نمبر5996

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جماعت میں جب منافق ہوتے تو ایک دوسرے کی آڑ لے کر بھاگ جاتے۔ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اللہ کی کتاب سے ہٹ جاتے، صف سے نکل جاتے، مخالفت پر آمادہ ہو جاتے۔ جو لوگ امر رسول، سنت رسول، فرمان رسول، طریقہ رسول اور شرع رسول کے خلاف کریں وہ سزا یاب ہونگے۔ انسان کو اپنے اقوال وافعال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں اور احادیث سے ملانے چاہئیں جو موافق ہوں اچھے ہیں جو موافق نہ ہوں مردود ہے۔‏“

بخاری مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے ۔ [صحیح بخاری:2697] ‏

ظاہر یا باطن میں جو بھی ہے شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کرے اس کے دل میں کفر ونفاق، بدعت وبرائی کا بیج بودیا جاتا ہے یا اسے سخت عذاب ہوتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی قتل قید حد وغیر جیسی سزائیں ملتی ہیں یا آخرت میں عذاب اخروی ملے گا۔

صفحہ نمبر5997

مسند احمد میں حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب وہ روشن ہوئی تو پتنگوں اور پروانوں کا اجتماع ہوگیا اور وہ دھڑا دھڑ اس میں گرنے لگے۔ اب یہ انہیں ہر چند روک رہا ہے لیکن وہ ہیں شوق سے اس میں گرے جاتے ہیں اور اس شخص کے روکنے سے نہیں روکتے۔ یہی حالت میری اور تمہاری ہے کہ تم آگ میں گرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں اپنی بانہوں میں لپیٹ لپیٹ کر اس سے روک رہا ہوں کہ آگ میں نہ گھسو، آگ سے بچو لیکن تم میری نہیں مانتے اور اس آگ میں گھسے چلے جا رہے ہو ۔ [صحیح بخاری:6483] ‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔

صفحہ نمبر5998
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Soma, Sikiliza, Tafuta, na Tafakari Qur'ani

Quran.com ni jukwaa linaloaminika na linalotumiwa na mamilioni duniani kote kusoma, kutafuta, kusikiliza na kutafakari kuhusu Qur'ani katika lugha tofauti. Inatoa huduma za tarjuma, tafsiri, vikariri, tarjuma ya neno kwa neno, na zana za ufahamu wa kina, kuifanya Qur'ani ipatikane na kila mtu.

Kama mbinu ya Sadaqah Jariyah, Quran.com imejitolea kusaidia watu kuunganishwa kwa kina na Qur'ani. Ikiungwa mkono na Quran.Foundation , shirika lisilo la faida la 501(c)(3), Quran.com inaendelea kukua kama rasilimali ya bila malipo na yenye thamani kwa wote, Alhamdulillah.

Chunguza
Nyumbani
Redio ya Qur'ani
Wasomaji
Kutuhusu
Watengenezaji
Sasisho za Bidhaa
Maoni
Msaada
Changia
Miradi Yetu
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Miradi isiyo ya faida inayomilikiwa, kusimamiwa, au kufadhiliwa na Quran.Foundation
Viungo Maarufu

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Ramani ya tovutiFaraghaSheria na Masharti
© 2026 Quran.com. Haki Zote Zimehifadhiwa