Ingia
Jiendeleze Baada ya Ramadhani!
Jifunze zaidi
Ingia
Ingia
Chagua Lugha
56:71
افرايتم النار التي تورون ٧١
أَفَرَءَيْتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى تُورُونَ ٧١
أَفَرَءَيۡتُمُ
ٱلنَّارَ
ٱلَّتِي
تُورُونَ
٧١
Tafsir
Tabaka
Mafunzo
Tafakari
Majibu
Qiraat
Hadithi
Unasoma tafsir kwa kundi la aya 56:63 hadi 56:74
آگ اور پانی کا خالق کون؟ ٭٭

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو، زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو، پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟ نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا، انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔

ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ذَرْعَتُ» نہ کہا کرو بلکہ «حَرَثْتُ» کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33492] ‏

امام حجر مدری رحمہ اللہ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے «بَلْ اَنْتَ یَا رَبَّی» ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔

پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بے نشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آ گئی، ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی، بڑا نقصان ہو گیا، نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہو گئی، غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ۔ کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ «تَفَكَّه» کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے۔

«مُزْن» بادل کو کہتے ہیں۔ پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے؟ اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ، دھوؤ، کپڑے صاف کرو، کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو، جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا» یعنی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا۔

عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں؟ اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔ قتادہ رحمہ اللہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہی بہت کچھ ہے آپ نے فرمایا: ”ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔‏“ یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور باکل صحیح ہے۔ [مسند احمد244/2:صحیح] ‏

«مُقْوِينَ» مراد مسافر ہیں، بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔ بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔ غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر، فقیر، شہری، دیہاتی، مسافر، مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لیے، تاپنے کیلئے، روشنی کیلئے وغیرہ۔ پھر اللہ کی کریمی کو دیکھئے کہ پتھروں میں لوہے میں اس نے اسے رکھ دیا تاکہ مسافر اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے۔

ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی۔‏“ [سنن ابوداود:3477،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں۔ [سنن ابن ماجہ:2473،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک روایت میں ان کی قیمت کا ذکر بھی ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے [سنن ابن ماجہ:2472،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر9237

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لیے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لیے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لیے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔

صفحہ نمبر9238
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Soma, Sikiliza, Tafuta, na Tafakari Qur'ani

Quran.com ni jukwaa linaloaminika na linalotumiwa na mamilioni duniani kote kusoma, kutafuta, kusikiliza na kutafakari kuhusu Qur'ani katika lugha tofauti. Inatoa huduma za tarjuma, tafsiri, vikariri, tarjuma ya neno kwa neno, na zana za ufahamu wa kina, kuifanya Qur'ani ipatikane na kila mtu.

Kama mbinu ya Sadaqah Jariyah, Quran.com imejitolea kusaidia watu kuunganishwa kwa kina na Qur'ani. Ikiungwa mkono na Quran.Foundation , shirika lisilo la faida la 501(c)(3), Quran.com inaendelea kukua kama rasilimali ya bila malipo na yenye thamani kwa wote, Alhamdulillah.

Chunguza
Nyumbani
Redio ya Qur'ani
Wasomaji
Kutuhusu
Watengenezaji
Sasisho za Bidhaa
Maoni
Msaada
Changia
Miradi Yetu
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Miradi isiyo ya faida inayomilikiwa, kusimamiwa, au kufadhiliwa na Quran.Foundation
Viungo Maarufu

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

Ramani ya tovutiFaraghaSheria na Masharti
© 2026 Quran.com. Haki Zote Zimehifadhiwa