ลงชื่อเข้าใช้
เติบโตเหนือรอมฎอน!
เรียนรู้เพิ่มเติม
ลงชื่อเข้าใช้
ลงชื่อเข้าใช้
เลือกภาษา
17:60
واذ قلنا لك ان ربك احاط بالناس وما جعلنا الرويا التي اريناك الا فتنة للناس والشجرة الملعونة في القران ونخوفهم فما يزيدهم الا طغيانا كبيرا ٦٠
وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِٱلنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا ٱلرُّءْيَا ٱلَّتِىٓ أَرَيْنَـٰكَ إِلَّا فِتْنَةًۭ لِّلنَّاسِ وَٱلشَّجَرَةَ ٱلْمَلْعُونَةَ فِى ٱلْقُرْءَانِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَـٰنًۭا كَبِيرًۭا ٦٠
وَإِذۡ
قُلۡنَا
لَكَ
إِنَّ
رَبَّكَ
أَحَاطَ
بِٱلنَّاسِۚ
وَمَا
جَعَلۡنَا
ٱلرُّءۡيَا
ٱلَّتِيٓ
أَرَيۡنَٰكَ
إِلَّا
فِتۡنَةٗ
لِّلنَّاسِ
وَٱلشَّجَرَةَ
ٱلۡمَلۡعُونَةَ
فِي
ٱلۡقُرۡءَانِۚ
وَنُخَوِّفُهُمۡ
فَمَا
يَزِيدُهُمۡ
إِلَّا
طُغۡيَٰنٗا
كَبِيرٗا
٦٠
[60] และจงรำลึกเมื่อเรากล่าวแก่เจ้าว่า แท้จริงพระเจ้าของเจ้าทรงรอบรู้ในเรื่องของมนุษย์และเรามิได้ทำให้การฝันซึ่งเราได้ให้เจ้าเห็นเพื่ออื่นใด เว้นแต่เพื่อเป็นการทดสอบแก่มนุษย์และต้นไม้ (ซักกูม) ที่ถูกสาปในอัลกุรอาน และเราได้ทำให้พวกเขาหวาดกลัว ดังนั้น มันมิได้เพิ่มสิ่งใดแก่พวกเขา นอกจากการดื้อรั้นมาก
ตัฟซีร
ชั้นต่างๆ
บทเรียน
ภาพสะท้อน
คำตอบ
กิรอต
หะดีษ

آیت 60 وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ قرآن حکیم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ مثلاً : وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآءِہِمْ مُّحِیْطٌ البروج ”اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے“۔ یہ لوگ جب ایسی آیات سنتے ہیں تو ڈرنے کی بجائے فضول بحث پر اتر آتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کہاں ہے اللہ ؟ ہمارا احاطہ کیوں کر ہوا ہے ؟اگر فلسفیانہ پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں ”حقیقت و ماہیت وجود“ کے موضوع سے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے جو فلسفے کا مشکل ترین مسئلہ ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا نہیں ہے یعنی ایک وجود خالق کا ہے وہ ہر جگہ ہر آن موجود ہے اور ایک وجود مخلوق یعنی اس کائنات کا ہے۔ اب خالق و مخلوق کے مابین ربط کیا ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ لوگ ”ہمہ اوست“ Pantheism کے قائل ہوگئے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ کائنات ہی خدا ہے خدا نے ہی کائنات کا روپ دھار لیا ہے جیسے خدا خود ہی انسانوں کا روپ دھار کر ”اوتار“ کی صورت میں زمین پر آجاتا ہے۔ یہ بہت بڑا کفر اور شرک ہے۔ دوسری طرف اگر یہ سمجھیں کہ اللہ کا وجود اس کائنات میں نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا وجود کہیں الگ ہے اور وہ نعوذ باللہ کہیں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمیں بس اس قدر سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کا وجودمطلق Absolute ہے۔ وہ حدود وقیود زمان و مکان کسی سمت یا جہت کے تصور سے ماوراء وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ یہاں پر لفظ ”رؤیا“ خواب کے معنی میں نہیں آیا بلکہ اس سے رُؤیت بصری مراد ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتا ہے اس پر بھی ”رؤیا“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں حضور کو جو مشاہدات کرائے تھے اور جو نشانیاں آپ کو دکھائی تھیں ان کی تفصیل جب کفار مکہ نے سنی تو یہ معاملہ ان کے لیے ایک فتنہ بن گیا۔ وہ نہ صرف خود اس کے منکر ہوئے ‘ بلکہ اس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے پوری شد و مد سے یہ پرچار شروع کردیا کہ محمد پر جنون کے اثرات ہوچکے ہیں معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ اس زمانے میں جب مکہ سے بیت المقدس پہنچنے میں پندرہ دن لگتے تھے یہ دعویٰ انتہائی ناقابل یقین معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص راتوں رات نہ صرف بیت المقدس سے ہو آیا ہے بلکہ آسمانوں کی سیر بھی کر آیا ہے۔ چناچہ انہوں نے موقع غنیمت سمجھ کر اس موضوع کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے بڑھ چڑھ کر بحث مباحثے کیے۔ اس طرح نہ صرف یہ بات کفار کے لیے فتنہ بن گئی بلکہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک آزمائش قرار پائی۔ جب یہی ناقابل یقین بات ان لوگوں نے حضرت ابوبکر سے کی اور آپ سے تبصرہ چاہا تو آپ نے بلا توقف جواب دیا کہ اگر واقعی حضور نے ایسا فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے کیونکہ جب میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کے پاس آسمانوں سے ہر روز فرشتہ آتا ہے تو مجھے آپ کا یہ دعویٰ تسلیم کرنے میں آخر کیونکر تامل ہوگا کہ آپ راتوں رات آسمانوں کی سیر کر آئے ہیں ! اسی بلا تامل تصدیق کی بنا پر اس دن سے حضرت ابوبکر کا لقب ”صدیق اکبر“ قرار پایا۔ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ اسی طرح جب قرآن میں زقوم کے درخت کا ذکر آیا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اس درخت کی جڑیں جہنم کی تہہ میں ہوں گی الصافات : 64 اور وہاں سے یہ جہنم کی آگ میں پروان چڑھے گا تو یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بن گئی۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اسے اللہ کی قدرت سمجھ کر تسلیم کرلیتے الٹے اس بات پر تمسخر اور استہزا کرنے لگے کہ آگ کے اندر بھلا درخت کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ؟ انہیں کیا معلوم کہ یہ اس عالم کی بات ہے جس کے طبعی قوانین اس دنیا کے طبعی قوانین سے مختلف ہوں گے اور جہنم کی آگ کی نوعیت اور کیفیت بھی ہماری دنیا کی آگ سے مختلف ہوگی۔وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًاقرآن میں یہ سب باتیں انہیں خبردار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں مگر یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ڈرنے اور ایمان لانے کی بجائے وہ مزید سرکش ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی سرکشی میں روز بروز مزید اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
อ่าน ฟัง ค้นหา และไตร่ตรองคัมภีร์อัลกุรอาน

Quran.com คือแพลตฟอร์มที่ผู้คนหลายล้านคนทั่วโลกไว้วางใจให้ใช้เพื่ออ่าน ค้นหา ฟัง และใคร่ครวญอัลกุรอานในหลากหลายภาษา Quran.com มีทั้งคำแปล ตัฟซีร บทอ่าน คำแปลทีละคำ และเครื่องมือสำหรับการศึกษาอย่างลึกซึ้ง ทำให้ทุกคนสามารถเข้าถึงอัลกุรอานได้

ในฐานะซอดาเกาะฮ์ ญาริยาห์ Quran.com มุ่งมั่นที่จะช่วยให้ผู้คนเชื่อมโยงกับอัลกุรอานอย่างลึกซึ้ง Quran.com ได้รับการสนับสนุนจาก Quran.Foundation ซึ่งเป็นองค์กรไม่แสวงหาผลกำไร 501(c)(3) และยังคงเติบโตอย่างต่อเนื่องในฐานะแหล่งข้อมูลฟรีที่มีคุณค่าสำหรับทุกคน อัลฮัมดุลิลลาฮ์

นำทาง
หน้าหลัก
วิทยุอัลกุรอาน
ผู้อ่าน
เกี่ยวกับเรา
นักพัฒนา
อัพเดทผลิตภัณฑ์
แนะนำติชม
ช่วยเหลือ
บริจาค
โครงการของเรา
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
โครงการไม่แสวงหากำไรที่เป็นเจ้าของ บริหารจัดการ หรือได้รับการสนับสนุนโดย Quran.Foundation
ลิงค์ยอดนิยม

อายะห์กุรซี

ยาซีน

อัลมุลก์

อัรเราะห์มาน

อัลวากิอะฮ์

อัลกะห์ฟ

อัลมุซซัมมิล

แผนผังเว็บไซต์ความเป็นส่วนตัวข้อกำหนดและเงื่อนไข
© 2026 Quran.com. สงวนลิขสิทธิ์