سائن ان کریں۔
رمضان سے آگے بڑھیں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
11:103
ان في ذالك لاية لمن خاف عذاب الاخرة ذالك يوم مجموع له الناس وذالك يوم مشهود ١٠٣
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّجْمُوعٌۭ لَّهُ ٱلنَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌۭ مَّشْهُودٌۭ ١٠٣
اِنَّ
فِىۡ
ذٰ لِكَ
لَاٰيَةً
لِّمَنۡ
خَافَ
عَذَابَ
الۡاٰخِرَةِ​ ؕ
ذٰ لِكَ
يَوۡمٌ
مَّجۡمُوۡعٌ  ۙ  
لَّهُ
النَّاسُ
وَذٰ لِكَ
يَوۡمٌ
مَّشۡهُوۡدٌ‏
١٠٣
یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہوں وہ ایک ایسا دن ہے جس میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور وہ دن ہے پیشی کا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 11:102 سے 11:105 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔

ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔

پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں