انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ (جام زریں) پایا جائے وہ خود ہی اس کا بدلہ ہوگا۔ ہم تو اسی طریقے سے ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
{ قَالُوا جَزَاؤُهُ مَنْ وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ } أي: الموجود في رحله { جَزَاؤُهُ } بأن يتملكه صاحب السرقة، وكان هذا في دينهم أن السارق إذا ثبتت عليه السرقة كان ملكا لصاحب المال المسروق، ولهذا قالوا:{ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ }
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel