پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں سوار ہوئے ایک کشتی میں تو اس نے اس (کشتی) میں شگاف ڈال دیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ہے تاکہ غرق کردیں اس کے تمام سواروں کو ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی غلط کام کیا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
{ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا ْ} أي: اقتلع الخضر منها لوحا، وكان له مقصود في ذلك، سيبينه، فلم يصبر موسى عليه السلام، لأن ظاهره أنه منكر، لأنه عيب للسفينة، وسبب لغرق أهلها، ولهذا قال موسى:{ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا ْ} أي: عظيما شنيعا، وهذا من عدم صبره عليه السلام
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel