جب تم لے رہے تھے اسے اپنی زبانوں سے اور تم اپنے مونہوں سے وہ کچھ کہہ رہے تھے جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں تھا اور تم اسے معمولی سمجھ رہے تھے جبکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات تھی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
حين تتلقفون الإفك وتتناقلونه بأفواهكم، وهو قول باطل، وليس عندكم به علم، وهما محظوران: التكلم بالباطل، والقول بلا علم، وتظنون ذلك شيئًا هيِّنًا، وهو عند الله عظيم. وفي هذا زجر بليغ عن التهاون في إشاعة الباطل.
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel