الم تر ان الله يزجي سحابا ثم يولف بينه ثم يجعله ركاما فترى الودق يخرج من خلاله وينزل من السماء من جبال فيها من برد فيصيب به من يشاء ويصرفه عن من يشاء يكاد سنا برقه يذهب بالابصار ٤٣
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ ہانک کر لاتا ہے بادلوں کو پھر وہ انہیں آپس میں جوڑ دیتا ہے پھر انہیں تہ بر تہ کردیتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ بارش ان کے درمیان میں سے برستی ہے اور اللہ آسمان سے۔۔ اس کے اندر کے پہاڑوں سے۔۔ اولے برساتا ہے تو وہ پہنچاتا ہے ان (اولوں) کو جس پر چاہتا ہے اور ان کا رخ پھیر دیتا ہے جس سے چاہتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی کوند لوگوں کی نگاہوں کو اچک لے جائے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 24:43 سے 24:49 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا
From the sky mountains (of clouds) having hail in them - 43.
Here the word سَمَاء is purported for clouds, and Jibal جِبَالٍ (mountains) for big masses of clouds, while hails are called Barad.
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel