سائن ان کریں۔
رمضان سے آگے بڑھیں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
43:51
ونادى فرعون في قومه قال يا قوم اليس لي ملك مصر وهاذه الانهار تجري من تحتي افلا تبصرون ٥١
وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِى قَوْمِهِۦ قَالَ يَـٰقَوْمِ أَلَيْسَ لِى مُلْكُ مِصْرَ وَهَـٰذِهِ ٱلْأَنْهَـٰرُ تَجْرِى مِن تَحْتِىٓ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ٥١
وَنَادٰى
فِرۡعَوۡنُ
فِىۡ
قَوۡمِهٖ
قَالَ
يٰقَوۡمِ
اَلَيۡسَ
لِىۡ
مُلۡكُ
مِصۡرَ
وَهٰذِهِ
الۡاَنۡهٰرُ
تَجۡرِىۡ
مِنۡ
تَحۡتِىۡ​ۚ
اَفَلَا
تُبۡصِرُوۡنَؕ‏
٥١
اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 51 { وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ } ”اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا“ { قَالَ یٰـــقَوْمِ اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ } ”اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟“ نوٹ کیجیے ! یہ سیاسی شرک شرک کی بد ترین قسم ہے۔ حاکمیت صرف اللہ کی ہے ‘ اس کے علاوہ جو کوئی بھی حاکمیت کا مدعی ہو ‘ چاہے وہ ایک فرد ہو ‘ ایک قوم ہو یا پوری نسل انسانی ‘ وہ اللہ کے ساتھ برابری کا دعویدار ہے۔ اور فرعون نے خدائی کا دعویٰ اسی مدعیت کے ساتھ اور اسی مفہوم میں کیا تھا ‘ ورنہ وہ زمین و آسمان کے خالق ہونے کا دعویدار تو ہرگز نہیں تھا۔ وہ خود بھی جانتا تھا کہ جس طرح تمام انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی اسی طرح پیدا ہوا ہے اور سب کی نظروں کے سامنے پلابڑھا ہے۔ چناچہ اس کے خدائی کے دعوے کی اصل حقیقت یہی تھی کہ وہ حاکمیت ِمطلق کا دعویدار تھا ‘ جو کہ صرف اور صرف اللہ کا حق ہے۔ Divine Rights of the Kings کا ذکر آپ کو اہل یورپ کی تاریخ میں بھی ملے گا۔ ان کے ہاں بھی قدیم زمانے سے یہ تصور چلا آ رہا ہے کہ بادشاہوں کو خدائی اختیارات حاصل ہیں ‘ ان کا اختیار مطلق ہے ‘ وہ final legistative authority ہیں۔ ان کی مرضی ہے وہ جو چاہیں قانون بنا دیں۔ جبکہ یہ سوچ اور یہ دعویٰ بد ترین شرک ہے ‘ جسے اہل یورپ نے دور حاضر میں جمہوریت کے نام سے عوام الناس میں تقسیم کردیا ہے۔ چناچہ جو گندگی کسی زمانے میں فرعون یا نمرود کے سر پر ٹنوں کے حساب سے لدی ہوتی تھی اسے انہوں نے تولوں اور ماشوں میں تقسیم کر کے اپنے ہر شہری کی جیب میں ڈال دیا ہے ‘ کہ یہ لو ووٹ کی اس پرچی کے بل پر اب تم میں سے ہر ایک حکومت میں حصہ دار ہے۔ اب تم اپنی اکثریت کے ذریعے جو قانون چاہو بنا لو۔ علامہ اقبال نے اپنی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں اس شیطانی فریب کو خوب بےنقاب کیا ہے۔ ابلیس کا ایک مشیر اقبالؔ کے الفاظ میں دوسرے مشیر سے کہتا ہے : ؎ خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر ؟rُتو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر !کہ اب دنیا میں سلطانی جمہور عوام کی حکمرانی کے نام پر جو شور و غوغا اٹھا ہے وہ ابلیسی نظام کے لیے ایک بہت بڑا فتنہ اور خطرہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمارے سب ہتھکنڈوں کا توڑ ڈھونڈنے پر تلا بیٹھا ہے۔ اگر انسانوں کا بنایا ہوا عوامی حاکمیت کا یہ سکہ دنیا میں چل گیا تو ہمارا کاروبار تو ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اس کی اس بات پر دوسرا مشیر کہتا ہے : ؎ہوں ‘ مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے جو ملوکیت کا اک پردہ ہو کیا اس سے خطر !کہ میں اس ”فتنے“ کی اصلیت سے خوب باخبر ہوں ‘ بہر حال تشویش کی کوئی بات نہیں۔ یہ جمہوریت بھی ملوکیت ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے : ؎ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر !اصل میں جب ہم نے دیکھا کہ انسان اپنے ”بنیادی حقوق“ کے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساس ہوتا چلا جا رہا ہے تو ہم نے ”شاہی“ کو ”جمہوری“ لباس پہنا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ لو بھئی اب تو تمہارا عام شخص بھی حاکم بن گیا ہے ‘ اب تو ہر شہری کو شاہی اختیار میں سے برابر کا حصہ مل گیا ہے۔ لہٰذا سلطانی ٔ جمہور کا یہ شوشہ ہماری ”ابلیسیت“ کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ ہمارا اپنا ہی تیار کردہ منصوبہ ہے۔ ملوکیت اور جمہوریت کی حقیقت کو اس مثال سے سمجھنا چاہیے کہ گندگی تو گندگی ہی ہے چاہے ٹنوں کے حساب سے کسی ایک شخص کے سر پر لاد دی جائے یا ایک کروڑ انسانوں میں تولہ تولہ ماشہ ماشہ تقسیم کردی جائے۔ چناچہ فرعون کو اسی ”خدائی“ کا دعویٰ تھا اور اس نے اپنی ”خدائی“ کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے اعلان کیا کہ لوگو ! دیکھو کیا مصر کی حکومت میرے قبضے میں نہیں ہے ؟ { وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ } ”اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟“ اس فقرے کا مفہوم ہمارے ہاں عام طور پر یوں سمجھ لیا جاتا ہے جیسے فرعون نے اپنے محل کے نیچے بہنے والے دریا کا ذکر کیا تھا ‘ جبکہ اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ملک کے اندر آب پاشی کا پورا نظام جس پر تمہاری معیشت کا انحصار ہے ‘ میرے حکم کے تابع ہے۔ میں جسے چاہوں اور جس قدر چاہوں پانی مہیا کروں۔ جس کو چاہوں کم پانی دوں ‘ جس کو چاہوں زیادہ دوں اور جسے چاہوں پانی سے محروم کر دوں ‘ مجھے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ { اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟“

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں