سائن ان کریں۔
رمضان سے آگے بڑھیں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
4:59
يا ايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم فان تنازعتم في شيء فردوه الى الله والرسول ان كنتم تومنون بالله واليوم الاخر ذالك خير واحسن تاويلا ٥٩
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَأُو۟لِى ٱلْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍۢ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ٥٩
يٰۤـاَيُّهَا
الَّذِيۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اَطِيۡـعُوا
اللّٰهَ
وَاَطِيۡـعُوا
الرَّسُوۡلَ
وَاُولِى
الۡاَمۡرِ
مِنۡكُمۡ​ۚ
فَاِنۡ
تَنَازَعۡتُمۡ
فِىۡ
شَىۡءٍ
فَرُدُّوۡهُ
اِلَى
اللّٰهِ
وَالرَّسُوۡلِ
اِنۡ
كُنۡـتُمۡ
تُؤۡمِنُوۡنَ
بِاللّٰهِ
وَالۡيَـوۡمِ
الۡاٰخِرِ​ ؕ
ذٰ لِكَ
خَيۡرٌ
وَّاَحۡسَنُ
تَاۡوِيۡلًا‏
٥٩
اے اہل ایمان ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے اولوالامر کی بھی (اطاعت کرو) پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف رائے ہوجائے تو اسے لوٹا دو اللہ اور رسول کی طرف اگر تم واقعتا اللہ پر اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو یہی طریقہ بہتر بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے بھی بہت مفید ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

فرمایا :آیت 59 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ یعنی کوئی قانون اللہ اور اس کے رسول کی منشا کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔ اصولی طور پر یہ بات پاکستان کے دستور میں بھی تسلیم کی گئی ہے : " No Legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah."لیکن اس کی تنفیذ و تعمیل کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے ‘ لہٰذا اس وقت ہمارا دستور منافقت کا پلندہ ہے۔ اس آیت کی رو سے اللہ کے احکام اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکام قانون سازی کے دو مستقل ذرائع sources ہیں۔ اس طرح یہاں منکرین سنت کی نفی ہوتی ہے جو مؤخر الذکر کا انکار کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی فرمایا :وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ج یہاں بہت عجیب اسلوب ہے کہ تین ہستیوں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے : اللہ کی ‘ رسول کی اور اولوالامر کی ‘ لیکن پہلے دو کے لیے اَطِیْعُوْا“ کا لفظ آیا ہے ‘ جبکہ تیسرے کے لیے نہیں ہے۔ ایک اسلوب یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اَطِیْعُوْا“ ایک مرتبہ آجاتا اور اس کا اطلاق تینوں پر ہوجاتا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ ‘۔ اس طرح تینوں برابر ہوجاتے۔ دوسرا اسلوب یہ ہوسکتا تھا کہ اَطِیْعُواتیسری مرتبہ بھی آتا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاَطِیْعُوْا اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ“۔ لیکن قرآن نے جو اسلوب اختیار کیا ہے کہ اَطِیْعُوا“ دو کے ساتھ ہے ‘ تیسرے کے ساتھ نہیں ہے ‘ اس سے اولوالامر کی اطاعت کا مرتبہ status متعینّ ہوجاتا ہے۔ ایک تو مِنْکُمْ“ کی شرط سے واضح ہوگیا کہ اولوالامر تم ہی میں سے ہونے چاہئیں ‘ یعنی مسلمان ہوں۔ غیر مسلم کی حکومت کو ذہناً تسلیم کرنا اللہ سے بغاوت ہے۔ وہ کم از کم مسلمان تو ہوں۔ پھر یہ کہ متذکرہ بالا اسلوب سے واضح ہوگیا کہ ان کی اطاعت مطلق ‘ دائم اور غیر مشروط نہیں۔ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت مطلق ‘ دائم ‘ غیر مشروط اور غیر محدود ہے ‘ لیکن صاحب امر کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہوگی۔ وہ جو حکم بھی لائے اسے بتانا ہوگا کہ میں کتاب و سنت سے کیسے اس کا استنباط کر رہا ہوں۔ گویا اسے کم از کم یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ حکم کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہے۔ ایک مسلمان ریاست میں قانون سازی اسی بنیاد پر ہوسکتی ہے۔ دور جدید میں قانون ساز ادارہ کوئی بھی ہو ‘ کانگریس ہو ‘ پارلیمنٹ ہو یا مجلس ملی ہو ‘ وہ قانون سازی کرے گی ‘ لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ یہ قانون سازی قرآن وسنت سے متصادم نہ ہو۔ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ اولوالامرک ہے کہ میں تو اسے عین اسلام کے مطابق سمجھتا ہوں ‘ لیکن آپ کہیں کہ نہیں ‘ یہ بات خلاف اسلام ہے ‘ تو اب کہاں جائیں ؟ فرمایا :فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ یعنی اب جو بھی اپنی بات ثابت کرنا چاہتا ہے اسے اللہ اور اس کے رسول سے یعنی قرآن و سنت سے دلیل لانی پڑے گی۔ میری پسند ‘ میرا خیال ‘ میرا نظریہ والا استدلال قابل قبول نہیں ہوگا۔ استدلال کی بنیاد اللہ اور اس کے رسول کی مرضی ہوگی۔ یہ بات ماننی پڑے گی کہ ابھی یہاں ایک خلا ہے۔ وہ خلا یہ ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ فریقین میں سے کس کی رائے صحیح ہے۔ اور آج کے ریاستی نظام میں آکر وہ خلا پر ہوچکا ہے کہ یہ عدلیہ Judiciary کا کام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب عرب میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو اس طرح علیحدہ علیحدہ ریاستی ادارے ابھی پوری طرح وجود میں نہیں آئے تھے اور ان کی الگ الگ شناخت نہیں تھی کہ یہ مقننہ Legislature ہے ‘ یہ عدلیہ Judiciary ہے اور یہ انتظامیہ Executive ہے۔ حضرت ابوبکر رض کے زمانے میں تو کوئی قاضی تھے ہی نہیں۔ سب سے پہلے حضرت عمر رض نے شعبہ قضاء شروع کیا۔ تو رفتہ رفتہ یہ ریاستی ادارے پروان چڑھے۔ جدید دور میں ان تنازعات کے حل کا ادارہ عدلیہ ہے۔ وہاں ہر شخص جائے اور اپنی دلیل پیش کرے۔ علماء جائیں ‘ قانون دان جائیں اور سب جا کر دلائل دیں۔ وہاں سے فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ بات واقعتا قرآن و سنت سے متصادم ہے یا نہیں۔ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلاً آگے پھر منافقین کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ میں نے آغاز میں عرض کیا تھا کہ اس سورة مبارکہ کا سب سے بڑا حصہ منافقین سے خطاب اور ان کے تذکرے پر مشتمل ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں