اور (اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
قال تعالى في كفار مكة ﴿وَأَ﴾ن مُخَفَّفَة مِنْ الثَّقِيلَة وَاسْمهَا مَحْذُوف أَيْ وَأَنَّهُمْ وَهُوَ مَعْطُوف عَلَى «أَنَّهُ ٱسۡتَمَعَ» ﴿لَّوِ ٱسۡتَقَـٰمُوا۟ عَلَى ٱلطَّرِیقَةِ﴾ أَيْ طَرِيقَة الْإِسْلَام ﴿لَأَسۡقَیۡنَـٰهُم مَّاۤءً غَدَقࣰا ١٦﴾ كثيرا من السماء وذلك بعد ما رُفِعَ الْمَطَر عَنْهُمْ سَبْع سِنِينَ
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel