سائن ان کریں۔
رمضان سے آگے بڑھیں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
7:152
ان الذين اتخذوا العجل سينالهم غضب من ربهم وذلة في الحياة الدنيا وكذالك نجزي المفترين ١٥٢
إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُفْتَرِينَ ١٥٢
اِنَّ
الَّذِيۡنَ
اتَّخَذُوا
الۡعِجۡلَ
سَيَنَالُهُمۡ
غَضَبٌ
مِّنۡ
رَّبِّهِمۡ
وَذِلَّـةٌ
فِى
الۡحَيٰوةِ
الدُّنۡيَا​ ؕ
وَكَذٰلِكَ
نَجۡزِىۡ
الۡمُفۡتَرِيۡنَ‏
١٥٢
یقیناً جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا عنقریب ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں) اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں بہتان باندھنے والوں کو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 7:152 سے 7:153 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے کو یہاں افتراء (جھوٹ باندھنا) کہاگیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ باطل کام حق کے نام پر کیا تھا۔ انھوںنے اپنا یہ کام خدا کے دین کا انکار کرکے نہیں کیا تھا بلکہ خدا کے دین کو مانتے ہوئے کیا تھا۔ اپنی اس بے دینی کو وہ دینی الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ مشرکین کے عام عقیدہ کی طرح، وہ کہتے تھے کہ خدا ان کی گھڑی ہوئی مورت میں حلول کرآیا ہے۔اِس ليے اس کی عبادت خود خدا کی عبادت کے ہم معنی ہے۔ حتی کہ اس فعل کے لیڈر سامری نے اس کے حق میں کشف و کرامت کی دلیل بھی تلاش کرلی۔ اس نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جبریل آئے ہیں اور میں نے ان کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی تو مقدس مٹی کی برکت سے وہ بچھڑا بولنے لگا۔ گویا سامری اور اس کے ساتھی خدا کی طرف ایسی بات منسوب کررہے تھے جو خدا نے خود نہیں بتائی تھی۔ اس قسم کی نسبت افتراء (خدا پر جھوٹ باندھنا) ہے خواہ وہ ایک صورت میں ہو یا دوسری صورت میں۔

کوئی حامل دین گروہ جب اس قسم کا افتراء کرتا ہے، وہ بے دینی کے فعل کو دین کا نام دے دیتا ہے تو یہ چیز خدا کے غضب کو شدید طورپر بھڑکا دیتی ہے۔اس سے بچنے كي صورت يه هے كه انسان توبهٔ نصوح كرے، يعني خالص توبه۔سوره البقره آيت 54 كے مطابق انھوں نے قتلِ نفس (self-killing)كيا يعنيخالص توبه كي۔سوره البقره كي مذكوره آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ ایسا ہونے کے بعد ان کو جسمانی طور پرقتل کرنا، شریعت کا تقاضا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذكوره واقعه ميں قتلِ نفس کا لفظ شدت توبہ کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی ایسی توبہ جو نفسیاتی طور پر سیلف کیلنگ کے ہم معنی بن جائے۔

توبہ کی اصل حقیقت شرمندگی ہے۔ بندہ پر جب گناہ کے بعد اس قسم کی شدید ندامت طاری ہو، اور وہ اس طرح اللہ کے سامنے گریہ و زاری کرے، جیسے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاک کرڈالے گا ۔ تو ایسی توبہ ہمیشہ گناہ سے معافی کا سبب بن جاتی ہے۔گناہ پر توبہ یہ ہے کہ گناہ ہوجانے کے بعد آدمی اپنے اس فعل پر شدید شرمندہ ہو۔ یہ شرمندگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود سے فیصلہ کرے کہ آئندہ وہ ایسا فعل نہ کرے گا۔ کوئی گنہ گار جب اس طرح شرمندگی کا اور آئندہ کے ليے پرہیز کے عزم کا ثبوت دے دیتا ہے تو گویا کہ وہ دوبارہ ایمان لاتاہے، دین کے دائرہ سے نکل جانے کے بعد وہ دوبارہ خدا کے دین میں داخل ہوتاہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں