سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

ایکسپلور پر واپس جائیں

The Brothers of Yusuf in the Quran

The Brothers of Yusuf in the Quran
اذ قال يوسف لابيه يا ابت اني رايت احد عشر كوكبا والشمس والقمر رايتهم لي ساجدين ٤ قال يا بني لا تقصص روياك على اخوتك فيكيدوا لك كيدا ان الشيطان للانسان عدو مبين ٥ وكذالك يجتبيك ربك ويعلمك من تاويل الاحاديث ويتم نعمته عليك وعلى ال يعقوب كما اتمها على ابويك من قبل ابراهيم واسحاق ان ربك عليم حكيم ٦
إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَـٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَـٰجِدِينَ ٤ قَالَ يَـٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُواْ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لِلْإِنسَـٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ ٥ وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٦

اِذْ
قَالَ
یُوْسُفُ
لِاَبِیْهِ
یٰۤاَبَتِ
اِنِّیْ
رَاَیْتُ
اَحَدَ
عَشَرَ
كَوْكَبًا
وَّالشَّمْسَ
وَالْقَمَرَ
رَاَیْتُهُمْ
لِیْ
سٰجِدِیْنَ
۟
قَالَ
یٰبُنَیَّ
لَا
تَقْصُصْ
رُءْیَاكَ
عَلٰۤی
اِخْوَتِكَ
فَیَكِیْدُوْا
لَكَ
كَیْدًا ؕ
اِنَّ
الشَّیْطٰنَ
لِلْاِنْسَانِ
عَدُوٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
وَكَذٰلِكَ
یَجْتَبِیْكَ
رَبُّكَ
وَیُعَلِّمُكَ
مِنْ
تَاْوِیْلِ
الْاَحَادِیْثِ
وَیُتِمُّ
نِعْمَتَهٗ
عَلَیْكَ
وَعَلٰۤی
اٰلِ
یَعْقُوْبَ
كَمَاۤ
اَتَمَّهَا
عَلٰۤی
اَبَوَیْكَ
مِنْ
قَبْلُ
اِبْرٰهِیْمَ
وَاِسْحٰقَ ؕ
اِنَّ
رَبَّكَ
عَلِیْمٌ
حَكِیْمٌ
۟۠

جب یوسف نے اپنے والد (یعقوب) سے کہا اباجان ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں (4) یعقوب نے فرمایا : اے میرے پیارے بیٹے ! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے یقیناً شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے (5) اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں منتخب کرے گا اور تمہیں سکھائے گا تاویل الاحادیث میں سے (علم) اور اتمام فرمائے گا اپنی نعمت کا تجھ پر اور آل یعقوب پر جس طرح اس نے اس سے پہلے اپنی نعمت کا اتمام فرمایا تیرے آباء واجداد ابراہیم اور اسحاق ؑ پر یقیناً تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے (6)
–سورہ يوسف [12:4-6]
وجاء اخوة يوسف فدخلوا عليه فعرفهم وهم له منكرون ٥٨ ولما جهزهم بجهازهم قال ايتوني باخ لكم من ابيكم الا ترون اني اوفي الكيل وانا خير المنزلين ٥٩ فان لم تاتوني به فلا كيل لكم عندي ولا تقربون ٦٠ قالوا سنراود عنه اباه وانا لفاعلون ٦١ وقال لفتيانه اجعلوا بضاعتهم في رحالهم لعلهم يعرفونها اذا انقلبوا الى اهلهم لعلهم يرجعون ٦٢
وَجَآءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُواْ عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٥٨ وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍْ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ ٥٩ فَإِن لَّمْ تَأْتُونِى بِهِۦ فَلَا كَيْلَ لَكُمْ عِندِى وَلَا تَقْرَبُونِ ٦٠ قَالُواْ سَنُرَٰوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَـٰعِلُونَ ٦١ وَقَالَ لِفِتْيَـٰنِهِ ٱجْعَلُواْ بِضَـٰعَتَهُمْ فِى رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ٦٢

وَجَآءَ
اِخْوَةُ
یُوْسُفَ
فَدَخَلُوْا
عَلَیْهِ
فَعَرَفَهُمْ
وَهُمْ
لَهٗ
مُنْكِرُوْنَ
۟
وَلَمَّا
جَهَّزَهُمْ
بِجَهَازِهِمْ
قَالَ
ائْتُوْنِیْ
بِاَخٍ
لَّكُمْ
مِّنْ
اَبِیْكُمْ ۚ
اَلَا
تَرَوْنَ
اَنِّیْۤ
اُوْفِی
الْكَیْلَ
وَاَنَا
خَیْرُ
الْمُنْزِلِیْنَ
۟
فَاِنْ
لَّمْ
تَاْتُوْنِیْ
بِهٖ
فَلَا
كَیْلَ
لَكُمْ
عِنْدِیْ
وَلَا
تَقْرَبُوْنِ
۟
قَالُوْا
سَنُرَاوِدُ
عَنْهُ
اَبَاهُ
وَاِنَّا
لَفٰعِلُوْنَ
۟
وَقَالَ
لِفِتْیٰنِهِ
اجْعَلُوْا
بِضَاعَتَهُمْ
فِیْ
رِحَالِهِمْ
لَعَلَّهُمْ
یَعْرِفُوْنَهَاۤ
اِذَا
انْقَلَبُوْۤا
اِلٰۤی
اَهْلِهِمْ
لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ
۟

اور آئے یوسف کے بھائی اور آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے انہیں پہچان لیا مگر وہ آپ کو نہیں پہچان پائے (58) پھر جب آپ نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو فرمایا کہ (آئندہ) اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد سے (تمہارا بھائی) ہے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں پیمانہ پورا بھر کردیتا ہوں اور بہترین مہمان نوازی کرنے والا بھی ہوں (59) اور اگر تم اسے میرے پاس لے کر نہیں آؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے اور تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا (60) انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں اس کے والد کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کر کے رہیں گے (61) اور یوسف نے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی (بھی واپس) ان کے کجاو وں میں رکھ دو تاکہ وہ پہچانیں ان کو جب لوٹیں اپنے اہل و عیال کی طرف شاید کہ (اس طرح) وہ دوبارہ آئیں (62)
–سورہ يوسف [12:58-62]
فلما رجعوا الى ابيهم قالوا يا ابانا منع منا الكيل فارسل معنا اخانا نكتل وانا له لحافظون ٦٣ قال هل امنكم عليه الا كما امنتكم على اخيه من قبل فالله خير حافظا وهو ارحم الراحمين ٦٤ ولما فتحوا متاعهم وجدوا بضاعتهم ردت اليهم قالوا يا ابانا ما نبغي هاذه بضاعتنا ردت الينا ونمير اهلنا ونحفظ اخانا ونزداد كيل بعير ذالك كيل يسير ٦٥ قال لن ارسله معكم حتى توتون موثقا من الله لتاتنني به الا ان يحاط بكم فلما اتوه موثقهم قال الله على ما نقول وكيل ٦٦ وقال يا بني لا تدخلوا من باب واحد وادخلوا من ابواب متفرقة وما اغني عنكم من الله من شيء ان الحكم الا لله عليه توكلت وعليه فليتوكل المتوكلون ٦٧ ولما دخلوا من حيث امرهم ابوهم ما كان يغني عنهم من الله من شيء الا حاجة في نفس يعقوب قضاها وانه لذو علم لما علمناه ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٦٨
فَلَمَّا رَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيهِمْ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَآ أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ ٦٣ قَالَ هَلْ ءَامَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمْ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبْلُ ۖ فَٱللَّهُ خَيْرٌ حَـٰفِظًۭا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٦٤ وَلَمَّا فَتَحُواْ مَتَـٰعَهُمْ وَجَدُواْ بِضَـٰعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ ۖ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا مَا نَبْغِى ۖ هَـٰذِهِۦ بِضَـٰعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا ۖ وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍْ ۖ ذَٰلِكَ كَيْلٌۭ يَسِيرٌۭ ٦٥ قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُۥ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأْتُنَّنِى بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّآ ءَاتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ ٦٦ وَقَالَ يَـٰبَنِىَّ لَا تَدْخُلُواْ مِنْ بَابٍْ وَٰحِدٍْ وَٱدْخُلُواْ مِنْ أَبْوَٰبٍْ مُّتَفَرِّقَةٍْ ۖ وَمَآ أُغْنِى عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ ۖ إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُتَوَكِّلُونَ ٦٧ وَلَمَّا دَخَلُواْ مِنْ حَيْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغْنِى عَنْهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍ إِلَّا حَاجَةًۭ فِى نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَىٰهَا ۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلْمٍْ لِّمَا عَلَّمْنَـٰهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٦٨

فَلَمَّا
رَجَعُوْۤا
اِلٰۤی
اَبِیْهِمْ
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
مُنِعَ
مِنَّا
الْكَیْلُ
فَاَرْسِلْ
مَعَنَاۤ
اَخَانَا
نَكْتَلْ
وَاِنَّا
لَهٗ
لَحٰفِظُوْنَ
۟
قَالَ
هَلْ
اٰمَنُكُمْ
عَلَیْهِ
اِلَّا
كَمَاۤ
اَمِنْتُكُمْ
عَلٰۤی
اَخِیْهِ
مِنْ
قَبْلُ ؕ
فَاللّٰهُ
خَیْرٌ
حٰفِظًا ۪
وَّهُوَ
اَرْحَمُ
الرّٰحِمِیْنَ
۟
وَلَمَّا
فَتَحُوْا
مَتَاعَهُمْ
وَجَدُوْا
بِضَاعَتَهُمْ
رُدَّتْ
اِلَیْهِمْ ؕ
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
مَا
نَبْغِیْ ؕ
هٰذِهٖ
بِضَاعَتُنَا
رُدَّتْ
اِلَیْنَا ۚ
وَنَمِیْرُ
اَهْلَنَا
وَنَحْفَظُ
اَخَانَا
وَنَزْدَادُ
كَیْلَ
بَعِیْرٍ ؕ
ذٰلِكَ
كَیْلٌ
یَّسِیْرٌ
۟
قَالَ
لَنْ
اُرْسِلَهٗ
مَعَكُمْ
حَتّٰی
تُؤْتُوْنِ
مَوْثِقًا
مِّنَ
اللّٰهِ
لَتَاْتُنَّنِیْ
بِهٖۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یُّحَاطَ
بِكُمْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اٰتَوْهُ
مَوْثِقَهُمْ
قَالَ
اللّٰهُ
عَلٰی
مَا
نَقُوْلُ
وَكِیْلٌ
۟
وَقَالَ
یٰبَنِیَّ
لَا
تَدْخُلُوْا
مِنْ
بَابٍ
وَّاحِدٍ
وَّادْخُلُوْا
مِنْ
اَبْوَابٍ
مُّتَفَرِّقَةٍ ؕ
وَمَاۤ
اُغْنِیْ
عَنْكُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ ؕ
اِنِ
الْحُكْمُ
اِلَّا
لِلّٰهِ ؕ
عَلَیْهِ
تَوَكَّلْتُ ۚ
وَعَلَیْهِ
فَلْیَتَوَكَّلِ
الْمُتَوَكِّلُوْنَ
۟
وَلَمَّا
دَخَلُوْا
مِنْ
حَیْثُ
اَمَرَهُمْ
اَبُوْهُمْ ؕ
مَا
كَانَ
یُغْنِیْ
عَنْهُمْ
مِّنَ
اللّٰهِ
مِنْ
شَیْءٍ
اِلَّا
حَاجَةً
فِیْ
نَفْسِ
یَعْقُوْبَ
قَضٰىهَا ؕ
وَاِنَّهٗ
لَذُوْ
عِلْمٍ
لِّمَا
عَلَّمْنٰهُ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَ
النَّاسِ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠

پھر جب وہ لوٹے اپنے والد کے پاس تو کہنے لگے : ابا جان ! ہم سے (ایک) پیمانہ روک لیا گیا ہے تو (آئندہ) ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجئے گا تاکہ ہم (اس کے حصے کا بھی) غلہ لے کر آئیں اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے (63) یعقوب نے فرمایا کہ کیا میں اس کے بارے میں اسی طرح تم پر اعتبار کرلوں جیسے میں نے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں پہلے تم پر اعتبار کیا تھا (ویسے تو) اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہی تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے (64) اور جب انہوں نے کھولا اپنا سامان تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی پونچی انہیں لوٹا دی گئی ہے وہ پکار اٹھے : ابا جان ! ہمیں اور کیا چاہیے ؟ یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے (اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی) بوجھ (لانا تو اب) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے فرمایا : میں اسے (واپس) ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آؤ گے میرے پاس سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے پھر جب انہوں نے آپ کو اپنا پختہ قول وقرار دے دیا تو یعقوب نے فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے (66) اور آپ نے کہا : اے میرے بیٹو ! تم لوگ ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے اسی پر میں نے توکلّ کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہیے (67) تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (68)
–سورہ يوسف [12:63-68]
ولما دخلوا على يوسف اوى اليه اخاه قال اني انا اخوك فلا تبتيس بما كانوا يعملون ٦٩ فلما جهزهم بجهازهم جعل السقاية في رحل اخيه ثم اذن موذن ايتها العير انكم لسارقون ٧٠ قالوا واقبلوا عليهم ماذا تفقدون ٧١ قالوا نفقد صواع الملك ولمن جاء به حمل بعير وانا به زعيم ٧٢ قالوا تالله لقد علمتم ما جينا لنفسد في الارض وما كنا سارقين ٧٣ قالوا فما جزاوه ان كنتم كاذبين ٧٤ قالوا جزاوه من وجد في رحله فهو جزاوه كذالك نجزي الظالمين ٧٥ فبدا باوعيتهم قبل وعاء اخيه ثم استخرجها من وعاء اخيه كذالك كدنا ليوسف ما كان لياخذ اخاه في دين الملك الا ان يشاء الله نرفع درجات من نشاء وفوق كل ذي علم عليم ٧٦ ۞ قالوا ان يسرق فقد سرق اخ له من قبل فاسرها يوسف في نفسه ولم يبدها لهم قال انتم شر مكانا والله اعلم بما تصفون ٧٧ قالوا يا ايها العزيز ان له ابا شيخا كبيرا فخذ احدنا مكانه انا نراك من المحسنين ٧٨ قال معاذ الله ان ناخذ الا من وجدنا متاعنا عنده انا اذا لظالمون ٧٩
وَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَخَاهُ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ٦٩ فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَـٰرِقُونَ ٧٠ قَالُواْ وَأَقْبَلُواْ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ ٧١ قَالُواْ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍْ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌۭ ٧٢ قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَـٰرِقِينَ ٧٣ قَالُواْ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَـٰذِبِينَ ٧٤ قَالُواْ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّـٰلِمِينَ ٧٥ فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَـٰتٍْ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌۭ ٧٦ ۞ قَالُوٓاْ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌۭ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ٧٧ قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًۭا شَيْخًۭا كَبِيرًۭا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٧٨ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَـٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّظَـٰلِمُونَ ٧٩

وَلَمَّا
دَخَلُوْا
عَلٰی
یُوْسُفَ
اٰوٰۤی
اِلَیْهِ
اَخَاهُ
قَالَ
اِنِّیْۤ
اَنَا
اَخُوْكَ
فَلَا
تَبْتَىِٕسْ
بِمَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟
فَلَمَّا
جَهَّزَهُمْ
بِجَهَازِهِمْ
جَعَلَ
السِّقَایَةَ
فِیْ
رَحْلِ
اَخِیْهِ
ثُمَّ
اَذَّنَ
مُؤَذِّنٌ
اَیَّتُهَا
الْعِیْرُ
اِنَّكُمْ
لَسٰرِقُوْنَ
۟
قَالُوْا
وَاَقْبَلُوْا
عَلَیْهِمْ
مَّاذَا
تَفْقِدُوْنَ
۟
قَالُوْا
نَفْقِدُ
صُوَاعَ
الْمَلِكِ
وَلِمَنْ
جَآءَ
بِهٖ
حِمْلُ
بَعِیْرٍ
وَّاَنَا
بِهٖ
زَعِیْمٌ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
لَقَدْ
عَلِمْتُمْ
مَّا
جِئْنَا
لِنُفْسِدَ
فِی
الْاَرْضِ
وَمَا
كُنَّا
سٰرِقِیْنَ
۟
قَالُوْا
فَمَا
جَزَآؤُهٗۤ
اِنْ
كُنْتُمْ
كٰذِبِیْنَ
۟
قَالُوْا
جَزَآؤُهٗ
مَنْ
وُّجِدَ
فِیْ
رَحْلِهٖ
فَهُوَ
جَزَآؤُهٗ ؕ
كَذٰلِكَ
نَجْزِی
الظّٰلِمِیْنَ
۟
فَبَدَاَ
بِاَوْعِیَتِهِمْ
قَبْلَ
وِعَآءِ
اَخِیْهِ
ثُمَّ
اسْتَخْرَجَهَا
مِنْ
وِّعَآءِ
اَخِیْهِ ؕ
كَذٰلِكَ
كِدْنَا
لِیُوْسُفَ ؕ
مَا
كَانَ
لِیَاْخُذَ
اَخَاهُ
فِیْ
دِیْنِ
الْمَلِكِ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّشَآءَ
اللّٰهُ ؕ
نَرْفَعُ
دَرَجٰتٍ
مَّنْ
نَّشَآءُ ؕ
وَفَوْقَ
كُلِّ
ذِیْ
عِلْمٍ
عَلِیْمٌ
۟
قَالُوْۤا
اِنْ
یَّسْرِقْ
فَقَدْ
سَرَقَ
اَخٌ
لَّهٗ
مِنْ
قَبْلُ ۚ
فَاَسَرَّهَا
یُوْسُفُ
فِیْ
نَفْسِهٖ
وَلَمْ
یُبْدِهَا
لَهُمْ ۚ
قَالَ
اَنْتُمْ
شَرٌّ
مَّكَانًا ۚ
وَاللّٰهُ
اَعْلَمُ
بِمَا
تَصِفُوْنَ
۟
قَالُوْا
یٰۤاَیُّهَا
الْعَزِیْزُ
اِنَّ
لَهٗۤ
اَبًا
شَیْخًا
كَبِیْرًا
فَخُذْ
اَحَدَنَا
مَكَانَهٗ ۚ
اِنَّا
نَرٰىكَ
مِنَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
قَالَ
مَعَاذَ
اللّٰهِ
اَنْ
نَّاْخُذَ
اِلَّا
مَنْ
وَّجَدْنَا
مَتَاعَنَا
عِنْدَهٗۤ ۙ
اِنَّاۤ
اِذًا
لَّظٰلِمُوْنَ
۟۠

اور جب وہ آئے یوسف کے پاس تو آپ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتادیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو اب مت غمگین ہونا اس پر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں (69) پھر جب آپ نے ان کے لیے ان کا سامان تیار کرا دیا تو رکھ دیا پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں پھر ایک پکارنے والے نے پکار لگائی کہ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو (70) انہوں نے پوچھا ان کی طرف مڑ کر کہ آپ کی کیا چیز گم ہوئی ہے (71) انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بادشاہ کا جام زریں نہیں مل رہا اور جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا اور میں اس کا ذمہ دار ہوں (72) انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد مچانے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے ہرگز نہیں ہیں (73) انہوں (شاہی ملازمین) نے کہا کہ پھر اس (چور) کی کیا سزا ہوگی اگر تم لوگ جھوٹے ہوئے (74) انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ (جام زریں) پایا جائے وہ خود ہی اس کا بدلہ ہوگا۔ ہم تو اسی طریقے سے ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں (75) تو آپ نے (تلاشی) شروع کی ان کے بوروں کی اپنے بھائی کے بورے سے پہلے پھر آپ نے نکال لیا وہ (جام) اپنے بھائی کے سامان سے اس طرح سے ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے آپ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو روکتے بادشاہ کے قانون کے مطابق سوائے اس کے کہ اللہ چاہے ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہتے ہیں۔ اور ہر صاحب علم کے اوپر کوئی اور صاحب علم بھی ہے (76) انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے اس کو چھپائے رکھا یوسف نے اپنے جی میں اور ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا آپ نے (دل ہی دل میں) کہا کہ تم بجائے خود بہت برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے (77) وہ کہنے لگے : اے عزیز (صاحب اختیار) ! اس کا والد جو ہے بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بڑے ہی نیک انسان ہیں (78) یوسف نے فرمایا : اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم پکڑ لیں کسی اور کو اس شخص کے بجائے جس کے پاس سے ہم نے اپنا مال برآمد کیا ہے یقیناً اس صورت میں تو ہم ظالم ہوں گے (79)
–سورہ يوسف [12:69-79]
فلما استياسوا منه خلصوا نجيا قال كبيرهم الم تعلموا ان اباكم قد اخذ عليكم موثقا من الله ومن قبل ما فرطتم في يوسف فلن ابرح الارض حتى ياذن لي ابي او يحكم الله لي وهو خير الحاكمين ٨٠ ارجعوا الى ابيكم فقولوا يا ابانا ان ابنك سرق وما شهدنا الا بما علمنا وما كنا للغيب حافظين ٨١ واسال القرية التي كنا فيها والعير التي اقبلنا فيها وانا لصادقون ٨٢ قال بل سولت لكم انفسكم امرا فصبر جميل عسى الله ان ياتيني بهم جميعا انه هو العليم الحكيم ٨٣ وتولى عنهم وقال يا اسفى على يوسف وابيضت عيناه من الحزن فهو كظيم ٨٤ قالوا تالله تفتا تذكر يوسف حتى تكون حرضا او تكون من الهالكين ٨٥ قال انما اشكو بثي وحزني الى الله واعلم من الله ما لا تعلمون ٨٦ يا بني اذهبوا فتحسسوا من يوسف واخيه ولا تياسوا من روح الله انه لا يياس من روح الله الا القوم الكافرون ٨٧
فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُواْ مِنْهُ خَلَصُواْ نَجِيًّۭا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓاْ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ ٨٠ ٱرْجِعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُواْ يَـٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَـٰفِظِينَ ٨١ وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ ٨٢ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًۭا ۖ فَصَبْرٌۭ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ٨٣ وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌۭ ٨٤ قَالُواْ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُاْ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَـٰلِكِينَ ٨٥ قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُواْ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٨٦ يَـٰبَنِىَّ ٱذْهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَاْيْـَٔسُواْ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَاْيْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ٨٧

فَلَمَّا
اسْتَیْـَٔسُوْا
مِنْهُ
خَلَصُوْا
نَجِیًّا ؕ
قَالَ
كَبِیْرُهُمْ
اَلَمْ
تَعْلَمُوْۤا
اَنَّ
اَبَاكُمْ
قَدْ
اَخَذَ
عَلَیْكُمْ
مَّوْثِقًا
مِّنَ
اللّٰهِ
وَمِنْ
قَبْلُ
مَا
فَرَّطْتُّمْ
فِیْ
یُوْسُفَ ۚ
فَلَنْ
اَبْرَحَ
الْاَرْضَ
حَتّٰی
یَاْذَنَ
لِیْۤ
اَبِیْۤ
اَوْ
یَحْكُمَ
اللّٰهُ
لِیْ ۚ
وَهُوَ
خَیْرُ
الْحٰكِمِیْنَ
۟
اِرْجِعُوْۤا
اِلٰۤی
اَبِیْكُمْ
فَقُوْلُوْا
یٰۤاَبَانَاۤ
اِنَّ
ابْنَكَ
سَرَقَ ۚ
وَمَا
شَهِدْنَاۤ
اِلَّا
بِمَا
عَلِمْنَا
وَمَا
كُنَّا
لِلْغَیْبِ
حٰفِظِیْنَ
۟
وَسْـَٔلِ
الْقَرْیَةَ
الَّتِیْ
كُنَّا
فِیْهَا
وَالْعِیْرَ
الَّتِیْۤ
اَقْبَلْنَا
فِیْهَا ؕ
وَاِنَّا
لَصٰدِقُوْنَ
۟
قَالَ
بَلْ
سَوَّلَتْ
لَكُمْ
اَنْفُسُكُمْ
اَمْرًا ؕ
فَصَبْرٌ
جَمِیْلٌ ؕ
عَسَی
اللّٰهُ
اَنْ
یَّاْتِیَنِیْ
بِهِمْ
جَمِیْعًا ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْعَلِیْمُ
الْحَكِیْمُ
۟
وَتَوَلّٰی
عَنْهُمْ
وَقَالَ
یٰۤاَسَفٰی
عَلٰی
یُوْسُفَ
وَابْیَضَّتْ
عَیْنٰهُ
مِنَ
الْحُزْنِ
فَهُوَ
كَظِیْمٌ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
تَفْتَؤُا
تَذْكُرُ
یُوْسُفَ
حَتّٰی
تَكُوْنَ
حَرَضًا
اَوْ
تَكُوْنَ
مِنَ
الْهٰلِكِیْنَ
۟
قَالَ
اِنَّمَاۤ
اَشْكُوْا
بَثِّیْ
وَحُزْنِیْۤ
اِلَی
اللّٰهِ
وَاَعْلَمُ
مِنَ
اللّٰهِ
مَا
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
یٰبَنِیَّ
اذْهَبُوْا
فَتَحَسَّسُوْا
مِنْ
یُّوْسُفَ
وَاَخِیْهِ
وَلَا
تَایْـَٔسُوْا
مِنْ
رَّوْحِ
اللّٰهِ ؕ
اِنَّهٗ
لَا
یَایْـَٔسُ
مِنْ
رَّوْحِ
اللّٰهِ
اِلَّا
الْقَوْمُ
الْكٰفِرُوْنَ
۟

پھر جب وہ یو سف سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں جا کر مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کرچکے ہو اب میں تو اس سر زمین سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے اجازت دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے بارے میں کوئی فیصلہ کردے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (80) تم لوٹ جاؤ اپنے والد کے پاس اور (جا کر) کہو کہ ابا جان ! آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں (81) آپ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے اور اس قافلے (والوں) سے جن کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ اور ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے ہیں (82) آپ نے فرمایا : (نہیں !) بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام آسان کردیا ہے پس صبر ہی بہتر ہے ہوسکتا ہے اللہ ان سب کو لے آئے میرے پاس۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے (83) اور آپ نے ان سے رخ پھیرلیا اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف پر ! (اور رونا شروع کردیا) اور صدمے سے آپ کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں کیونکہ آپ غم کو (اندر ہی اندر) پیتے رہتے تھے (84) انہوں نے کہا : (ابا جان !) اللہ کی قسم آپ تو یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ یا تو (اسی صدمے میں) گھل جائیں گے یا فوت ہوجائیں گے (85) یعقوب نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم لوگ نہیں جانتے ہو (86) اے میرے بیٹو ! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کو بھی اور اس کے بھائی کو بھی اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقیناً اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں (87)
–سورہ يوسف [12:80-87]
فلما دخلوا عليه قالوا يا ايها العزيز مسنا واهلنا الضر وجينا ببضاعة مزجاة فاوف لنا الكيل وتصدق علينا ان الله يجزي المتصدقين ٨٨ قال هل علمتم ما فعلتم بيوسف واخيه اذ انتم جاهلون ٨٩ قالوا اانك لانت يوسف قال انا يوسف وهاذا اخي قد من الله علينا انه من يتق ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين ٩٠ قالوا تالله لقد اثرك الله علينا وان كنا لخاطيين ٩١ قال لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو ارحم الراحمين ٩٢ اذهبوا بقميصي هاذا فالقوه على وجه ابي يات بصيرا واتوني باهلكم اجمعين ٩٣
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيْهِ قَالُواْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَـٰعَةٍْ مُّزْجَىٰةٍْ فَأَوْفِ لَنَا ٱلْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجْزِى ٱلْمُتَصَدِّقِينَ ٨٨ قَالَ هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَـٰهِلُونَ ٨٩ قَالُوٓاْ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَـٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٩٠ قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَـٰطِـِٔينَ ٩١ قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ ٱللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٩٢ ٱذْهَبُواْ بِقَمِيصِى هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِى يَأْتِ بَصِيرًۭا وَأْتُونِى بِأَهْلِكُمْ أَجْمَعِينَ ٩٣

فَلَمَّا
دَخَلُوْا
عَلَیْهِ
قَالُوْا
یٰۤاَیُّهَا
الْعَزِیْزُ
مَسَّنَا
وَاَهْلَنَا
الضُّرُّ
وَجِئْنَا
بِبِضَاعَةٍ
مُّزْجٰىةٍ
فَاَوْفِ
لَنَا
الْكَیْلَ
وَتَصَدَّقْ
عَلَیْنَا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یَجْزِی
الْمُتَصَدِّقِیْنَ
۟
قَالَ
هَلْ
عَلِمْتُمْ
مَّا
فَعَلْتُمْ
بِیُوْسُفَ
وَاَخِیْهِ
اِذْ
اَنْتُمْ
جٰهِلُوْنَ
۟
قَالُوْۤا
ءَاِنَّكَ
لَاَنْتَ
یُوْسُفُ ؕ
قَالَ
اَنَا
یُوْسُفُ
وَهٰذَاۤ
اَخِیْ ؗ
قَدْ
مَنَّ
اللّٰهُ
عَلَیْنَا ؕ
اِنَّهٗ
مَنْ
یَّتَّقِ
وَیَصْبِرْ
فَاِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یُضِیْعُ
اَجْرَ
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
لَقَدْ
اٰثَرَكَ
اللّٰهُ
عَلَیْنَا
وَاِنْ
كُنَّا
لَخٰطِـِٕیْنَ
۟
قَالَ
لَا
تَثْرِیْبَ
عَلَیْكُمُ
الْیَوْمَ ؕ
یَغْفِرُ
اللّٰهُ
لَكُمْ ؗ
وَهُوَ
اَرْحَمُ
الرّٰحِمِیْنَ
۟
اِذْهَبُوْا
بِقَمِیْصِیْ
هٰذَا
فَاَلْقُوْهُ
عَلٰی
وَجْهِ
اَبِیْ
یَاْتِ
بَصِیْرًا ۚ
وَاْتُوْنِیْ
بِاَهْلِكُمْ
اَجْمَعِیْنَ
۟۠

پھر جب وہ لوگ یوسف کے ہاں پہنچے انہوں نے کہا : اے عزیز (صاحب اختیار) ! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بڑی سختی آگئی ہے اور ہم بہت حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں لیکن (اس کے باوجود) آپ ہمارے لیے پیمانے پورے بھر کردیجیے اور ہمیں خیرات بھی دیجیے یقیناً اللہ صدقہ دینے والوں کو جزاد یتا ہے (88) آپ نے پوچھا : کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم نے کیا کیا تھا یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ جب کہ تم نادان تھے (89) انہوں نے کہا : تو کیا آپ یوسف ہیں ؟ یوسف نے فرمایا : ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ یقیناً جو شخص تقویٰ کی روش اختیار کرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ایسے نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا (90) انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور یقیناً ہم ہی خطاکار تھے (91) یوسف نے فرمایا : آج کے دن تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے (92) تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور (جا کر) اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو آپ کی بصارت لوٹ آئے گی اور تم لے آؤ میرے پاس اپنے تمام اہل خانہ کو (93)
–سورہ يوسف [12:88-93]
ولما فصلت العير قال ابوهم اني لاجد ريح يوسف لولا ان تفندون ٩٤ قالوا تالله انك لفي ضلالك القديم ٩٥ فلما ان جاء البشير القاه على وجهه فارتد بصيرا قال الم اقل لكم اني اعلم من الله ما لا تعلمون ٩٦ قالوا يا ابانا استغفر لنا ذنوبنا انا كنا خاطيين ٩٧ قال سوف استغفر لكم ربي انه هو الغفور الرحيم ٩٨
وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّى لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ۖ لَوْلَآ أَن تُفَنِّدُونِ ٩٤ قَالُواْ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِى ضَلَـٰلِكَ ٱلْقَدِيمِ ٩٥ فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلْبَشِيرُ أَلْقَىٰهُ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ فَٱرْتَدَّ بَصِيرًۭا ۖ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ٩٦ قَالُواْ يَـٰٓأَبَانَا ٱسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَـٰطِـِٔينَ ٩٧ قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّىٓ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٩٨

وَلَمَّا
فَصَلَتِ
الْعِیْرُ
قَالَ
اَبُوْهُمْ
اِنِّیْ
لَاَجِدُ
رِیْحَ
یُوْسُفَ
لَوْلَاۤ
اَنْ
تُفَنِّدُوْنِ
۟
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
اِنَّكَ
لَفِیْ
ضَلٰلِكَ
الْقَدِیْمِ
۟
فَلَمَّاۤ
اَنْ
جَآءَ
الْبَشِیْرُ
اَلْقٰىهُ
عَلٰی
وَجْهِهٖ
فَارْتَدَّ
بَصِیْرًا ۚ
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
لَّكُمْ ۙۚ
اِنِّیْۤ
اَعْلَمُ
مِنَ
اللّٰهِ
مَا
لَا
تَعْلَمُوْنَ
۟
قَالُوْا
یٰۤاَبَانَا
اسْتَغْفِرْ
لَنَا
ذُنُوْبَنَاۤ
اِنَّا
كُنَّا
خٰطِـِٕیْنَ
۟
قَالَ
سَوْفَ
اَسْتَغْفِرُ
لَكُمْ
رَبِّیْ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْغَفُوْرُ
الرَّحِیْمُ
۟

اور جب قافلہ چلا (مصر سے تو) ان کے والدنے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ میں سٹھیا گیا ہوں (94) انہوں (گھر والوں) نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ تو اپنے اسی پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں (95) تو جب آیا بشارت دینے والا اور اس نے ڈالا اس (قمیص) کو یعقوب کے چہرے پر تو آپ پھر سے ہوگئے دیکھنے والے آپ نے فرمایا : کیا میں تم سے کہتا نہیں تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جو تم نہیں جانتے (96) انہوں نے کہا : ابا جان ! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے یقیناً ہم ہی خطاکار تھے (97) آپ نے فرمایا : عنقریب میں مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اپنے رب سے یقیناً وہی ہے بخشش والا بہت رحم کرنے والا (98)
–سورہ يوسف [12:94-98]
فلما دخلوا على يوسف اوى اليه ابويه وقال ادخلوا مصر ان شاء الله امنين ٩٩ ورفع ابويه على العرش وخروا له سجدا وقال يا ابت هاذا تاويل روياي من قبل قد جعلها ربي حقا وقد احسن بي اذ اخرجني من السجن وجاء بكم من البدو من بعد ان نزغ الشيطان بيني وبين اخوتي ان ربي لطيف لما يشاء انه هو العليم الحكيم ١٠٠
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُواْ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ ٩٩ وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى ٱلْعَرْشِ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدًۭا ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَبَتِ هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُءْيَـٰىَ مِن قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّى حَقًّۭا ۖ وَقَدْ أَحْسَنَ بِىٓ إِذْ أَخْرَجَنِى مِنَ ٱلسِّجْنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيْطَـٰنُ بَيْنِى وَبَيْنَ إِخْوَتِىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى لَطِيفٌۭ لِّمَا يَشَآءُ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ١٠٠

فَلَمَّا
دَخَلُوْا
عَلٰی
یُوْسُفَ
اٰوٰۤی
اِلَیْهِ
اَبَوَیْهِ
وَقَالَ
ادْخُلُوْا
مِصْرَ
اِنْ
شَآءَ
اللّٰهُ
اٰمِنِیْنَ
۟ؕ
وَرَفَعَ
اَبَوَیْهِ
عَلَی
الْعَرْشِ
وَخَرُّوْا
لَهٗ
سُجَّدًا ۚ
وَقَالَ
یٰۤاَبَتِ
هٰذَا
تَاْوِیْلُ
رُءْیَایَ
مِنْ
قَبْلُ ؗ
قَدْ
جَعَلَهَا
رَبِّیْ
حَقًّا ؕ
وَقَدْ
اَحْسَنَ
بِیْۤ
اِذْ
اَخْرَجَنِیْ
مِنَ
السِّجْنِ
وَجَآءَ
بِكُمْ
مِّنَ
الْبَدْوِ
مِنْ
بَعْدِ
اَنْ
نَّزَغَ
الشَّیْطٰنُ
بَیْنِیْ
وَبَیْنَ
اِخْوَتِیْ ؕ
اِنَّ
رَبِّیْ
لَطِیْفٌ
لِّمَا
یَشَآءُ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْعَلِیْمُ
الْحَكِیْمُ
۟

پھر جب وہ سب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور کہا کہ اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں اللہ نے چاہا تو پورے امن و چین کے ساتھ (یہاں رہیں) (99) اور آپ نے اپنے والدین کو اونچے تخت پر بٹھایا اور وہ سب کے سب یوسف کے سامنے سجدے میں گرگئے اور یوسف نے کہا : ابا جان ! یہ ہے تعبیر اس خواب کی جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا میرے رب نے اس کو سچا کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بہت احسان کیا جب مجھے قیدخانے سے نکلوایا اور آپ لوگوں کو (یہاں) لے آیا صحرا سے اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان دشمنی ڈال دی تھی یقیناً میرا رب غیر محسوس طور پر تدبیر کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ یقیناً وہی ہے ہر شے کا علم رکھنے والا حکمت والا (100)
–سورہ يوسف [12:99-100]

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔