سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

ایکسپلور پر واپس جائیں

Prophet Musa in the Quran

Prophet Musa in the Quran
ووهبنا له اسحاق ويعقوب كلا هدينا ونوحا هدينا من قبل ومن ذريته داوود وسليمان وايوب ويوسف وموسى وهارون وكذالك نجزي المحسنين ٨٤
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ٨٤

وَوَهَبْنَا
لَهٗۤ
اِسْحٰقَ
وَیَعْقُوْبَ ؕ
كُلًّا
هَدَیْنَا ۚ
وَنُوْحًا
هَدَیْنَا
مِنْ
قَبْلُ
وَمِنْ
ذُرِّیَّتِهٖ
دَاوٗدَ
وَسُلَیْمٰنَ
وَاَیُّوْبَ
وَیُوْسُفَ
وَمُوْسٰی
وَهٰرُوْنَ ؕ
وَكَذٰلِكَ
نَجْزِی
الْمُحْسِنِیْنَ
۟ۙ

اور ہم نے اسے (ابراہیم ؑ کو) عطا فرمایا اسحاق ؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوب ؑ (جیسا پوتا) ان سب کو ہم نے ہدایت دی۔ اور نوح ؑ کو بھی ہم نے ہدایت دی تھی ان سے پہلے اور اس (ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے داؤد ؑ سلیمان ؑ ایوب ؑ یوسف ؑ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو بھی (ہدایت بخشی)۔ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔
–سورہ الأنعام [6:84]
واذكر في الكتاب موسى انه كان مخلصا وكان رسولا نبيا ٥١ وناديناه من جانب الطور الايمن وقربناه نجيا ٥٢ ووهبنا له من رحمتنا اخاه هارون نبيا ٥٣
وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَـٰبِ مُوسَىٰٓ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ مُخْلَصًۭا وَكَانَ رَسُولًۭا نَّبِيًّۭا ٥١ وَنَـٰدَيْنَـٰهُ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ ٱلْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَـٰهُ نَجِيًّۭا ٥٢ وَوَهَبْنَا لَهُۥ مِن رَّحْمَتِنَآ أَخَاهُ هَـٰرُونَ نَبِيًّۭا ٥٣

وَاذْكُرْ
فِی
الْكِتٰبِ
مُوْسٰۤی ؗ
اِنَّهٗ
كَانَ
مُخْلَصًا
وَّكَانَ
رَسُوْلًا
نَّبِیًّا
۟
وَنَادَیْنٰهُ
مِنْ
جَانِبِ
الطُّوْرِ
الْاَیْمَنِ
وَقَرَّبْنٰهُ
نَجِیًّا
۟
وَوَهَبْنَا
لَهٗ
مِنْ
رَّحْمَتِنَاۤ
اَخَاهُ
هٰرُوْنَ
نَبِیًّا
۟

اور کتاب میں تذکرہ کیجیے موسیٰ ؑ کا یقیناً وہ تھے خاص کیے گئے اور وہ تھے رسول نبی (51) اور ہم نے انہیں پکارا طور کی دائیں جانب سے اور انہیں اپنے قریب کیا سرگوشی کے لیے (52) اور ہم نے انہیں عطا کیا اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر (53)
–سورہ مريم [19:51-53]
ورسلا قد قصصناهم عليك من قبل ورسلا لم نقصصهم عليك وكلم الله موسى تكليما ١٦٤
وَرُسُلًۭا قَدْ قَصَصْنَـٰهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًۭا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ ٱللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًۭا ١٦٤

وَرُسُلًا
قَدْ
قَصَصْنٰهُمْ
عَلَیْكَ
مِنْ
قَبْلُ
وَرُسُلًا
لَّمْ
نَقْصُصْهُمْ
عَلَیْكَ ؕ
وَكَلَّمَ
اللّٰهُ
مُوْسٰی
تَكْلِیْمًا
۟ۚ

اور (بھیجے) وہ رسول جن کا ہم اس سے پہلے آپ ﷺ کے سامنے تذکرہ کرچکے ہیں اور ایسے رسول (بھی) جن کے حالات ہم نے آپ ﷺ کے سامنے بیان نہیں کیے اور موسیٰ ؑ سے تو کلام کیا اللہ نے جیسے کہ کلام کیا جاتا ہے
–سورہ النساء [4:164]
ولقد اتينا موسى وهارون الفرقان وضياء وذكرا للمتقين ٤٨
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ٱلْفُرْقَانَ وَضِيَآءًۭ وَذِكْرًۭا لِّلْمُتَّقِينَ ٤٨

وَلَقَدْ
اٰتَیْنَا
مُوْسٰی
وَهٰرُوْنَ
الْفُرْقَانَ
وَضِیَآءً
وَّذِكْرًا
لِّلْمُتَّقِیْنَ
۟ۙ

اور ہم نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو عطا کی تھی فرقان (کتاب) روشنی اور نصیحت متقین کے لیے
–سورہ الأنبياء [21:48]
ولقد مننا على موسى وهارون ١١٤ ونجيناهما وقومهما من الكرب العظيم ١١٥ ونصرناهم فكانوا هم الغالبين ١١٦ واتيناهما الكتاب المستبين ١١٧ وهديناهما الصراط المستقيم ١١٨ وتركنا عليهما في الاخرين ١١٩ سلام على موسى وهارون ١٢٠ انا كذالك نجزي المحسنين ١٢١ انهما من عبادنا المومنين ١٢٢
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ١١٤ وَنَجَّيْنَـٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ ١١٥ وَنَصَرْنَـٰهُمْ فَكَانُواْ هُمُ ٱلْغَـٰلِبِينَ ١١٦ وَءَاتَيْنَـٰهُمَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلْمُسْتَبِينَ ١١٧ وَهَدَيْنَـٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ ١١٨ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِى ٱلْـَٔاخِرِينَ ١١٩ سَلَـٰمٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَـٰرُونَ ١٢٠ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ١٢١ إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٢٢

وَلَقَدْ
مَنَنَّا
عَلٰی
مُوْسٰی
وَهٰرُوْنَ
۟ۚ
وَنَجَّیْنٰهُمَا
وَقَوْمَهُمَا
مِنَ
الْكَرْبِ
الْعَظِیْمِ
۟ۚ
وَنَصَرْنٰهُمْ
فَكَانُوْا
هُمُ
الْغٰلِبِیْنَ
۟ۚ
وَاٰتَیْنٰهُمَا
الْكِتٰبَ
الْمُسْتَبِیْنَ
۟ۚ
وَهَدَیْنٰهُمَا
الصِّرَاطَ
الْمُسْتَقِیْمَ
۟ۚ
وَتَرَكْنَا
عَلَیْهِمَا
فِی
الْاٰخِرِیْنَ
۟ۙ
سَلٰمٌ
عَلٰی
مُوْسٰی
وَهٰرُوْنَ
۟
اِنَّا
كَذٰلِكَ
نَجْزِی
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
اِنَّهُمَا
مِنْ
عِبَادِنَا
الْمُؤْمِنِیْنَ
۟

اور ہم نے موسیٰ ؑ ٰ اور ہارون ؑ پر بھی احسان فرمایا (114) اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک کرب عظیم سے (115) اور ہم نے ان کی مدد کی پھر وہی غالب ہوئے۔ (116) اور ہم نے ان دونوں کو ایک روشن کتاب دی۔ یعنی تورات جس کی تعلیمات بہت واضح تھیں (117) اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (118) اور ان دونوں (کے طریقے) پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی (کچھ لوگوں کو) (119) سلام ہو موسیٰ ؑ ٰ پر اور ہارون ؑ پر۔ (120) یقینا ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔ (121) یقیناوہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے (122)
–سورہ الصافات [37:114-122]
نتلو عليك من نبا موسى وفرعون بالحق لقوم يومنون ٣ ان فرعون علا في الارض وجعل اهلها شيعا يستضعف طايفة منهم يذبح ابناءهم ويستحيي نساءهم انه كان من المفسدين ٤ ونريد ان نمن على الذين استضعفوا في الارض ونجعلهم ايمة ونجعلهم الوارثين ٥ ونمكن لهم في الارض ونري فرعون وهامان وجنودهما منهم ما كانوا يحذرون ٦ واوحينا الى ام موسى ان ارضعيه فاذا خفت عليه فالقيه في اليم ولا تخافي ولا تحزني انا رادوه اليك وجاعلوه من المرسلين ٧ فالتقطه ال فرعون ليكون لهم عدوا وحزنا ان فرعون وهامان وجنودهما كانوا خاطيين ٨ وقالت امرات فرعون قرت عين لي ولك لا تقتلوه عسى ان ينفعنا او نتخذه ولدا وهم لا يشعرون ٩ واصبح فواد ام موسى فارغا ان كادت لتبدي به لولا ان ربطنا على قلبها لتكون من المومنين ١٠
نَتْلُواْ عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِٱلْحَقِّ لِقَوْمٍْ يُؤْمِنُونَ ٣ إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًۭا يَسْتَضْعِفُ طَآئِفَةًۭ مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَآءَهُمْ وَيَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٤ وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُواْ فِى ٱلْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةًۭ وَنَجْعَلَهُمُ ٱلْوَٰرِثِينَ ٥ وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَنُرِىَ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُواْ يَحْذَرُونَ ٦ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى ٱلْيَمِّ وَلَا تَخَافِى وَلَا تَحْزَنِىٓ ۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ٧ فَٱلْتَقَطَهُۥٓ ءَالُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّۭا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَـٰمَـٰنَ وَجُنُودَهُمَا كَانُواْ خَـٰطِـِٔينَ ٨ وَقَالَتِ ٱمْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍْ لِّى وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًۭا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ٩ وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَـٰرِغًا ۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِى بِهِۦ لَوْلَآ أَن رَّبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٠

نَتْلُوْا
عَلَیْكَ
مِنْ
نَّبَاِ
مُوْسٰی
وَفِرْعَوْنَ
بِالْحَقِّ
لِقَوْمٍ
یُّؤْمِنُوْنَ
۟
اِنَّ
فِرْعَوْنَ
عَلَا
فِی
الْاَرْضِ
وَجَعَلَ
اَهْلَهَا
شِیَعًا
یَّسْتَضْعِفُ
طَآىِٕفَةً
مِّنْهُمْ
یُذَبِّحُ
اَبْنَآءَهُمْ
وَیَسْتَحْیٖ
نِسَآءَهُمْ ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
مِنَ
الْمُفْسِدِیْنَ
۟
وَنُرِیْدُ
اَنْ
نَّمُنَّ
عَلَی
الَّذِیْنَ
اسْتُضْعِفُوْا
فِی
الْاَرْضِ
وَنَجْعَلَهُمْ
اَىِٕمَّةً
وَّنَجْعَلَهُمُ
الْوٰرِثِیْنَ
۟ۙ
وَنُمَكِّنَ
لَهُمْ
فِی
الْاَرْضِ
وَنُرِیَ
فِرْعَوْنَ
وَهَامٰنَ
وَجُنُوْدَهُمَا
مِنْهُمْ
مَّا
كَانُوْا
یَحْذَرُوْنَ
۟
وَاَوْحَیْنَاۤ
اِلٰۤی
اُمِّ
مُوْسٰۤی
اَنْ
اَرْضِعِیْهِ ۚ
فَاِذَا
خِفْتِ
عَلَیْهِ
فَاَلْقِیْهِ
فِی
الْیَمِّ
وَلَا
تَخَافِیْ
وَلَا
تَحْزَنِیْ ۚ
اِنَّا
رَآدُّوْهُ
اِلَیْكِ
وَجَاعِلُوْهُ
مِنَ
الْمُرْسَلِیْنَ
۟
فَالْتَقَطَهٗۤ
اٰلُ
فِرْعَوْنَ
لِیَكُوْنَ
لَهُمْ
عَدُوًّا
وَّحَزَنًا ؕ
اِنَّ
فِرْعَوْنَ
وَهَامٰنَ
وَجُنُوْدَهُمَا
كَانُوْا
خٰطِـِٕیْنَ
۟
وَقَالَتِ
امْرَاَتُ
فِرْعَوْنَ
قُرَّتُ
عَیْنٍ
لِّیْ
وَلَكَ ؕ
لَا
تَقْتُلُوْهُ ۖۗ
عَسٰۤی
اَنْ
یَّنْفَعَنَاۤ
اَوْ
نَتَّخِذَهٗ
وَلَدًا
وَّهُمْ
لَا
یَشْعُرُوْنَ
۟
وَاَصْبَحَ
فُؤَادُ
اُمِّ
مُوْسٰی
فٰرِغًا ؕ
اِنْ
كَادَتْ
لَتُبْدِیْ
بِهٖ
لَوْلَاۤ
اَنْ
رَّبَطْنَا
عَلٰی
قَلْبِهَا
لِتَكُوْنَ
مِنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
۟

ہم سناتے ہیں آپ ؑ کو موسیٰ ؑ اور فرعون کے کچھ احوال حق کے ساتھ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (3) یقیناً فرعون نے بہت سرکشی کی تھی زمین (مصر) میں اور اس نے تقسیم کردیا تھا اس کے باسیوں کو گروہوں میں اس نے دبا رکھا تھا ان میں سے ایک گروہ کو وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا یقیناً وہ فساد مچانے والوں میں سے تھا (4) اور ہم نے ارادہ کیا کہ ہم احسان کریں ان لوگوں پر جو زمین میں دبا دیے گئے تھے اور (ہم نے چاہا کہ) ہم انہیں امام بنا دیں اور انہی کو ہم وارث بھی بنائیں (5) اور ہم تمکن عطا کریں ان کو زمین میں اور ہم دکھا دیں فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ کچھ جس سے وہ ڈرتے تھے (6) اور ہم نے وحی کردی موسیٰ ؑ کی والدہ کو کہ تم اسے دودھ پلاتی رہو اور جب تمہیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ خوف کھانا اور نہ رنجیدہ ہونا ہم اسے لوٹانے والے ہیں تمہاری طرف اور اسے بنانے والے ہیں رسولوں میں سے (7) تو اسے اٹھا لیا فرعون کے گھر والوں نے تاکہ وہ بن جائے ان کے لیے دشمن اور پریشانی (کا باعث) یقیناً فرعون ہامان اور ان کے سب لشکر (اپنی تدبیر میں) خطاکار تھے (8) اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا میرے لیے بھی اور تمہارے لیے بھی تم اسے قتل مت کرو کیا عجب کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں اور وہ (انجام سے) بالکل بیخبر تھے (9) اور (ادھر) موسیٰ ؑ کی ماں کا دل حوصلہ چھوڑ بیٹھا قریب تھا کہ وہ اس (راز) کو ظاہر ہی کردیتی اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط نہ کردیا ہوتا تاکہ وہ ہوجائے ایمان والوں میں سے (10)
–سورہ القصص [28:3-10]
وقالت لاخته قصيه فبصرت به عن جنب وهم لا يشعرون ١١ ۞ وحرمنا عليه المراضع من قبل فقالت هل ادلكم على اهل بيت يكفلونه لكم وهم له ناصحون ١٢ فرددناه الى امه كي تقر عينها ولا تحزن ولتعلم ان وعد الله حق ولاكن اكثرهم لا يعلمون ١٣
وَقَالَتْ لِأُخْتِهِۦ قُصِّيهِ ۖ فَبَصُرَتْ بِهِۦ عَن جُنُبٍْ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ١١ ۞ وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰٓ أَهْلِ بَيْتٍْ يَكْفُلُونَهُۥ لَكُمْ وَهُمْ لَهُۥ نَـٰصِحُونَ ١٢ فَرَدَدْنَـٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٣

وَقَالَتْ
لِاُخْتِهٖ
قُصِّیْهِ ؗ
فَبَصُرَتْ
بِهٖ
عَنْ
جُنُبٍ
وَّهُمْ
لَا
یَشْعُرُوْنَ
۟ۙ
وَحَرَّمْنَا
عَلَیْهِ
الْمَرَاضِعَ
مِنْ
قَبْلُ
فَقَالَتْ
هَلْ
اَدُلُّكُمْ
عَلٰۤی
اَهْلِ
بَیْتٍ
یَّكْفُلُوْنَهٗ
لَكُمْ
وَهُمْ
لَهٗ
نٰصِحُوْنَ
۟
فَرَدَدْنٰهُ
اِلٰۤی
اُمِّهٖ
كَیْ
تَقَرَّ
عَیْنُهَا
وَلَا
تَحْزَنَ
وَلِتَعْلَمَ
اَنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ
وَّلٰكِنَّ
اَكْثَرَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟۠

اور اس نے موسیٰ ؑ کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا تو وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور انہیں احساس بھی نہ ہوا (11) اور ہم نے اس پر پہلے ہی حرام کردی تھیں تمام دودھ پلانے والی عورتیں تو اس لڑکی نے ان سے کہا : کیا میں تمہیں ایک ایسے گھر والوں کے بارے میں بتاؤں جو تمہارے لیے اس کی پرورش کردیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں (12) تو یوں ہم نے اسے لوٹادیا اس کی والدہ کے پاس تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (13)
–سورہ القصص [28:11-13]
ولما بلغ اشده واستوى اتيناه حكما وعلما وكذالك نجزي المحسنين ١٤ ودخل المدينة على حين غفلة من اهلها فوجد فيها رجلين يقتتلان هاذا من شيعته وهاذا من عدوه فاستغاثه الذي من شيعته على الذي من عدوه فوكزه موسى فقضى عليه قال هاذا من عمل الشيطان انه عدو مضل مبين ١٥ قال رب اني ظلمت نفسي فاغفر لي فغفر له انه هو الغفور الرحيم ١٦ قال رب بما انعمت علي فلن اكون ظهيرا للمجرمين ١٧ فاصبح في المدينة خايفا يترقب فاذا الذي استنصره بالامس يستصرخه قال له موسى انك لغوي مبين ١٨ فلما ان اراد ان يبطش بالذي هو عدو لهما قال يا موسى اتريد ان تقتلني كما قتلت نفسا بالامس ان تريد الا ان تكون جبارا في الارض وما تريد ان تكون من المصلحين ١٩ وجاء رجل من اقصى المدينة يسعى قال يا موسى ان الملا ياتمرون بك ليقتلوك فاخرج اني لك من الناصحين ٢٠ فخرج منها خايفا يترقب قال رب نجني من القوم الظالمين ٢١
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ١٤ وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍْ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَـٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَـٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ ۖ فَٱسْتَغَـٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَـٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّۭ مُّضِلٌّۭ مُّبِينٌۭ ١٥ قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ١٦ قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًۭا لِّلْمُجْرِمِينَ ١٧ فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًۭا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ ۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّۭ مُّبِينٌۭ ١٨ فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّۭ لَّهُمَا قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًْا بِٱلْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًۭا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ ١٩ وَجَآءَ رَجُلٌۭ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ ٢٠ فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًۭا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٢١

وَلَمَّا
بَلَغَ
اَشُدَّهٗ
وَاسْتَوٰۤی
اٰتَیْنٰهُ
حُكْمًا
وَّعِلْمًا ؕ
وَكَذٰلِكَ
نَجْزِی
الْمُحْسِنِیْنَ
۟
وَدَخَلَ
الْمَدِیْنَةَ
عَلٰی
حِیْنِ
غَفْلَةٍ
مِّنْ
اَهْلِهَا
فَوَجَدَ
فِیْهَا
رَجُلَیْنِ
یَقْتَتِلٰنِ ؗۗ
هٰذَا
مِنْ
شِیْعَتِهٖ
وَهٰذَا
مِنْ
عَدُوِّهٖ ۚ
فَاسْتَغَاثَهُ
الَّذِیْ
مِنْ
شِیْعَتِهٖ
عَلَی
الَّذِیْ
مِنْ
عَدُوِّهٖ ۙ
فَوَكَزَهٗ
مُوْسٰی
فَقَضٰی
عَلَیْهِ ؗۗ
قَالَ
هٰذَا
مِنْ
عَمَلِ
الشَّیْطٰنِ ؕ
اِنَّهٗ
عَدُوٌّ
مُّضِلٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
قَالَ
رَبِّ
اِنِّیْ
ظَلَمْتُ
نَفْسِیْ
فَاغْفِرْ
لِیْ
فَغَفَرَ
لَهٗ ؕ
اِنَّهٗ
هُوَ
الْغَفُوْرُ
الرَّحِیْمُ
۟
قَالَ
رَبِّ
بِمَاۤ
اَنْعَمْتَ
عَلَیَّ
فَلَنْ
اَكُوْنَ
ظَهِیْرًا
لِّلْمُجْرِمِیْنَ
۟
فَاَصْبَحَ
فِی
الْمَدِیْنَةِ
خَآىِٕفًا
یَّتَرَقَّبُ
فَاِذَا
الَّذِی
اسْتَنْصَرَهٗ
بِالْاَمْسِ
یَسْتَصْرِخُهٗ ؕ
قَالَ
لَهٗ
مُوْسٰۤی
اِنَّكَ
لَغَوِیٌّ
مُّبِیْنٌ
۟
فَلَمَّاۤ
اَنْ
اَرَادَ
اَنْ
یَّبْطِشَ
بِالَّذِیْ
هُوَ
عَدُوٌّ
لَّهُمَا ۙ
قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اَتُرِیْدُ
اَنْ
تَقْتُلَنِیْ
كَمَا
قَتَلْتَ
نَفْسًا
بِالْاَمْسِ ۖۗ
اِنْ
تُرِیْدُ
اِلَّاۤ
اَنْ
تَكُوْنَ
جَبَّارًا
فِی
الْاَرْضِ
وَمَا
تُرِیْدُ
اَنْ
تَكُوْنَ
مِنَ
الْمُصْلِحِیْنَ
۟
وَجَآءَ
رَجُلٌ
مِّنْ
اَقْصَا
الْمَدِیْنَةِ
یَسْعٰی ؗ
قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اِنَّ
الْمَلَاَ
یَاْتَمِرُوْنَ
بِكَ
لِیَقْتُلُوْكَ
فَاخْرُجْ
اِنِّیْ
لَكَ
مِنَ
النّٰصِحِیْنَ
۟
فَخَرَجَ
مِنْهَا
خَآىِٕفًا
یَّتَرَقَّبُ ؗ
قَالَ
رَبِّ
نَجِّنِیْ
مِنَ
الْقَوْمِ
الظّٰلِمِیْنَ
۟۠

اور جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچ گیا اور ہر لحاظ سے تواناہو گیا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو (14) اور (ایک روز) وہ شہر میں داخل ہوا ایسے وقت جبکہ اس کے باسی غفلت میں (پڑے سو رہے) تھے تو اس نے وہاں پایا دو اشخاص کو آپس میں لڑتے ہوئے ایک اس کی اپنی قوم میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تو مدد مانگی موسیٰ ؑ سے اس نے جو اس کی قوم میں سے تھا اس کے خلاف جو اس کی دشمن قوم سے تھا تو موسیٰ ؑ نے اس کو ایک مکاّ رسید کیا اور اس کا کام تمام کردیا (یہ دیکھتے ہی) وہ پکار اٹھا کہ یہ تو شیطان کا عمل ہے۔ یقیناً وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا (15) عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میں تو اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا ہوں پسُ تو مجھے بخش دے تو اللہ نے اسے بخش دیا یقیناً وہی ہے بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا (16) اس نے کہا : پروردگار ! بسبب اس احسان کے جو تو نے مجھ پر کیا ہے (میں عہد کرتا ہوں کہ) اب میں کبھی مددگار نہیں بنوں گا مجرموں کا (17) تو اس نے صبح کی شہر میں (اس کیفیت میں) کہ وہ خوف زدہ بھی تھا اور چوکنا بھی تو اچانک (اس نے دیکھا کہ) جس شخص نے کل اس سے مدد مانگی تھی وہی آج پھر اس سے فریاد کر رہا ہے موسیٰ ؑ نے اس سے کہا کہ (معلوم ہوتا ہے) تم ہی ایک کھلے ہوئے شریر آدمی ہو (18) پھر جب اس نے پکڑنا چاہا اس کو جو ان دونوں کا دشمن تھا وہ چیخ اٹھا : اے موسیٰ ؑ ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مارڈالا تھا تم صرف یہ چاہتے ہو کہ تم اس ملک میں بڑے جابر بن جاؤ اور تم نہیں چاہتے کہ تم اصلاح کرنے والوں میں سے بنو (19) اور ایک شخص آیا شہر کے آخری کنارے سے دوڑتا ہوا اس نے کہا : اے موسیٰ ؑ ٰ ! اعیان حکومت تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تمہیں قتل کردیں تو تم یہاں سے نکل جاؤ میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں (20) تو وہ نکلا وہاں سے ڈرتے ڈرتے بڑا چوکنا ہو کر اور اس نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے ان ظالموں کی قوم سے نجات دے دے (21)
–سورہ القصص [28:14-21]
ولما توجه تلقاء مدين قال عسى ربي ان يهديني سواء السبيل ٢٢ ولما ورد ماء مدين وجد عليه امة من الناس يسقون ووجد من دونهم امراتين تذودان قال ما خطبكما قالتا لا نسقي حتى يصدر الرعاء وابونا شيخ كبير ٢٣ فسقى لهما ثم تولى الى الظل فقال رب اني لما انزلت الي من خير فقير ٢٤ فجاءته احداهما تمشي على استحياء قالت ان ابي يدعوك ليجزيك اجر ما سقيت لنا فلما جاءه وقص عليه القصص قال لا تخف نجوت من القوم الظالمين ٢٥ قالت احداهما يا ابت استاجره ان خير من استاجرت القوي الامين ٢٦ قال اني اريد ان انكحك احدى ابنتي هاتين على ان تاجرني ثماني حجج فان اتممت عشرا فمن عندك وما اريد ان اشق عليك ستجدني ان شاء الله من الصالحين ٢٧ قال ذالك بيني وبينك ايما الاجلين قضيت فلا عدوان علي والله على ما نقول وكيل ٢٨
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّىٓ أَن يَهْدِيَنِى سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ٢٢ وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌۭ كَبِيرٌۭ ٢٣ فَسَقَىٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّىٰٓ إِلَى ٱلظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْرٍْ فَقِيرٌۭ ٢٤ فَجَآءَتْهُ إِحْدَىٰهُمَا تَمْشِى عَلَى ٱسْتِحْيَآءٍْ قَالَتْ إِنَّ أَبِى يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَآءَهُۥ وَقَصَّ عَلَيْهِ ٱلْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٢٥ قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَـٰٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِينُ ٢٦ قَالَ إِنِّىٓ أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ٱبْنَتَىَّ هَـٰتَيْنِ عَلَىٰٓ أَن تَأْجُرَنِى ثَمَـٰنِىَ حِجَجٍْ ۖ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًۭا فَمِنْ عِندِكَ ۖ وَمَآ أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ٢٧ قَالَ ذَٰلِكَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ ۖ أَيَّمَا ٱلْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَٰنَ عَلَىَّ ۖ وَٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌۭ ٢٨

وَلَمَّا
تَوَجَّهَ
تِلْقَآءَ
مَدْیَنَ
قَالَ
عَسٰی
رَبِّیْۤ
اَنْ
یَّهْدِیَنِیْ
سَوَآءَ
السَّبِیْلِ
۟
وَلَمَّا
وَرَدَ
مَآءَ
مَدْیَنَ
وَجَدَ
عَلَیْهِ
اُمَّةً
مِّنَ
النَّاسِ
یَسْقُوْنَ ؗ۬
وَوَجَدَ
مِنْ
دُوْنِهِمُ
امْرَاَتَیْنِ
تَذُوْدٰنِ ۚ
قَالَ
مَا
خَطْبُكُمَا ؕ
قَالَتَا
لَا
نَسْقِیْ
حَتّٰی
یُصْدِرَ
الرِّعَآءُ ٚ
وَاَبُوْنَا
شَیْخٌ
كَبِیْرٌ
۟
فَسَقٰی
لَهُمَا
ثُمَّ
تَوَلّٰۤی
اِلَی
الظِّلِّ
فَقَالَ
رَبِّ
اِنِّیْ
لِمَاۤ
اَنْزَلْتَ
اِلَیَّ
مِنْ
خَیْرٍ
فَقِیْرٌ
۟
فَجَآءَتْهُ
اِحْدٰىهُمَا
تَمْشِیْ
عَلَی
اسْتِحْیَآءٍ ؗ
قَالَتْ
اِنَّ
اَبِیْ
یَدْعُوْكَ
لِیَجْزِیَكَ
اَجْرَ
مَا
سَقَیْتَ
لَنَا ؕ
فَلَمَّا
جَآءَهٗ
وَقَصَّ
عَلَیْهِ
الْقَصَصَ ۙ
قَالَ
لَا
تَخَفْ ۫ۥ
نَجَوْتَ
مِنَ
الْقَوْمِ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
قَالَتْ
اِحْدٰىهُمَا
یٰۤاَبَتِ
اسْتَاْجِرْهُ ؗ
اِنَّ
خَیْرَ
مَنِ
اسْتَاْجَرْتَ
الْقَوِیُّ
الْاَمِیْنُ
۟
قَالَ
اِنِّیْۤ
اُرِیْدُ
اَنْ
اُنْكِحَكَ
اِحْدَی
ابْنَتَیَّ
هٰتَیْنِ
عَلٰۤی
اَنْ
تَاْجُرَنِیْ
ثَمٰنِیَ
حِجَجٍ ۚ
فَاِنْ
اَتْمَمْتَ
عَشْرًا
فَمِنْ
عِنْدِكَ ۚ
وَمَاۤ
اُرِیْدُ
اَنْ
اَشُقَّ
عَلَیْكَ ؕ
سَتَجِدُنِیْۤ
اِنْ
شَآءَ
اللّٰهُ
مِنَ
الصّٰلِحِیْنَ
۟
قَالَ
ذٰلِكَ
بَیْنِیْ
وَبَیْنَكَ ؕ
اَیَّمَا
الْاَجَلَیْنِ
قَضَیْتُ
فَلَا
عُدْوَانَ
عَلَیَّ ؕ
وَاللّٰهُ
عَلٰی
مَا
نَقُوْلُ
وَكِیْلٌ
۟۠

اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا اس نے کہا : امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا (22) اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچا اس نے اس پر لوگوں کے ایک گروہ کو (اپنے جانوروں کو) پانی پلاتے ہوئے پایا اور اس نے ان سے الگ دو عورتوں کو دیکھا جو (اپنے جانوروں کو) روکے کھڑی تھیں اس نے کہا : آپ دونوں کا کیا معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ ہم (اپنے جانوروں کو) پانی نہیں پلا سکتے جب تک تمام چرواہے (اپنے جانور) نکال نہ لے جائیں اور ہمارے والد بہت زیادہ بوڑھے ہیں (23) تو موسیٰ ؑ نے ان دونوں کے لیے پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف پھر آیا تو اس نے دعا کی : پروردگار ! جو خیر بھی تو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا محتاج ہوں (24) اتنے میں اس کے پاس ان دو میں سے ایک لڑکی شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی آئی اس نے کہا : میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ وہ بدلہ دیں آپ کو اس کا جو آپ نے ہمارے لیے پانی پلایا ہے تو جب موسیٰ ؑ اس کے پاس آیا اور اس نے اسے اپنا سارا قصہ سنایا اس نے کہا : اب ڈرو نہیں تم نجات پاچکے ہو ظالموں کی قوم سے (25) ان دونوں میں سے ایک نے کہا : ابا جان ! آپ ان کو ملازم رکھ لیں یقیناً بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو طاقتور اور امین ہو (26) اس نے (موسیٰ ؑ سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری طرف سے ہے اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ان شاء اللہ تم مجھے نیک آدمی پاؤ گے (27) موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : (ٹھیک ہے) یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی ان دونوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو اور جو کچھ (اس وقت) ہم کہہ رہے ہیں اللہ اس پر وکیل ہے (28)
–سورہ القصص [28:22-28]
وهل اتاك حديث موسى ٩ اذ راى نارا فقال لاهله امكثوا اني انست نارا لعلي اتيكم منها بقبس او اجد على النار هدى ١٠ فلما اتاها نودي يا موسى ١١ اني انا ربك فاخلع نعليك انك بالواد المقدس طوى ١٢ وانا اخترتك فاستمع لما يوحى ١٣ انني انا الله لا الاه الا انا فاعبدني واقم الصلاة لذكري ١٤ ان الساعة اتية اكاد اخفيها لتجزى كل نفس بما تسعى ١٥ فلا يصدنك عنها من لا يومن بها واتبع هواه فتردى ١٦
وَهَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ٩ إِذْ رَءَا نَارًۭا فَقَالَ لِأَهْلِهِ ٱمْكُثُوٓاْ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًۭا لَّعَلِّىٓ ءَاتِيكُم مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى ٱلنَّارِ هُدًۭى ١٠ فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ يَـٰمُوسَىٰٓ ١١ إِنِّىٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًۭى ١٢ وَأَنَا ٱخْتَرْتُكَ فَٱسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰٓ ١٣ إِنَّنِىٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدْنِى وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكْرِىٓ ١٤ إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعَىٰ ١٥ فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَن لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرْدَىٰ ١٦

وَهَلْ
اَتٰىكَ
حَدِیْثُ
مُوْسٰی
۟ۘ
اِذْ
رَاٰ
نَارًا
فَقَالَ
لِاَهْلِهِ
امْكُثُوْۤا
اِنِّیْۤ
اٰنَسْتُ
نَارًا
لَّعَلِّیْۤ
اٰتِیْكُمْ
مِّنْهَا
بِقَبَسٍ
اَوْ
اَجِدُ
عَلَی
النَّارِ
هُدًی
۟
فَلَمَّاۤ
اَتٰىهَا
نُوْدِیَ
یٰمُوْسٰی
۟ؕ
اِنِّیْۤ
اَنَا
رَبُّكَ
فَاخْلَعْ
نَعْلَیْكَ ۚ
اِنَّكَ
بِالْوَادِ
الْمُقَدَّسِ
طُوًی
۟ؕ
وَاَنَا
اخْتَرْتُكَ
فَاسْتَمِعْ
لِمَا
یُوْحٰی
۟
اِنَّنِیْۤ
اَنَا
اللّٰهُ
لَاۤ
اِلٰهَ
اِلَّاۤ
اَنَا
فَاعْبُدْنِیْ ۙ
وَاَقِمِ
الصَّلٰوةَ
لِذِكْرِیْ
۟
اِنَّ
السَّاعَةَ
اٰتِیَةٌ
اَكَادُ
اُخْفِیْهَا
لِتُجْزٰی
كُلُّ
نَفْسٍ
بِمَا
تَسْعٰی
۟
فَلَا
یَصُدَّنَّكَ
عَنْهَا
مَنْ
لَّا
یُؤْمِنُ
بِهَا
وَاتَّبَعَ
هَوٰىهُ
فَتَرْدٰی
۟

اور کیا آپ ﷺ تک پہنچی ہے موسیٰ ؑ کی خبر (9) جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اس ؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ آپ ذرا (یہاں) ٹھہرئیے مجھے آگ نظر آئی ہے تاکہ میں لے آؤں تمہارے لیے اس میں سے کوئی انگارہ یا میں پاؤں اس آگ (کی جگہ) سے کوئی راہنمائی (10) پھر جب وہ آیا اس (آگ) کے پاس تو ندا دی گئی : اے موسیٰ (11) یہ تو میں تمہارا پروردگار ہوں چناچہ اپنی جوتیاں اتار دو کیونکہ اس وقت تم مقدس وادی طویٰ میں ہو (12) اور میں نے تم کو چن لیا ہے تو اب ذرا توجہ سے سنو جو وحی تم پر کی جا رہی ہے (13) یقیناً میں ہی اللہ ہوں ! کوئی اور معبود نہیں سوائے میرے پس تم میری ہی بندگی کرو اور نماز قائم رکھو میری یاد کے لیے (14) (اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ) بیشک قیامت آکر رہے گی میں اسے مخفی ہی رکھوں گا تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو جو اس نے کوشش کی ہو (15) تو (دیکھنا کہیں) تمہیں اس سے رو گرداں نہ کردے کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے (اگر ایسا ہوا) تو تم ہلاک ہوجاؤ گے (16)
–سورہ طه [20:9-16]
وما تلك بيمينك يا موسى ١٧ قال هي عصاي اتوكا عليها واهش بها على غنمي ولي فيها مارب اخرى ١٨ قال القها يا موسى ١٩ فالقاها فاذا هي حية تسعى ٢٠ قال خذها ولا تخف سنعيدها سيرتها الاولى ٢١ واضمم يدك الى جناحك تخرج بيضاء من غير سوء اية اخرى ٢٢ لنريك من اياتنا الكبرى ٢٣ اذهب الى فرعون انه طغى ٢٤
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَـٰمُوسَىٰ ١٧ قَالَ هِىَ عَصَاىَ أَتَوَكَّؤُاْ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِى وَلِىَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخْرَىٰ ١٨ قَالَ أَلْقِهَا يَـٰمُوسَىٰ ١٩ فَأَلْقَىٰهَا فَإِذَا هِىَ حَيَّةٌۭ تَسْعَىٰ ٢٠ قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلْأُولَىٰ ٢١ وَٱضْمُمْ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخْرَىٰ ٢٢ لِنُرِيَكَ مِنْ ءَايَـٰتِنَا ٱلْكُبْرَى ٢٣ ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ٢٤

وَمَا
تِلْكَ
بِیَمِیْنِكَ
یٰمُوْسٰی
۟
قَالَ
هِیَ
عَصَایَ ۚ
اَتَوَكَّؤُا
عَلَیْهَا
وَاَهُشُّ
بِهَا
عَلٰی
غَنَمِیْ
وَلِیَ
فِیْهَا
مَاٰرِبُ
اُخْرٰی
۟
قَالَ
اَلْقِهَا
یٰمُوْسٰی
۟
فَاَلْقٰىهَا
فَاِذَا
هِیَ
حَیَّةٌ
تَسْعٰی
۟
قَالَ
خُذْهَا
وَلَا
تَخَفْ ۥ
سَنُعِیْدُهَا
سِیْرَتَهَا
الْاُوْلٰی
۟
وَاضْمُمْ
یَدَكَ
اِلٰی
جَنَاحِكَ
تَخْرُجْ
بَیْضَآءَ
مِنْ
غَیْرِ
سُوْٓءٍ
اٰیَةً
اُخْرٰی
۟ۙ
لِنُرِیَكَ
مِنْ
اٰیٰتِنَا
الْكُبْرٰی
۟ۚ
اِذْهَبْ
اِلٰی
فِرْعَوْنَ
اِنَّهٗ
طَغٰی
۟۠

اور اے موسیٰ ؑ ٰ ! یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے (17) کہا : یہ میرا عصا ہے میں اس پر ٹیک بھی لگا لیتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے (درختوں سے) پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی کئی کام ہوتے ہیں (18) فرمایا : اے موسیٰ ؑ اس کو ذرا پھینکو تو سہی (19) تو انہوں نے اسے پھینک دیا تو وہ دفعتاً ایک سانپ بن گیا دوڑتا ہوا (20) فرمایا : اس کو پکڑ لو اور ڈرو نہیں ابھی ہم اس کو لوٹا دیں گے اس کی پہلی حالت پر (21) اور ذرا اپنا ہاتھ ملاؤ اپنی بغل کے ساتھ وہ نکلے گا چمکتا ہوا بغیر کسی بیماری کے یہ دوسری نشانی ہے (22) تا کہ ہم اپنی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں تمہیں دکھائیں (23) اب تم جاؤ فرعون کی طرف وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے (24)
–سورہ طه [20:17-24]
قال رب اشرح لي صدري ٢٥ ويسر لي امري ٢٦ واحلل عقدة من لساني ٢٧ يفقهوا قولي ٢٨
قَالَ رَبِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى ٢٥ وَيَسِّرْ لِىٓ أَمْرِى ٢٦ وَٱحْلُلْ عُقْدَةًۭ مِّن لِّسَانِى ٢٧ يَفْقَهُواْ قَوْلِى ٢٨

قَالَ
رَبِّ
اشْرَحْ
لِیْ
صَدْرِیْ
۟ۙ
وَیَسِّرْ
لِیْۤ
اَمْرِیْ
۟ۙ
وَاحْلُلْ
عُقْدَةً
مِّنْ
لِّسَانِیْ
۟ۙ
یَفْقَهُوْا
قَوْلِیْ
۪۟

موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے میرے سینے کو کھول دے (25) اور میرے اس کام کو میرے لیے آسان کر دے (26) اور میری زبان کی گرہ (لکنت) کو کھول دے (27) (تاکہ) میری بات کو وہ اچھی طرح سمجھ سکیں (28)
–سورہ طه [20:25-28]
واجعل لي وزيرا من اهلي ٢٩ هارون اخي ٣٠ اشدد به ازري ٣١ واشركه في امري ٣٢ كي نسبحك كثيرا ٣٣ ونذكرك كثيرا ٣٤ انك كنت بنا بصيرا ٣٥ قال قد اوتيت سولك يا موسى ٣٦
وَٱجْعَل لِّى وَزِيرًۭا مِّنْ أَهْلِى ٢٩ هَـٰرُونَ أَخِى ٣٠ ٱشْدُدْ بِهِۦٓ أَزْرِى ٣١ وَأَشْرِكْهُ فِىٓ أَمْرِى ٣٢ كَىْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًۭا ٣٣ وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا ٣٤ إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرًۭا ٣٥ قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَـٰمُوسَىٰ ٣٦

وَاجْعَلْ
لِّیْ
وَزِیْرًا
مِّنْ
اَهْلِیْ
۟ۙ
هٰرُوْنَ
اَخِی
۟ۙ
اشْدُدْ
بِهٖۤ
اَزْرِیْ
۟ۙ
وَاَشْرِكْهُ
فِیْۤ
اَمْرِیْ
۟ۙ
كَیْ
نُسَبِّحَكَ
كَثِیْرًا
۟ۙ
وَّنَذْكُرَكَ
كَثِیْرًا
۟ؕ
اِنَّكَ
كُنْتَ
بِنَا
بَصِیْرًا
۟
قَالَ
قَدْ
اُوْتِیْتَ
سُؤْلَكَ
یٰمُوْسٰی
۟

اور میرے لیے ایک وزیر بھی بنا دے میرے خاندان میں سے (29) میرے بھائی ہارون کو (30) اس کے ذریعے سے میری کمر کو مضبوط کر دے (31) اور اسے میرے اس کام میں شریک بنا دے (32) تا کہ ہم تیری تسبیح کریں کثرت کے ساتھ (33) اور تیرا ذکر کریں کثرت کے ساتھ (34) یقیناً تو ہمیں دیکھ رہا ہے (35) فرمایا : اے موسیٰ ؑ تمہیں عطا کردیا گیا جو تم نے طلب کیا (36)
–سورہ طه [20:29-36]
ثم بعثنا من بعدهم موسى وهارون الى فرعون ومليه باياتنا فاستكبروا وكانوا قوما مجرمين ٧٥ فلما جاءهم الحق من عندنا قالوا ان هاذا لسحر مبين ٧٦ قال موسى اتقولون للحق لما جاءكم اسحر هاذا ولا يفلح الساحرون ٧٧ قالوا اجيتنا لتلفتنا عما وجدنا عليه اباءنا وتكون لكما الكبرياء في الارض وما نحن لكما بمومنين ٧٨ وقال فرعون ايتوني بكل ساحر عليم ٧٩ فلما جاء السحرة قال لهم موسى القوا ما انتم ملقون ٨٠ فلما القوا قال موسى ما جيتم به السحر ان الله سيبطله ان الله لا يصلح عمل المفسدين ٨١ ويحق الله الحق بكلماته ولو كره المجرمون ٨٢
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَـٰرُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِيْهِۦ بِـَٔايَـٰتِنَا فَٱسْتَكْبَرُواْ وَكَانُواْ قَوْمًۭا مُّجْرِمِينَ ٧٥ فَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوٓاْ إِنَّ هَـٰذَا لَسِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ ٧٦ قَالَ مُوسَىٰٓ أَتَقُولُونَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ ۖ أَسِحْرٌ هَـٰذَا وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّـٰحِرُونَ ٧٧ قَالُوٓاْ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ ٧٨ وَقَالَ فِرْعَوْنُ ٱئْتُونِى بِكُلِّ سَـٰحِرٍ عَلِيمٍْ ٧٩ فَلَمَّا جَآءَ ٱلسَّحَرَةُ قَالَ لَهُم مُّوسَىٰٓ أَلْقُواْ مَآ أَنتُم مُّلْقُونَ ٨٠ فَلَمَّآ أَلْقَوْاْ قَالَ مُوسَىٰ مَا جِئْتُم بِهِ ٱلسِّحْرُ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ سَيُبْطِلُهُۥٓ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٨١ وَيُحِقُّ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ ٨٢

ثُمَّ
بَعَثْنَا
مِنْ
بَعْدِهِمْ
مُّوْسٰی
وَهٰرُوْنَ
اِلٰی
فِرْعَوْنَ
وَمَلَاۡىِٕهٖ
بِاٰیٰتِنَا
فَاسْتَكْبَرُوْا
وَكَانُوْا
قَوْمًا
مُّجْرِمِیْنَ
۟
فَلَمَّا
جَآءَهُمُ
الْحَقُّ
مِنْ
عِنْدِنَا
قَالُوْۤا
اِنَّ
هٰذَا
لَسِحْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟
قَالَ
مُوْسٰۤی
اَتَقُوْلُوْنَ
لِلْحَقِّ
لَمَّا
جَآءَكُمْ ؕ
اَسِحْرٌ
هٰذَا ؕ
وَلَا
یُفْلِحُ
السّٰحِرُوْنَ
۟
قَالُوْۤا
اَجِئْتَنَا
لِتَلْفِتَنَا
عَمَّا
وَجَدْنَا
عَلَیْهِ
اٰبَآءَنَا
وَتَكُوْنَ
لَكُمَا
الْكِبْرِیَآءُ
فِی
الْاَرْضِ ؕ
وَمَا
نَحْنُ
لَكُمَا
بِمُؤْمِنِیْنَ
۟
وَقَالَ
فِرْعَوْنُ
ائْتُوْنِیْ
بِكُلِّ
سٰحِرٍ
عَلِیْمٍ
۟
فَلَمَّا
جَآءَ
السَّحَرَةُ
قَالَ
لَهُمْ
مُّوْسٰۤی
اَلْقُوْا
مَاۤ
اَنْتُمْ
مُّلْقُوْنَ
۟
فَلَمَّاۤ
اَلْقَوْا
قَالَ
مُوْسٰی
مَا
جِئْتُمْ
بِهِ ۙ
السِّحْرُ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
سَیُبْطِلُهٗ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
لَا
یُصْلِحُ
عَمَلَ
الْمُفْسِدِیْنَ
۟
وَیُحِقُّ
اللّٰهُ
الْحَقَّ
بِكَلِمٰتِهٖ
وَلَوْ
كَرِهَ
الْمُجْرِمُوْنَ
۟۠

پھر بھیجا ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب اپنی نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ تھے مجرم لوگ۔ (75) تو جب ان کے پاس حق آیا ہماری طرف سے تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ (76) موسیٰ نے کہا کہ کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ کہہ رہے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آپہنچا ہے۔ کیا یہ جادو ہے ؟ اور جادو گر تو کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔ (77) انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں پھیر دو ان طریقوں سے جن پر پایا ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو اور تم دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے زمین میں ؟ اور ہم ہرگز تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔ (78) اور فرعون نے کہا کہ لے آؤ میرے پاس تمام ماہر جادو گروں کو (79) اور جب وہ جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو تم ڈالنے والے ہو (80) اور جب انہوں نے ڈال دیاتو موسیٰ نے فرمایا کہ تم لوگ جو کچھ لائے ہو یہ جادو ہے۔ یقیناً اللہ اسے ابھی باطل کر دے گا۔ بیشک اللہ مفسدوں کے عمل کو کامیاب نہیں کرتا (81) اور اللہ تو حق کو حق ثابت کرتا ہے اپنے کلمات سے خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو (82)
–سورہ يونس [10:75-82]
قالوا يا موسى اما ان تلقي واما ان نكون اول من القى ٦٥ قال بل القوا فاذا حبالهم وعصيهم يخيل اليه من سحرهم انها تسعى ٦٦ فاوجس في نفسه خيفة موسى ٦٧ قلنا لا تخف انك انت الاعلى ٦٨ والق ما في يمينك تلقف ما صنعوا انما صنعوا كيد ساحر ولا يفلح الساحر حيث اتى ٦٩ فالقي السحرة سجدا قالوا امنا برب هارون وموسى ٧٠ قال امنتم له قبل ان اذن لكم انه لكبيركم الذي علمكم السحر فلاقطعن ايديكم وارجلكم من خلاف ولاصلبنكم في جذوع النخل ولتعلمن اينا اشد عذابا وابقى ٧١ قالوا لن نوثرك على ما جاءنا من البينات والذي فطرنا فاقض ما انت قاض انما تقضي هاذه الحياة الدنيا ٧٢ انا امنا بربنا ليغفر لنا خطايانا وما اكرهتنا عليه من السحر والله خير وابقى ٧٣
قَالُواْ يَـٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَىٰ ٦٥ قَالَ بَلْ أَلْقُواْ ۖ فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ ٦٦ فَأَوْجَسَ فِى نَفْسِهِۦ خِيفَةًۭ مُّوسَىٰ ٦٧ قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْأَعْلَىٰ ٦٨ وَأَلْقِ مَا فِى يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوٓاْ ۖ إِنَّمَا صَنَعُواْ كَيْدُ سَـٰحِرٍْ ۖ وَلَا يُفْلِحُ ٱلسَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ ٦٩ فَأُلْقِىَ ٱلسَّحَرَةُ سُجَّدًۭا قَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِرَبِّ هَـٰرُونَ وَمُوسَىٰ ٧٠ قَالَ ءَامَنتُمْ لَهُۥ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِى عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحْرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَـٰفٍْ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِى جُذُوعِ ٱلنَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَآ أَشَدُّ عَذَابًۭا وَأَبْقَىٰ ٧١ قَالُواْ لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلَّذِى فَطَرَنَا ۖ فَٱقْضِ مَآ أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِى هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَآ ٧٢ إِنَّآ ءَامَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَـٰيَـٰنَا وَمَآ أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ ٱلسِّحْرِ ۗ وَٱللَّهُ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ ٧٣

قَالُوْا
یٰمُوْسٰۤی
اِمَّاۤ
اَنْ
تُلْقِیَ
وَاِمَّاۤ
اَنْ
نَّكُوْنَ
اَوَّلَ
مَنْ
اَلْقٰی
۟
قَالَ
بَلْ
اَلْقُوْا ۚ
فَاِذَا
حِبَالُهُمْ
وَعِصِیُّهُمْ
یُخَیَّلُ
اِلَیْهِ
مِنْ
سِحْرِهِمْ
اَنَّهَا
تَسْعٰی
۟
فَاَوْجَسَ
فِیْ
نَفْسِهٖ
خِیْفَةً
مُّوْسٰی
۟
قُلْنَا
لَا
تَخَفْ
اِنَّكَ
اَنْتَ
الْاَعْلٰی
۟
وَاَلْقِ
مَا
فِیْ
یَمِیْنِكَ
تَلْقَفْ
مَا
صَنَعُوْا ؕ
اِنَّمَا
صَنَعُوْا
كَیْدُ
سٰحِرٍ ؕ
وَلَا
یُفْلِحُ
السَّاحِرُ
حَیْثُ
اَتٰی
۟
فَاُلْقِیَ
السَّحَرَةُ
سُجَّدًا
قَالُوْۤا
اٰمَنَّا
بِرَبِّ
هٰرُوْنَ
وَمُوْسٰی
۟
قَالَ
اٰمَنْتُمْ
لَهٗ
قَبْلَ
اَنْ
اٰذَنَ
لَكُمْ ؕ
اِنَّهٗ
لَكَبِیْرُكُمُ
الَّذِیْ
عَلَّمَكُمُ
السِّحْرَ ۚ
فَلَاُقَطِّعَنَّ
اَیْدِیَكُمْ
وَاَرْجُلَكُمْ
مِّنْ
خِلَافٍ
وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ
فِیْ
جُذُوْعِ
النَّخْلِ ؗ
وَلَتَعْلَمُنَّ
اَیُّنَاۤ
اَشَدُّ
عَذَابًا
وَّاَبْقٰی
۟
قَالُوْا
لَنْ
نُّؤْثِرَكَ
عَلٰی
مَا
جَآءَنَا
مِنَ
الْبَیِّنٰتِ
وَالَّذِیْ
فَطَرَنَا
فَاقْضِ
مَاۤ
اَنْتَ
قَاضٍ ؕ
اِنَّمَا
تَقْضِیْ
هٰذِهِ
الْحَیٰوةَ
الدُّنْیَا
۟ؕ
اِنَّاۤ
اٰمَنَّا
بِرَبِّنَا
لِیَغْفِرَ
لَنَا
خَطٰیٰنَا
وَمَاۤ
اَكْرَهْتَنَا
عَلَیْهِ
مِنَ
السِّحْرِ ؕ
وَاللّٰهُ
خَیْرٌ
وَّاَبْقٰی
۟

جادوگروں نے کہا : اے موسیٰ ! یا تو تم پہلے ڈالو اور یا پھر ہم ہی پہلے ڈالنے والے بنتے ہیں (65) موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : بلکہ تم ہی ڈالو تو دفعتاً ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے اثر سے اس کو ایسے نظر آنے لگیں گویا وہ دوڑ رہی ہیں (66) تو موسیٰ ؑ نے اپنے جی میں کچھ ڈر محسوس کیا (67) ہم نے فرمایا کہ ڈرو نہیں یقیناً تم ہی غالب رہو گے (68) اب تم ذرا پھینکو اس (عصا) کو جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے یہ نگل جائے گا اس سب کو جو کچھ انہوں نے بنایا ہے۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو بس ایک فریب ہے جادوگر کا اور جادو گر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا چاہے کہیں سے بھی آئے (69) پس گرا دیے گئے جادو گر سجدے میں وہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے ہارون ؑ اور موسیٰ ؑ کے رب پر (70) فرعون نے کہا : (تو کیا) تم اس پر ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا یقیناً یہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی (دے کر لٹکا) دوں گا اور یقیناً تمہیں (جلد) معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت سزا دینے والا ہے اور کون زیادہ باقی رہنے والا ہے (71) انہوں نے کہا : اب ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دے سکتے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آ چکے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے چناچہ تو کرلے جو کچھ تجھے کرنا ہے توُ تو صرف فیصلہ کرسکتا ہے اسی دنیا کی زندگی کا (72) ہم اپنے رب پر ایمان لا چکے ہیں تاکہ وہ بخش دے ہماری خطاؤں کو اور اس جادو کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور اللہ ہی بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے (73)
–سورہ طه [20:65-73]
ولقد اوحينا الى موسى ان اسر بعبادي فاضرب لهم طريقا في البحر يبسا لا تخاف دركا ولا تخشى ٧٧ فاتبعهم فرعون بجنوده فغشيهم من اليم ما غشيهم ٧٨ واضل فرعون قومه وما هدى ٧٩
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَٱضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًۭا فِى ٱلْبَحْرِ يَبَسًۭا لَّا تَخَـٰفُ دَرَكًۭا وَلَا تَخْشَىٰ ٧٧ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُودِهِۦ فَغَشِيَهُم مِّنَ ٱلْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ ٧٨ وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُۥ وَمَا هَدَىٰ ٧٩

وَلَقَدْ
اَوْحَیْنَاۤ
اِلٰی
مُوْسٰۤی ۙ۬
اَنْ
اَسْرِ
بِعِبَادِیْ
فَاضْرِبْ
لَهُمْ
طَرِیْقًا
فِی
الْبَحْرِ
یَبَسًا ۙ
لَّا
تَخٰفُ
دَرَكًا
وَّلَا
تَخْشٰی
۟
فَاَتْبَعَهُمْ
فِرْعَوْنُ
بِجُنُوْدِهٖ
فَغَشِیَهُمْ
مِّنَ
الْیَمِّ
مَا
غَشِیَهُمْ
۟ؕ
وَاَضَلَّ
فِرْعَوْنُ
قَوْمَهٗ
وَمَا
هَدٰی
۟

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کردی تھی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پس ان کے لیے سمندر کے اندر ایک خشک راستہ بنالو (اس کیفیت میں کہ) نہ پکڑے جانے کا خوف ہو اور نہ (ڈوبنے کا) کوئی اندیشہ (77) تو فرعون نے ان کا تعاقب کیا اپنے لشکروں کے ساتھ تو ڈھانپ لیا انہیں سمندر میں سے جس چیزنے بھی ڈھانپ لیا (78) اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور ہدایت نہ دی (79)
–سورہ طه [20:77-79]
۞ وجاوزنا ببني اسراييل البحر فاتبعهم فرعون وجنوده بغيا وعدوا حتى اذا ادركه الغرق قال امنت انه لا الاه الا الذي امنت به بنو اسراييل وانا من المسلمين ٩٠ الان وقد عصيت قبل وكنت من المفسدين ٩١ فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك اية وان كثيرا من الناس عن اياتنا لغافلون ٩٢
۞ وَجَـٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓاْ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ٩٠ ءَآلْـَٔـٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ ٱلْمُفْسِدِينَ ٩١ فَٱلْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ ءَايَةًۭ ۚ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَايَـٰتِنَا لَغَـٰفِلُونَ ٩٢

وَجٰوَزْنَا
بِبَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
الْبَحْرَ
فَاَتْبَعَهُمْ
فِرْعَوْنُ
وَجُنُوْدُهٗ
بَغْیًا
وَّعَدْوًا ؕ
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَدْرَكَهُ
الْغَرَقُ ۙ
قَالَ
اٰمَنْتُ
اَنَّهٗ
لَاۤ
اِلٰهَ
اِلَّا
الَّذِیْۤ
اٰمَنَتْ
بِهٖ
بَنُوْۤا
اِسْرَآءِیْلَ
وَاَنَا
مِنَ
الْمُسْلِمِیْنَ
۟
آٰلْـٰٔنَ
وَقَدْ
عَصَیْتَ
قَبْلُ
وَكُنْتَ
مِنَ
الْمُفْسِدِیْنَ
۟
فَالْیَوْمَ
نُنَجِّیْكَ
بِبَدَنِكَ
لِتَكُوْنَ
لِمَنْ
خَلْفَكَ
اٰیَةً ؕ
وَاِنَّ
كَثِیْرًا
مِّنَ
النَّاسِ
عَنْ
اٰیٰتِنَا
لَغٰفِلُوْنَ
۟۠

اور ہم نے بنی اسرائیل کو پار اتار دیا سمندر (یا دریا) کے پھر ان کا پیچھا کیا فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور زیادتی کی غرض سے یہاں تک کہ جب پا لیا اسے غرق نے کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں (اس کے) فرماں برداروں میں سے ہوں (90) کیا اب (تو ایمان لا رہا ہے) ؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا (91) تو آج ہم تمہارے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک نشانی بنا رہے اور یقیناً بہت سے لوگ ہماری آیات سے غفلت ہی برتتے رہتے ہیں (92)
–سورہ يونس [10:90-92]
۞ وواعدنا موسى ثلاثين ليلة واتممناها بعشر فتم ميقات ربه اربعين ليلة وقال موسى لاخيه هارون اخلفني في قومي واصلح ولا تتبع سبيل المفسدين ١٤٢ ولما جاء موسى لميقاتنا وكلمه ربه قال رب ارني انظر اليك قال لن تراني ولاكن انظر الى الجبل فان استقر مكانه فسوف تراني فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا وخر موسى صعقا فلما افاق قال سبحانك تبت اليك وانا اول المومنين ١٤٣ قال يا موسى اني اصطفيتك على الناس برسالاتي وبكلامي فخذ ما اتيتك وكن من الشاكرين ١٤٤ وكتبنا له في الالواح من كل شيء موعظة وتفصيلا لكل شيء فخذها بقوة وامر قومك ياخذوا باحسنها ساريكم دار الفاسقين ١٤٥ ساصرف عن اياتي الذين يتكبرون في الارض بغير الحق وان يروا كل اية لا يومنوا بها وان يروا سبيل الرشد لا يتخذوه سبيلا وان يروا سبيل الغي يتخذوه سبيلا ذالك بانهم كذبوا باياتنا وكانوا عنها غافلين ١٤٦ والذين كذبوا باياتنا ولقاء الاخرة حبطت اعمالهم هل يجزون الا ما كانوا يعملون ١٤٧ واتخذ قوم موسى من بعده من حليهم عجلا جسدا له خوار الم يروا انه لا يكلمهم ولا يهديهم سبيلا اتخذوه وكانوا ظالمين ١٤٨ ولما سقط في ايديهم وراوا انهم قد ضلوا قالوا لين لم يرحمنا ربنا ويغفر لنا لنكونن من الخاسرين ١٤٩ ولما رجع موسى الى قومه غضبان اسفا قال بيسما خلفتموني من بعدي اعجلتم امر ربكم والقى الالواح واخذ براس اخيه يجره اليه قال ابن ام ان القوم استضعفوني وكادوا يقتلونني فلا تشمت بي الاعداء ولا تجعلني مع القوم الظالمين ١٥٠ قال رب اغفر لي ولاخي وادخلنا في رحمتك وانت ارحم الراحمين ١٥١
۞ وَوَٰعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَـٰثِينَ لَيْلَةًۭ وَأَتْمَمْنَـٰهَا بِعَشْرٍْ فَتَمَّ مِيقَـٰتُ رَبِّهِۦٓ أَرْبَعِينَ لَيْلَةًۭ ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَـٰرُونَ ٱخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ ٱلْمُفْسِدِينَ ١٤٢ وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَـٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَبُّهُۥ قَالَ رَبِّ أَرِنِىٓ أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَىٰنِى وَلَـٰكِنِ ٱنظُرْ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّۭا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًۭا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٤٣ قَالَ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنِّى ٱصْطَفَيْتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَـٰلَـٰتِى وَبِكَلَـٰمِى فَخُذْ مَآ ءَاتَيْتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ ١٤٤ وَكَتَبْنَا لَهُۥ فِى ٱلْأَلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍْ مَّوْعِظَةًۭ وَتَفْصِيلًۭا لِّكُلِّ شَىْءٍْ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍْ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُواْ بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُوْرِيكُمْ دَارَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ١٤٥ سَأَصْرِفُ عَنْ ءَايَـٰتِىَ ٱلَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَإِن يَرَوْاْ كُلَّ ءَايَةٍْ لَّا يُؤْمِنُواْ بِهَا وَإِن يَرَوْاْ سَبِيلَ ٱلرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا وَإِن يَرَوْاْ سَبِيلَ ٱلْغَىِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُواْ بِـَٔايَـٰتِنَا وَكَانُواْ عَنْهَا غَـٰفِلِينَ ١٤٦ وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَـٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْـَٔاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ١٤٧ وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنْ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُواْ ظَـٰلِمِينَ ١٤٨ وَلَمَّا سُقِطَ فِىٓ أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْاْ أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّواْ قَالُواْ لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ ١٤٩ وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَـٰنَ أَسِفًۭا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِى مِنْ بَعْدِىٓ ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى ٱلْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُۥٓ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ٱبْنَ أُمَّ إِنَّ ٱلْقَوْمَ ٱسْتَضْعَفُونِى وَكَادُواْ يَقْتُلُونَنِى فَلَا تُشْمِتْ بِىَ ٱلْأَعْدَآءَ وَلَا تَجْعَلْنِى مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٥٠ قَالَ رَبِّ ٱغْفِرْ لِى وَلِأَخِى وَأَدْخِلْنَا فِى رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ١٥١

وَوٰعَدْنَا
مُوْسٰی
ثَلٰثِیْنَ
لَیْلَةً
وَّاَتْمَمْنٰهَا
بِعَشْرٍ
فَتَمَّ
مِیْقَاتُ
رَبِّهٖۤ
اَرْبَعِیْنَ
لَیْلَةً ۚ
وَقَالَ
مُوْسٰی
لِاَخِیْهِ
هٰرُوْنَ
اخْلُفْنِیْ
فِیْ
قَوْمِیْ
وَاَصْلِحْ
وَلَا
تَتَّبِعْ
سَبِیْلَ
الْمُفْسِدِیْنَ
۟
وَلَمَّا
جَآءَ
مُوْسٰی
لِمِیْقَاتِنَا
وَكَلَّمَهٗ
رَبُّهٗ ۙ
قَالَ
رَبِّ
اَرِنِیْۤ
اَنْظُرْ
اِلَیْكَ ؕ
قَالَ
لَنْ
تَرٰىنِیْ
وَلٰكِنِ
انْظُرْ
اِلَی
الْجَبَلِ
فَاِنِ
اسْتَقَرَّ
مَكَانَهٗ
فَسَوْفَ
تَرٰىنِیْ ۚ
فَلَمَّا
تَجَلّٰی
رَبُّهٗ
لِلْجَبَلِ
جَعَلَهٗ
دَكًّا
وَّخَرَّ
مُوْسٰی
صَعِقًا ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَاقَ
قَالَ
سُبْحٰنَكَ
تُبْتُ
اِلَیْكَ
وَاَنَا
اَوَّلُ
الْمُؤْمِنِیْنَ
۟
قَالَ
یٰمُوْسٰۤی
اِنِّی
اصْطَفَیْتُكَ
عَلَی
النَّاسِ
بِرِسٰلٰتِیْ
وَبِكَلَامِیْ ۖؗ
فَخُذْ
مَاۤ
اٰتَیْتُكَ
وَكُنْ
مِّنَ
الشّٰكِرِیْنَ
۟
وَكَتَبْنَا
لَهٗ
فِی
الْاَلْوَاحِ
مِنْ
كُلِّ
شَیْءٍ
مَّوْعِظَةً
وَّتَفْصِیْلًا
لِّكُلِّ
شَیْءٍ ۚ
فَخُذْهَا
بِقُوَّةٍ
وَّاْمُرْ
قَوْمَكَ
یَاْخُذُوْا
بِاَحْسَنِهَا ؕ
سَاُورِیْكُمْ
دَارَ
الْفٰسِقِیْنَ
۟
سَاَصْرِفُ
عَنْ
اٰیٰتِیَ
الَّذِیْنَ
یَتَكَبَّرُوْنَ
فِی
الْاَرْضِ
بِغَیْرِ
الْحَقِّ ؕ
وَاِنْ
یَّرَوْا
كُلَّ
اٰیَةٍ
لَّا
یُؤْمِنُوْا
بِهَا ۚ
وَاِنْ
یَّرَوْا
سَبِیْلَ
الرُّشْدِ
لَا
یَتَّخِذُوْهُ
سَبِیْلًا ۚ
وَاِنْ
یَّرَوْا
سَبِیْلَ
الْغَیِّ
یَتَّخِذُوْهُ
سَبِیْلًا ؕ
ذٰلِكَ
بِاَنَّهُمْ
كَذَّبُوْا
بِاٰیٰتِنَا
وَكَانُوْا
عَنْهَا
غٰفِلِیْنَ
۟
وَالَّذِیْنَ
كَذَّبُوْا
بِاٰیٰتِنَا
وَلِقَآءِ
الْاٰخِرَةِ
حَبِطَتْ
اَعْمَالُهُمْ ؕ
هَلْ
یُجْزَوْنَ
اِلَّا
مَا
كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ
۟۠
وَاتَّخَذَ
قَوْمُ
مُوْسٰی
مِنْ
بَعْدِهٖ
مِنْ
حُلِیِّهِمْ
عِجْلًا
جَسَدًا
لَّهٗ
خُوَارٌ ؕ
اَلَمْ
یَرَوْا
اَنَّهٗ
لَا
یُكَلِّمُهُمْ
وَلَا
یَهْدِیْهِمْ
سَبِیْلًا ۘ
اِتَّخَذُوْهُ
وَكَانُوْا
ظٰلِمِیْنَ
۟
وَلَمَّا
سُقِطَ
فِیْۤ
اَیْدِیْهِمْ
وَرَاَوْا
اَنَّهُمْ
قَدْ
ضَلُّوْا ۙ
قَالُوْا
لَىِٕنْ
لَّمْ
یَرْحَمْنَا
رَبُّنَا
وَیَغْفِرْ
لَنَا
لَنَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْخٰسِرِیْنَ
۟
وَلَمَّا
رَجَعَ
مُوْسٰۤی
اِلٰی
قَوْمِهٖ
غَضْبَانَ
اَسِفًا ۙ
قَالَ
بِئْسَمَا
خَلَفْتُمُوْنِیْ
مِنْ
بَعْدِیْ ۚ
اَعَجِلْتُمْ
اَمْرَ
رَبِّكُمْ ۚ
وَاَلْقَی
الْاَلْوَاحَ
وَاَخَذَ
بِرَاْسِ
اَخِیْهِ
یَجُرُّهٗۤ
اِلَیْهِ ؕ
قَالَ
ابْنَ
اُمَّ
اِنَّ
الْقَوْمَ
اسْتَضْعَفُوْنِیْ
وَكَادُوْا
یَقْتُلُوْنَنِیْ ۖؗ
فَلَا
تُشْمِتْ
بِیَ
الْاَعْدَآءَ
وَلَا
تَجْعَلْنِیْ
مَعَ
الْقَوْمِ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
قَالَ
رَبِّ
اغْفِرْ
لِیْ
وَلِاَخِیْ
وَاَدْخِلْنَا
فِیْ
رَحْمَتِكَ ۖؗ
وَاَنْتَ
اَرْحَمُ
الرّٰحِمِیْنَ
۟۠

اور ہم نے بلایا موسیٰ ؑ ٰ کو تیس راتوں کے لیے اور مکمل کردیا ہم نے اس مدت کو دس (مزید راتوں) سے تو مدت پوری ہوگئی اس کے رب کی چالیس راتوں کی اور (جاتے ہوئے) کہا موسیٰ ؑ ٰ نے اپنے بھائی ہارون ؑ سے کہ میری قوم کے اندر میری نیابت کے فرائض ادا کرنا اصلاح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا۔ (142) اور جب موسیٰ ؑ ٰ پہنچے ہمارے وقت مقررہ پر اور ان سے کلام کیا ان کے رب نے انہوں نے درخواست کی کہ اے میرے پروردگار ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن ذرا اس پہاڑ کو دیکھو اگر وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہ جائے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے تو جب اس ؑ کے رب نے اپنی تجلی ڈالی پہاڑ پر تو کردیا اس کو ریزہ ریزہ اور موسیٰ ؑ ٰ گرپڑے بےہوش ہو کر پھر جب آپ ؑ کو افاقہ ہوا تو کہا کہ (اے اللہ !) تو پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں ہوں پہلا ایمان لانے والا ! (143) (اللہ نے) فرمایا : اے موسیٰ ؑ میں نے تمہیں منتخب کیا ہے لوگوں پر (ترجیح دے کر) اپنی پیغمبری اور اپنی ہم کلامی کے لیے تو لے لو جو میں تمہیں دے رہا ہوں اور ہوجاؤ شکر کرنے والوں میں (144) اور ہم نے لکھ دی اس ؑ کے لیے تختیوں پر ہر طرح کی نصیحت اور ہر طرح (کے احکام) کی تفصیل تو (اے موسیٰ ؑ اس کو تھام لو مضبوطی کے ساتھ اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ اس کو پکڑیں اس کی بہترین صورت پر عنقریب میں تمہیں گھر دکھاؤں گا (جس پر اس وقت قبضہ ہے) فاسقوں کا (145) ) میں پھیر دوں گا اپنی آیات سے ان لوگوں (کے رُخ) کو جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ساری نشانیاں تب بھی وہ ان پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ہدایت کا راستہ تب بھی اس راستے کو اختیار نہیں کریں گے اور اگر وہ دیکھیں برائی کا راستہ تو اسے وہ (فوراً) اختیار کرلیں گے یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تغافل برتتے رہے (146) اور جو لوگ بھی جھٹلائیں گے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور ان کو نہیں دیا جائے گا بدلے میں مگر وہی کچھ جو وہ کرتے رہے تھے (147) اور بنا لیا موسیٰ ؑ کی قوم نے آپ ؑ کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا سا ایک جسم جس سے گائے کی سی آواز آتی تھی کیا انہوں نے غور نہ کیا کہ نہ وہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے اور نہ انہیں راستہ بتاسکتا ہے ! اسی کو وہ (معبود) بنا بیٹھے اور وہ تھے بہت ظالم ! (148) اور جب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے (ان کو پچھتاوا ہوا) اور انہیں احساس ہوا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں بخش نہ دیا تو ہم ہوجائیں گے بہت خسارہ پانے والوں میں سے (149) اور جب موسیٰ ؑ لوٹے اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک ہو کر افسوس میں آپ ؑ نے فرمایا بہت بری ہے میری نیابت جو تم نے کی ہے میرے بعد کیا تم نے اپنے رب کے معاملے میں جلدی کی ؟ اور آپ ؑ نے وہ تختیاں (ایک طرف) ڈال دیں اور (غصے میں) اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے (ہارون ؑ نے) کہا کہ اے میرے ماں جائے حقیقت میں قوم نے مجھے دبا لیا تھا اور وہ میرے قتل پر آمادہ ہوگئے تھے تو (دیکھیں اب) دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں اور مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے (150) (تب حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کرتے ہوئے) کہا کہ اے میرے پروردگار ! بخش دے مجھے بھی اور میرے بھائی کو بھی اور ہمیں داخل فرما اپنی رحمت میں اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ (151)
–سورہ الأعراف [7:142-151]
۞ وما اعجلك عن قومك يا موسى ٨٣ قال هم اولاء على اثري وعجلت اليك رب لترضى ٨٤ قال فانا قد فتنا قومك من بعدك واضلهم السامري ٨٥ فرجع موسى الى قومه غضبان اسفا قال يا قوم الم يعدكم ربكم وعدا حسنا افطال عليكم العهد ام اردتم ان يحل عليكم غضب من ربكم فاخلفتم موعدي ٨٦ قالوا ما اخلفنا موعدك بملكنا ولاكنا حملنا اوزارا من زينة القوم فقذفناها فكذالك القى السامري ٨٧ فاخرج لهم عجلا جسدا له خوار فقالوا هاذا الاهكم والاه موسى فنسي ٨٨ افلا يرون الا يرجع اليهم قولا ولا يملك لهم ضرا ولا نفعا ٨٩ ولقد قال لهم هارون من قبل يا قوم انما فتنتم به وان ربكم الرحمان فاتبعوني واطيعوا امري ٩٠ قالوا لن نبرح عليه عاكفين حتى يرجع الينا موسى ٩١
۞ وَمَآ أَعْجَلَكَ عَن قَوْمِكَ يَـٰمُوسَىٰ ٨٣ قَالَ هُمْ أُوْلَآءِ عَلَىٰٓ أَثَرِى وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ ٨٤ قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِىُّ ٨٥ فَرَجَعَ مُوسَىٰٓ إِلَىٰ قَوْمِهِۦ غَضْبَـٰنَ أَسِفًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ ٱلْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِى ٨٦ قَالُواْ مَآ أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَـٰكِنَّا حُمِّلْنَآ أَوْزَارًۭا مِّن زِينَةِ ٱلْقَوْمِ فَقَذَفْنَـٰهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى ٱلسَّامِرِىُّ ٨٧ فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًۭا جَسَدًۭا لَّهُۥ خُوَارٌۭ فَقَالُواْ هَـٰذَآ إِلَـٰهُكُمْ وَإِلَـٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِىَ ٨٨ أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًۭا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ٨٩ وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَـٰرُونُ مِن قَبْلُ يَـٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَـٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓاْ أَمْرِى ٩٠ قَالُواْ لَن نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عَـٰكِفِينَ حَتَّىٰ يَرْجِعَ إِلَيْنَا مُوسَىٰ ٩١

وَمَاۤ
اَعْجَلَكَ
عَنْ
قَوْمِكَ
یٰمُوْسٰی
۟
قَالَ
هُمْ
اُولَآءِ
عَلٰۤی
اَثَرِیْ
وَعَجِلْتُ
اِلَیْكَ
رَبِّ
لِتَرْضٰی
۟
قَالَ
فَاِنَّا
قَدْ
فَتَنَّا
قَوْمَكَ
مِنْ
بَعْدِكَ
وَاَضَلَّهُمُ
السَّامِرِیُّ
۟
فَرَجَعَ
مُوْسٰۤی
اِلٰی
قَوْمِهٖ
غَضْبَانَ
اَسِفًا ۚ۬
قَالَ
یٰقَوْمِ
اَلَمْ
یَعِدْكُمْ
رَبُّكُمْ
وَعْدًا
حَسَنًا ؕ۬
اَفَطَالَ
عَلَیْكُمُ
الْعَهْدُ
اَمْ
اَرَدْتُّمْ
اَنْ
یَّحِلَّ
عَلَیْكُمْ
غَضَبٌ
مِّنْ
رَّبِّكُمْ
فَاَخْلَفْتُمْ
مَّوْعِدِیْ
۟
قَالُوْا
مَاۤ
اَخْلَفْنَا
مَوْعِدَكَ
بِمَلْكِنَا
وَلٰكِنَّا
حُمِّلْنَاۤ
اَوْزَارًا
مِّنْ
زِیْنَةِ
الْقَوْمِ
فَقَذَفْنٰهَا
فَكَذٰلِكَ
اَلْقَی
السَّامِرِیُّ
۟ۙ
فَاَخْرَجَ
لَهُمْ
عِجْلًا
جَسَدًا
لَّهٗ
خُوَارٌ
فَقَالُوْا
هٰذَاۤ
اِلٰهُكُمْ
وَاِلٰهُ
مُوْسٰی ۬
فَنَسِیَ
۟ؕ
اَفَلَا
یَرَوْنَ
اَلَّا
یَرْجِعُ
اِلَیْهِمْ
قَوْلًا ۙ۬
وَّلَا
یَمْلِكُ
لَهُمْ
ضَرًّا
وَّلَا
نَفْعًا
۟۠
وَلَقَدْ
قَالَ
لَهُمْ
هٰرُوْنُ
مِنْ
قَبْلُ
یٰقَوْمِ
اِنَّمَا
فُتِنْتُمْ
بِهٖ ۚ
وَاِنَّ
رَبَّكُمُ
الرَّحْمٰنُ
فَاتَّبِعُوْنِیْ
وَاَطِیْعُوْۤا
اَمْرِیْ
۟
قَالُوْا
لَنْ
نَّبْرَحَ
عَلَیْهِ
عٰكِفِیْنَ
حَتّٰی
یَرْجِعَ
اِلَیْنَا
مُوْسٰی
۟

اور اے موسیٰ ؑ ٰ ! یہ تمہیں کس چیز نے جلدی پر آمادہ کیا اپنی قوم کو چھوڑ کر (83) موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا کہ بس وہ میرے پیچھے پیچھے ہی (آرہے) ہیں اور اے میرے پروردگار ! میں نے تو تیری طرف (آنے میں اس لیے) جلدی کی تاکہ تو راضی ہوجائے (84) اللہ نے فرمایا : تو ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور انہیں گمراہ کردیا ہے سامری نے (85) تو لوٹے موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرف بہت غضبناک اور سخت رنجیدہ حالت میں انہوں نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا تو کیا یہ مدت تم پر بہت طویل ہوگئی تھی یا تم لوگوں نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کر ڈالی (86) انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی اپنے اختیار سے نہیں کی بلکہ ہم پر بوجھ تھا اس قوم کے زیورات کا تو ہم نے وہ پھینک دیے اور اسی طرح سامری نے بھی کچھ پھینکا (87) پھر اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا برآمد کردیا ایک دھڑ جس سے ڈکرانے کی آواز آتی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہے تمہارا معبود اور موسیٰ ؑ کا معبود مگر وہ (موسیٰ ؑ ٰ) بھول گیا ہے (88) تو کیا وہ دیکھتے نہیں تھے کہ وہ (بچھڑا) ان کی طرف کوئی بات لوٹاتا نہیں تھا اور نہ ہی اسے ان کے لیے کسی نقصان کا اختیار تھا اور نہ نفع کا (89) اور ہارون ؑ انہیں پہلے ہی کہہ چکا تھا اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں تو اس (بچھڑے) کے ذریعے سے فتنے میں ڈالا گیا ہے اور یقیناً تمہارا رب (یہ بچھڑا نہیں بلکہ) رحمن ہے چناچہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری بات مانو (90) انہوں نے کہا : ہم تو اسی پر اعتکاف کرتے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ؑ خود ہمارے پاس واپس آجائیں (91)
–سورہ طه [20:83-91]
قال يا هارون ما منعك اذ رايتهم ضلوا ٩٢ الا تتبعن افعصيت امري ٩٣ قال يا ابن ام لا تاخذ بلحيتي ولا براسي اني خشيت ان تقول فرقت بين بني اسراييل ولم ترقب قولي ٩٤ قال فما خطبك يا سامري ٩٥ قال بصرت بما لم يبصروا به فقبضت قبضة من اثر الرسول فنبذتها وكذالك سولت لي نفسي ٩٦ قال فاذهب فان لك في الحياة ان تقول لا مساس وان لك موعدا لن تخلفه وانظر الى الاهك الذي ظلت عليه عاكفا لنحرقنه ثم لننسفنه في اليم نسفا ٩٧ انما الاهكم الله الذي لا الاه الا هو وسع كل شيء علما ٩٨
قَالَ يَـٰهَـٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوٓاْ ٩٢ أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِى ٩٣ قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ ۖ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى ٩٤ قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَـٰسَـٰمِرِىُّ ٩٥ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُواْ بِهِۦ فَقَبَضْتُ قَبْضَةًۭ مِّنْ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِى نَفْسِى ٩٦ قَالَ فَٱذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِى ٱلْحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًۭا لَّن تُخْلَفَهُۥ ۖ وَٱنظُرْ إِلَىٰٓ إِلَـٰهِكَ ٱلَّذِى ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًۭا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِى ٱلْيَمِّ نَسْفًا ٩٧ إِنَّمَآ إِلَـٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًۭا ٩٨

قَالَ
یٰهٰرُوْنُ
مَا
مَنَعَكَ
اِذْ
رَاَیْتَهُمْ
ضَلُّوْۤا
۟ۙ
اَلَّا
تَتَّبِعَنِ ؕ
اَفَعَصَیْتَ
اَمْرِیْ
۟
قَالَ
یَبْنَؤُمَّ
لَا
تَاْخُذْ
بِلِحْیَتِیْ
وَلَا
بِرَاْسِیْ ۚ
اِنِّیْ
خَشِیْتُ
اَنْ
تَقُوْلَ
فَرَّقْتَ
بَیْنَ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
وَلَمْ
تَرْقُبْ
قَوْلِیْ
۟
قَالَ
فَمَا
خَطْبُكَ
یٰسَامِرِیُّ
۟
قَالَ
بَصُرْتُ
بِمَا
لَمْ
یَبْصُرُوْا
بِهٖ
فَقَبَضْتُ
قَبْضَةً
مِّنْ
اَثَرِ
الرَّسُوْلِ
فَنَبَذْتُهَا
وَكَذٰلِكَ
سَوَّلَتْ
لِیْ
نَفْسِیْ
۟
قَالَ
فَاذْهَبْ
فَاِنَّ
لَكَ
فِی
الْحَیٰوةِ
اَنْ
تَقُوْلَ
لَا
مِسَاسَ ۪
وَاِنَّ
لَكَ
مَوْعِدًا
لَّنْ
تُخْلَفَهٗ ۚ
وَانْظُرْ
اِلٰۤی
اِلٰهِكَ
الَّذِیْ
ظَلْتَ
عَلَیْهِ
عَاكِفًا ؕ
لَنُحَرِّقَنَّهٗ
ثُمَّ
لَنَنْسِفَنَّهٗ
فِی
الْیَمِّ
نَسْفًا
۟
اِنَّمَاۤ
اِلٰهُكُمُ
اللّٰهُ
الَّذِیْ
لَاۤ
اِلٰهَ
اِلَّا
هُوَ ؕ
وَسِعَ
كُلَّ
شَیْءٍ
عِلْمًا
۟

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے ہارون ! آپ ؑ کو کس چیز نے روکا تھا جب آپ ؑ نے انہیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں (92) کہ آپ ؑ نے میری پیروی نہ کی یا پھر آپ ؑ نے نافرمانی کی میرے حکم کی (93) ہارون ؑ نے کہا : اے میری ماں کے بیٹے ! آپ ؑ (اس طرح) میری ڈاڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو مت کھینچیں مجھے تو یہ اندیشہ تھا کہ آپ ؑ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفریق پیدا کردی اور میری بات یاد نہ رکھی (94) موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : اے سامری ! تمہارا کیا معاملہ ہے (95) اس نے کہا کہ میں نے (ایک ایسی چیز) دیکھی تھی جو انہوں نے نہیں دیکھی تو میں نے لے لی ایک مٹھیّ (مٹی کی) رسول کے نقش پا سے تو وہ میں نے (اس میں) پھینک دی اور اسی طرح میرے نفس نے یہ راستہ مجھے بتایا (96) موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : دفع ہوجاؤ ! اب تمہارے لیے زندگی میں یہی (سزا) ہے کہ تم کہتے رہوگے کہ مجھے کوئی نہ چھوئے اور تمہارے لیے ایک وعدہ ہے جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کی جائے گی اور دیکھو اپنے اس معبود کو جس کا تم اعتکاف کرتے رہے ہو (ہم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں) ہم اسے جلا (کر راکھ کر) دیں گے پھر اس (کی راکھ) کو سمندر میں بکھیر دیں گے (97) حقیقت میں تمہارا معبود تو صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور معبود ہے ہی نہیں اسے ہرچیز کا علم حاصل ہے (98)
–سورہ طه [20:92-98]
واذ قال موسى لقومه يا قوم اذكروا نعمة الله عليكم اذ جعل فيكم انبياء وجعلكم ملوكا واتاكم ما لم يوت احدا من العالمين ٢٠ يا قوم ادخلوا الارض المقدسة التي كتب الله لكم ولا ترتدوا على ادباركم فتنقلبوا خاسرين ٢١ قالوا يا موسى ان فيها قوما جبارين وانا لن ندخلها حتى يخرجوا منها فان يخرجوا منها فانا داخلون ٢٢ قال رجلان من الذين يخافون انعم الله عليهما ادخلوا عليهم الباب فاذا دخلتموه فانكم غالبون وعلى الله فتوكلوا ان كنتم مومنين ٢٣ قالوا يا موسى انا لن ندخلها ابدا ما داموا فيها فاذهب انت وربك فقاتلا انا هاهنا قاعدون ٢٤ قال رب اني لا املك الا نفسي واخي فافرق بيننا وبين القوم الفاسقين ٢٥ قال فانها محرمة عليهم اربعين سنة يتيهون في الارض فلا تاس على القوم الفاسقين ٢٦
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ ٱذْكُرُواْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًۭا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٢٠ يَـٰقَوْمِ ٱدْخُلُواْ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّواْ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَـٰسِرِينَ ٢١ قَالُواْ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوْمًۭا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُواْ مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُواْ مِنْهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ ٢٢ قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمَا ٱدْخُلُواْ عَلَيْهِمُ ٱلْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَـٰلِبُونَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓاْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ٢٣ قَالُواْ يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًۭا مَّا دَامُواْ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَـٰتِلَآ إِنَّا هَـٰهُنَا قَـٰعِدُونَ ٢٤ قَالَ رَبِّ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِى وَأَخِى ۖ فَٱفْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٢٥ قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٢٦

وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِقَوْمِهٖ
یٰقَوْمِ
اذْكُرُوْا
نِعْمَةَ
اللّٰهِ
عَلَیْكُمْ
اِذْ
جَعَلَ
فِیْكُمْ
اَنْۢبِیَآءَ
وَجَعَلَكُمْ
مُّلُوْكًا ۖۗ
وَّاٰتٰىكُمْ
مَّا
لَمْ
یُؤْتِ
اَحَدًا
مِّنَ
الْعٰلَمِیْنَ
۟
یٰقَوْمِ
ادْخُلُوا
الْاَرْضَ
الْمُقَدَّسَةَ
الَّتِیْ
كَتَبَ
اللّٰهُ
لَكُمْ
وَلَا
تَرْتَدُّوْا
عَلٰۤی
اَدْبَارِكُمْ
فَتَنْقَلِبُوْا
خٰسِرِیْنَ
۟
قَالُوْا
یٰمُوْسٰۤی
اِنَّ
فِیْهَا
قَوْمًا
جَبَّارِیْنَ ۖۗ
وَاِنَّا
لَنْ
نَّدْخُلَهَا
حَتّٰی
یَخْرُجُوْا
مِنْهَا ۚ
فَاِنْ
یَّخْرُجُوْا
مِنْهَا
فَاِنَّا
دٰخِلُوْنَ
۟
قَالَ
رَجُلٰنِ
مِنَ
الَّذِیْنَ
یَخَافُوْنَ
اَنْعَمَ
اللّٰهُ
عَلَیْهِمَا
ادْخُلُوْا
عَلَیْهِمُ
الْبَابَ ۚ
فَاِذَا
دَخَلْتُمُوْهُ
فَاِنَّكُمْ
غٰلِبُوْنَ ۚ۬
وَعَلَی
اللّٰهِ
فَتَوَكَّلُوْۤا
اِنْ
كُنْتُمْ
مُّؤْمِنِیْنَ
۟
قَالُوْا
یٰمُوْسٰۤی
اِنَّا
لَنْ
نَّدْخُلَهَاۤ
اَبَدًا
مَّا
دَامُوْا
فِیْهَا
فَاذْهَبْ
اَنْتَ
وَرَبُّكَ
فَقَاتِلَاۤ
اِنَّا
هٰهُنَا
قٰعِدُوْنَ
۟
قَالَ
رَبِّ
اِنِّیْ
لَاۤ
اَمْلِكُ
اِلَّا
نَفْسِیْ
وَاَخِیْ
فَافْرُقْ
بَیْنَنَا
وَبَیْنَ
الْقَوْمِ
الْفٰسِقِیْنَ
۟
قَالَ
فَاِنَّهَا
مُحَرَّمَةٌ
عَلَیْهِمْ
اَرْبَعِیْنَ
سَنَةً ۚ
یَتِیْهُوْنَ
فِی
الْاَرْضِ ؕ
فَلَا
تَاْسَ
عَلَی
الْقَوْمِ
الْفٰسِقِیْنَ
۟۠

اور یاد کرو جب کہا موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کے اس انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے جب اس نے تمہارے اندر نبی اٹھائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو تمام جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا (20) (تو) اے میری قوم کے لوگو ! اب داخل ہوجاؤ اس ارض مقدس (فلسطین) میں جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں کے َ بل واپس نہ پھرنا (اگر ایسا کروگے) تو ناکام و نامراد پلٹو گے (21) انہوں نے کہا اے موسیٰ ! اس میں تو بڑے زور آور لوگ ہیں اور ہم اس (سرزمین) میں داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو پھر ہم داخل ہوجائیں گے۔ (22) کہا دو اشخاص نے جو (اللہ کا) خوف رکھنے والوں میں سے تھے اور اللہ نے بھی ان دونوں پر انعام کیا تھا تم ان کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ اور جب تم اس میں داخل ہو گے تو لازماً تم غالب ہوجاؤ گے اور اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (23) انہوں نے کہا اے موسیٰ ہم تو ہرگز اس شہر میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس میں موجود ہیں بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور جا کر قتال کرو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں (24) موسٰی ؑ نے عرض کیا پروردگار مجھے تو اختیار نہیں ہے سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی (ہارون ؑ کی جان) کے تو اب تفریق کردے ہمارے اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان (25) فرمایا اب یہ (ارض مقدس) حرام رہے گی ان پر چالیس سال تک یہ بھٹکتے پھریں گے زمین میں تو (اے موسیٰ (ؑ) آپ افسوس نہ کریں اس فاسق قوم پر (26)
–سورہ المائدة [5:20-26]
واذ قال موسى لفتاه لا ابرح حتى ابلغ مجمع البحرين او امضي حقبا ٦٠ فلما بلغا مجمع بينهما نسيا حوتهما فاتخذ سبيله في البحر سربا ٦١ فلما جاوزا قال لفتاه اتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هاذا نصبا ٦٢ قال ارايت اذ اوينا الى الصخرة فاني نسيت الحوت وما انسانيه الا الشيطان ان اذكره واتخذ سبيله في البحر عجبا ٦٣ قال ذالك ما كنا نبغ فارتدا على اثارهما قصصا ٦٤ فوجدا عبدا من عبادنا اتيناه رحمة من عندنا وعلمناه من لدنا علما ٦٥ قال له موسى هل اتبعك على ان تعلمن مما علمت رشدا ٦٦ قال انك لن تستطيع معي صبرا ٦٧ وكيف تصبر على ما لم تحط به خبرا ٦٨ قال ستجدني ان شاء الله صابرا ولا اعصي لك امرا ٦٩
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبْرَحُ حَتَّىٰٓ أَبْلُغَ مَجْمَعَ ٱلْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِىَ حُقُبًۭا ٦٠ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ سَرَبًۭا ٦١ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَـٰذَا نَصَبًۭا ٦٢ قَالَ أَرَءَيْتَ إِذْ أَوَيْنَآ إِلَى ٱلصَّخْرَةِ فَإِنِّى نَسِيتُ ٱلْحُوتَ وَمَآ أَنسَىٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيْطَـٰنُ أَنْ أَذْكُرَهُۥ ۚ وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ عَجَبًۭا ٦٣ قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَٱرْتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصًۭا ٦٤ فَوَجَدَا عَبْدًۭا مِّنْ عِبَادِنَآ ءَاتَيْنَـٰهُ رَحْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَـٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًۭا ٦٥ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًۭا ٦٦ قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًۭا ٦٧ وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ خُبْرًۭا ٦٨ قَالَ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرًۭا وَلَآ أَعْصِى لَكَ أَمْرًۭا ٦٩

وَاِذْ
قَالَ
مُوْسٰی
لِفَتٰىهُ
لَاۤ
اَبْرَحُ
حَتّٰۤی
اَبْلُغَ
مَجْمَعَ
الْبَحْرَیْنِ
اَوْ
اَمْضِیَ
حُقُبًا
۟
فَلَمَّا
بَلَغَا
مَجْمَعَ
بَیْنِهِمَا
نَسِیَا
حُوْتَهُمَا
فَاتَّخَذَ
سَبِیْلَهٗ
فِی
الْبَحْرِ
سَرَبًا
۟
فَلَمَّا
جَاوَزَا
قَالَ
لِفَتٰىهُ
اٰتِنَا
غَدَآءَنَا ؗ
لَقَدْ
لَقِیْنَا
مِنْ
سَفَرِنَا
هٰذَا
نَصَبًا
۟
قَالَ
اَرَءَیْتَ
اِذْ
اَوَیْنَاۤ
اِلَی
الصَّخْرَةِ
فَاِنِّیْ
نَسِیْتُ
الْحُوْتَ ؗ
وَمَاۤ
اَنْسٰىنِیْهُ
اِلَّا
الشَّیْطٰنُ
اَنْ
اَذْكُرَهٗ ۚ
وَاتَّخَذَ
سَبِیْلَهٗ
فِی
الْبَحْرِ ۖۗ
عَجَبًا
۟
قَالَ
ذٰلِكَ
مَا
كُنَّا
نَبْغِ ۖۗ
فَارْتَدَّا
عَلٰۤی
اٰثَارِهِمَا
قَصَصًا
۟ۙ
فَوَجَدَا
عَبْدًا
مِّنْ
عِبَادِنَاۤ
اٰتَیْنٰهُ
رَحْمَةً
مِّنْ
عِنْدِنَا
وَعَلَّمْنٰهُ
مِنْ
لَّدُنَّا
عِلْمًا
۟
قَالَ
لَهٗ
مُوْسٰی
هَلْ
اَتَّبِعُكَ
عَلٰۤی
اَنْ
تُعَلِّمَنِ
مِمَّا
عُلِّمْتَ
رُشْدًا
۟
قَالَ
اِنَّكَ
لَنْ
تَسْتَطِیْعَ
مَعِیَ
صَبْرًا
۟
وَكَیْفَ
تَصْبِرُ
عَلٰی
مَا
لَمْ
تُحِطْ
بِهٖ
خُبْرًا
۟
قَالَ
سَتَجِدُنِیْۤ
اِنْ
شَآءَ
اللّٰهُ
صَابِرًا
وَّلَاۤ
اَعْصِیْ
لَكَ
اَمْرًا
۟

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے نوجوان (ساتھی) سے کہا کہ میں (چلنا) نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں یا میں برسوں چلتا ہی رہوں گا (60) پھر جب وہ دونوں پہنچ گئے دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر تو وہ اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس (مچھلی) نے اپنا راستہ بنا لیا تھا دریا میں سرنگ کی طرح (61) پھر جب وہ دونوں (وہاں سے) آگے نکل گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب ہمارا ناشتہ لے آؤ اپنے اس سفر سے تو ہمیں بہت تکان ہوگئی ہے (62) اس (نوجوان) نے کہا : دیکھئے جب ہم ٹھہرے تھے چٹان کے پاس تو میں بھول گیا مچھلی کو (نگاہ میں رکھنا) اور نہیں مجھے بھلائے رکھا مگر شیطان نے کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کروں اور اس نے تو بنا لیا تھا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے (63) موسیٰ نے کہا : یہی تو تھا جس کی ہمیں تلاش تھی پس وہ دونوں واپس لوٹے اپنے نقوش پا کو دیکھتے ہوئے (64) تو پایا انہوں نے (وہاں) ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو جسے ہم نے رحمت عطا کی تھی اپنی طرف سے اور اسے سکھایا تھا ایک علم خاص اپنے پاس سے (65) موسیٰ نے اس سے کہا : کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ آپ مجھے سکھائیں اس میں سے جو بھلائی آپ کو سکھائی گئی ہے (66) اس نے کہا : میرے ساتھ (رہ کر) آپ ہرگز صبر نہیں کرسکیں گے (67) اور آپ کیسے صبر کریں گے اس چیز پر جس کی آپ کو پوری پوری خبر نہیں (68) موسیٰ نے کہا : آپ مجھے ان شاء اللہ صابر پائیں گے اور میں خلاف ورزی نہیں کروں گا آپ کے کسی حکم کی (69)
–سورہ الكهف [18:60-69]
قال فان اتبعتني فلا تسالني عن شيء حتى احدث لك منه ذكرا ٧٠ فانطلقا حتى اذا ركبا في السفينة خرقها قال اخرقتها لتغرق اهلها لقد جيت شييا امرا ٧١ قال الم اقل انك لن تستطيع معي صبرا ٧٢ قال لا تواخذني بما نسيت ولا ترهقني من امري عسرا ٧٣ فانطلقا حتى اذا لقيا غلاما فقتله قال اقتلت نفسا زكية بغير نفس لقد جيت شييا نكرا ٧٤ ۞ قال الم اقل لك انك لن تستطيع معي صبرا ٧٥ قال ان سالتك عن شيء بعدها فلا تصاحبني قد بلغت من لدني عذرا ٧٦ فانطلقا حتى اذا اتيا اهل قرية استطعما اهلها فابوا ان يضيفوهما فوجدا فيها جدارا يريد ان ينقض فاقامه قال لو شيت لاتخذت عليه اجرا ٧٧ قال هاذا فراق بيني وبينك سانبيك بتاويل ما لم تستطع عليه صبرا ٧٨
قَالَ فَإِنِ ٱتَّبَعْتَنِى فَلَا تَسْـَٔلْنِى عَن شَىْءٍ حَتَّىٰٓ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًۭا ٧٠ فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِى ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَا ۖ قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا إِمْرًۭا ٧١ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًۭا ٧٢ قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِى بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِى مِنْ أَمْرِى عُسْرًۭا ٧٣ فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَـٰمًۭا فَقَتَلَهُۥ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًۭا زَكِيَّةًْ بِغَيْرِ نَفْسٍْ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْـًۭٔا نُّكْرًۭا ٧٤ ۞ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِىَ صَبْرًۭا ٧٥ قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَىْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصَـٰحِبْنِى ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّى عُذْرًۭا ٧٦ فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهْلَ قَرْيَةٍ ٱسْتَطْعَمَآ أَهْلَهَا فَأَبَوْاْ أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًۭا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُۥ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًۭا ٧٧ قَالَ هَـٰذَا فِرَاقُ بَيْنِى وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ٧٨

قَالَ
فَاِنِ
اتَّبَعْتَنِیْ
فَلَا
تَسْـَٔلْنِیْ
عَنْ
شَیْءٍ
حَتّٰۤی
اُحْدِثَ
لَكَ
مِنْهُ
ذِكْرًا
۟۠
فَانْطَلَقَا ۥ
حَتّٰۤی
اِذَا
رَكِبَا
فِی
السَّفِیْنَةِ
خَرَقَهَا ؕ
قَالَ
اَخَرَقْتَهَا
لِتُغْرِقَ
اَهْلَهَا ۚ
لَقَدْ
جِئْتَ
شَیْـًٔا
اِمْرًا
۟
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
اِنَّكَ
لَنْ
تَسْتَطِیْعَ
مَعِیَ
صَبْرًا
۟
قَالَ
لَا
تُؤَاخِذْنِیْ
بِمَا
نَسِیْتُ
وَلَا
تُرْهِقْنِیْ
مِنْ
اَمْرِیْ
عُسْرًا
۟
فَانْطَلَقَا ۥ
حَتّٰۤی
اِذَا
لَقِیَا
غُلٰمًا
فَقَتَلَهٗ ۙ
قَالَ
اَقَتَلْتَ
نَفْسًا
زَكِیَّةً
بِغَیْرِ
نَفْسٍ ؕ
لَقَدْ
جِئْتَ
شَیْـًٔا
نُّكْرًا
۟
قَالَ
اَلَمْ
اَقُلْ
لَّكَ
اِنَّكَ
لَنْ
تَسْتَطِیْعَ
مَعِیَ
صَبْرًا
۟
قَالَ
اِنْ
سَاَلْتُكَ
عَنْ
شَیْءٍ
بَعْدَهَا
فَلَا
تُصٰحِبْنِیْ ۚ
قَدْ
بَلَغْتَ
مِنْ
لَّدُنِّیْ
عُذْرًا
۟
فَانْطَلَقَا ۥ
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَتَیَاۤ
اَهْلَ
قَرْیَةِ
سْتَطْعَمَاۤ
اَهْلَهَا
فَاَبَوْا
اَنْ
یُّضَیِّفُوْهُمَا
فَوَجَدَا
فِیْهَا
جِدَارًا
یُّرِیْدُ
اَنْ
یَّنْقَضَّ
فَاَقَامَهٗ ؕ
قَالَ
لَوْ
شِئْتَ
لَتَّخَذْتَ
عَلَیْهِ
اَجْرًا
۟
قَالَ
هٰذَا
فِرَاقُ
بَیْنِیْ
وَبَیْنِكَ ۚ
سَاُنَبِّئُكَ
بِتَاْوِیْلِ
مَا
لَمْ
تَسْتَطِعْ
عَّلَیْهِ
صَبْرًا
۟

اس نے کہا : اگر آپ میرے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے خود نہ پوچھنا یہاں تک کہ میں خود ہی آپ کو اس کے بارے میں بتادوں (70) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ دونوں سوار ہوئے ایک کشتی میں تو اس نے اس (کشتی) میں شگاف ڈال دیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ہے تاکہ غرق کردیں اس کے تمام سواروں کو ؟ یہ تو آپ نے بہت ہی غلط کام کیا ہے (71) اس نے کہا : میں نے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے (72) موسیٰ نے کہا : آپ میرا مؤاخذہ نہ کیجیے میرے بھول جانے پر اور نہ ہی میرے معاملے میں زیادہ سختی کیجیے (73) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ان کی ملاقات ہوئی ایک لڑکے سے تو اس (خضر) نے اس کو قتل کردیا موسیٰ نے کہا کیا آپ نے قتل کردیا ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے (بدلے کے) یہ تو آپ نے بہت ہی نامعقول حرکت کی ہے (74) اس (خضر) نے کہا : کیا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے (75) موسیٰ نے کہا : اگر میں آپ سے سوال کروں کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا آپ پہنچ چکے ہیں میری طرف سے حد عذر کو (76) پھر وہ دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک بستی کے لوگوں کے پاس تو انہوں نے کھانا مانگا بستی والوں سے تو انہوں نے انکار کردیا ان دونوں کی مہمان نوازی سے تو ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی تو اس (خضر) نے اسے سیدھا کردیا موسیٰ نے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے (77) اس (خضر) نے کہا بس اب یہ جدائی (کا وقت) ہے میرے اور آپ کے درمیان اب میں آپ کو بتائے دیتا ہوں اصل حقیقت ان چیزوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے (78)
–سورہ الكهف [18:70-78]
اما السفينة فكانت لمساكين يعملون في البحر فاردت ان اعيبها وكان وراءهم ملك ياخذ كل سفينة غصبا ٧٩ واما الغلام فكان ابواه مومنين فخشينا ان يرهقهما طغيانا وكفرا ٨٠ فاردنا ان يبدلهما ربهما خيرا منه زكاة واقرب رحما ٨١ واما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة وكان تحته كنز لهما وكان ابوهما صالحا فاراد ربك ان يبلغا اشدهما ويستخرجا كنزهما رحمة من ربك وما فعلته عن امري ذالك تاويل ما لم تسطع عليه صبرا ٨٢
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَـٰكِينَ يَعْمَلُونَ فِى ٱلْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌۭ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًۭا ٧٩ وَأَمَّا ٱلْغُلَـٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَآ أَن يُرْهِقَهُمَا طُغْيَـٰنًۭا وَكُفْرًۭا ٨٠ فَأَرَدْنَآ أَن يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًۭا مِّنْهُ زَكَوٰةًۭ وَأَقْرَبَ رُحْمًۭا ٨١ وَأَمَّا ٱلْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَـٰمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِى ٱلْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُۥ كَنزٌۭ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَـٰلِحًۭا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُۥ عَنْ أَمْرِى ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًۭا ٨٢

اَمَّا
السَّفِیْنَةُ
فَكَانَتْ
لِمَسٰكِیْنَ
یَعْمَلُوْنَ
فِی
الْبَحْرِ
فَاَرَدْتُّ
اَنْ
اَعِیْبَهَا
وَكَانَ
وَرَآءَهُمْ
مَّلِكٌ
یَّاْخُذُ
كُلَّ
سَفِیْنَةٍ
غَصْبًا
۟
وَاَمَّا
الْغُلٰمُ
فَكَانَ
اَبَوٰهُ
مُؤْمِنَیْنِ
فَخَشِیْنَاۤ
اَنْ
یُّرْهِقَهُمَا
طُغْیَانًا
وَّكُفْرًا
۟ۚ
فَاَرَدْنَاۤ
اَنْ
یُّبْدِلَهُمَا
رَبُّهُمَا
خَیْرًا
مِّنْهُ
زَكٰوةً
وَّاَقْرَبَ
رُحْمًا
۟
وَاَمَّا
الْجِدَارُ
فَكَانَ
لِغُلٰمَیْنِ
یَتِیْمَیْنِ
فِی
الْمَدِیْنَةِ
وَكَانَ
تَحْتَهٗ
كَنْزٌ
لَّهُمَا
وَكَانَ
اَبُوْهُمَا
صَالِحًا ۚ
فَاَرَادَ
رَبُّكَ
اَنْ
یَّبْلُغَاۤ
اَشُدَّهُمَا
وَیَسْتَخْرِجَا
كَنْزَهُمَا ۖۗ
رَحْمَةً
مِّنْ
رَّبِّكَ ۚ
وَمَا
فَعَلْتُهٗ
عَنْ
اَمْرِیْ ؕ
ذٰلِكَ
تَاْوِیْلُ
مَا
لَمْ
تَسْطِعْ
عَّلَیْهِ
صَبْرًا
۟ؕ۠

جہاں تک اس کشتی کا معاملہ ہے تو وہ غریب لوگوں کی (ملکیت) تھی جو محنت کرتے تھے دریا میں تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو پکڑ رہا تھا ہر کشتی کو زبردستی (79) رہا وہ لڑکا تو اس کے والدین دونوں مؤمن تھے تو ہمیں خدشہ ہوا کہ وہ سرکشی اور ناشکری سے ان پر تعدی کرے گا (80) پس ہم نے چاہا کہ ان دونوں کو بدلے میں دے ان کا رب اس سے بہتر (اولاد) پاکیزگی میں اور قریب تر شفقت میں (81) اور رہی وہ دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے خزانہ تھا ان دونوں کے لیے اور ان کا باپ نیک آدمی تھا لہٰذا آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور نکال لیں اپنا خزانہ (یہ سب امور) آپ کے رب کی رحمت سے (طے ہوئے) تھے اور میں نے اپنی رائے سے انہیں سر انجام نہیں دیا یہ ہے اصل حقیقت ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہ کرسکے (82)
–سورہ الكهف [18:79-82]

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔